ریشے دار غذائیں اور اناج مہلک بیماریوں سے بچاتا ہے

0
2229
All kind of website designing

حکیم نازش احتشام اعظمی
E-mail : [email protected]

چند روز قبل امریکی سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے اپنی ایک تحقیقی رپورٹ میں بتایا تھاکہ ریشے دار غذا کا استعمال انسانی زندگی کی طوالت کا باعث بنتا ہے۔ اے اے آر پی ڈائٹ اینڈ ہیلتھ اسٹڈی ڈیٹا پر مبنی یہ تحقیقی رپورٹ امریکہ کے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ کی طرف سے مرتب کی گئی۔ اس حوالے سے محققین نے عوام کی غذائی عادات سے متعلق

حکیم نازش احتشام اعظمی

معلومات پر مبنی ڈائٹ اینڈ ہیلتھ سٹڈی کے پچاس سے اکہتر برس کے ڈیٹا کے ذریعے تین لاکھ اٹھاسی ہزار افراد کی غذائی عادات کا مطالعہ کیا۔
اس دوران زیر مطالعہ گروپ میں شامل 20 ہزار ایک سو چھبیس مرد اورگیارہ ہزار تین سو تیس خواتین کی طبعی موت واقع ہوئی۔ اس مطالعہ سے معلوم ہوا کہ ایسے افراد جو اپنے کھانے میں کثرت کے ساتھ ریشہ دارغذائی عناصر مثلاً متعدد سبزیوں، پھلوں اور دانے دار اجناس کا استعمال کرتے ہیں، ان کی عمر دیگر افراد کے مقابلے میں طویل ہوتی ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق ریشے دار غذا کا استعمال کرنے والوں میں سے 20 فیصد افراد میں موت کا خطرہ، ایسے افراد جو ریشے دار غذا کا استعمال نہ کرتے ہوں یا انتہائی کم کرتے ہوں، کے مقابلے میں تقریبا? 22 فیصد کم دیکھا گیا۔
واضح رہے کہ غذائی ریشے یعنی فائبر پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ ہوتے ہیں جو پودوں کے خلیات کی دیواروں میں پائے جاتے ہیں جسمانی ہاضمہ انزائمز سے فائبر مزاحمت رکھتے ہیں ،فائبر غذائیت یا کیلوری ہی فراہم نہیں کرتے بلکہ اہم حیاتیات افعال کی کارکردگی سر انجام دیتے ہیں۔ بڑی آنت میں اربوں کے حساب سے بیکٹیریا موجود ہوتے ہیں اور فائبر ان کی غذا ہے ،غذائی ریشہ کی دوا قسام ہیں حل پذیر اور نا حل پذیر نا حل پذیر فائبر پانی میں حل پذیر نہیں ہوتے جس میں لگینن ، سیلولوز اور ہیمی سیلوز شامل ہیں ،حل پذیر فائبر جو پانی میں حل پذیر ہیں جس میں پیکٹین ؛ گونداورلیس شامل ہیں، فائبر پودوں بشمول پھل ، سبزیاں ، سالم اناج ، اور پھلیاں میں پایا جاتا ہے۔ زیادہ تر خوراک میں نا حل پذیر فائبر 50-75 فیصد جبکہ30-25 فیصد حل پذیر فائبر ہوتا ہے، خوراک جئی ؛چوکر ، جو ،سرخ لوبیا ، کالا لوبیا،پھلیاں اور مٹر زیادہ حل پذیر فائبر ریشہ پرمشتمل ہیں جبکہ گندم کا چوکر ، بھوری چاول ، لیٹش اور پالک کم حل پذیر فائبر ریشہ پر مشتمل ہیں فائبر کے صحت پر اثرات حل پذیر ریشہ سے خون میں کولیسٹرول کی سطح میں کمی آتی ہے اور دل کی بیماری کا خطرہ کم کرتا ہے۔ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ حل پذیر فائبر بائل ایسڈ کو باندھتا ہے اورآنتوں سے خارج کرتا ہے ،چونکہ بائل ایسڈ کم دستیاب ہیں ،جگر خون کے بہاو¿ سے زیادہ کولیسٹرول کھینچتا ہے اس سے بلڈ کولیسٹرول سے سطح کم ہوتی ہے ،حل پذیر فائبر سے بلڈ شوگر کی سطح کواستحکام ملتی ہے ذیابیطس میں پیٹ خالی ہونے میں تاخیر محسوس ہوتی ہے ۔ اس سے کاربوہائیڈریٹ کی جذب ہونے کی شرح سست ہوجاتی ہے ،جبکہ جذب ہونا ریگولیشن کو بہتر بناتا ہے بلڈ شوگر کم کرتا ہے اور انسولین کی ضروریات کم ہو جاتی ہے ،خیال رہے کہ فائبرمیں پانی کو روکنے کی کافی گنجائش ہے ۔ ا گر کافی سیال پیتے ہوں تو پاخانہ کو نرم کرنے اورقبض دورکر نے میں یہ معاون ثابت ہوتا ہے ۔فائبر کی مقدارقبض کو روکنے کےلئے مختلف افراد میں مختلف ہوتی ہے ،فائبر خاص طور پر ناقابل تحلیل ریشہ ہے اور کولن کینسر کا خطرہ کم خاتمے کی رفتار میں اضافہ کرتا ہے ،مو¿ثر وقت میں سَرطانی مادَّہ (کینسر کا سبب بننے والا مادَّہ) آنتوں کے خلیوں میں اسکی مقدار کو کم کرتا ہے ،پاخانہ میں کارسی نوجن کوکمزور اور کم نقصان دہ بناتے ہیں، فائبر احساس بڑھاتا ہے ڈھیر سی خوراک کھائے بغیر سیر ہونے کا۔بغیر اضافی کیلوری کے موٹاپا کے خطرے کو کم کرسکتے ہیں اورذیابیطس کی شدت کو بھی۔ اعلی فائبر غذا آنتوں میں تھَیلیوں اور آنتوں میں تھَیلیوں کی تشکیل کے خطرے کم کرکے اور بڑی آنت کے اندر دباو¿ کم کرکے ۔اعلی فائبر غذا بواسیر کے خطرے کو کم پاخانہ کے ساتھ منسلک کشیدگی کا خاتمہ کر سکتی ہے، کل اوسطا عام افرادکو بالترتیب خواتین اور مردکو غذائی ریشہ روزانہ 12-18 گرام لینا چاہئے ،تجویز کردہ صرف غذائی ریشہ کی مقدار 14 گرام ہے فی 1000 کیلوری زیادہ اناج ،پھلیاں،سبزیاں، پھل اور اناج کی روٹی کھا کر حاصل کر سکتے ہیں فائبرکا بتدریج اضافہ تاکہ ضمنی بداثرات کم جیسے آنتوں کی گیس فائبر کی مقدار میں اضافہ کے ساتھ سیال یعنی پانی کی مقدار میں اضافہ بڑھانا چاہئے ،تحقیق سے معلوم ہوا غذائی طریقے جن کی بنیاد کم نشاستے والی خوراک ہیں وہ معاشرے میں مقبول ہو رہی ہے۔ تحقیق اس بات کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ فائبر اور چھلکے والا اناج لمبی زندگی کے لیے یقیناً ضروری ہے فائبر قدرتی طور پر دل کے دورے، فالج اور ذیابیطس جیسی بیماریوں کے خطرے کو بھی کم کر دیتی ہے وزن، بلڈ پریشر اور کولیسٹرول لیول کو بھی قابو میں رکھتی ہے ماہریں متفق ہیں غذا میں بتدریج تبدیلیاں کر کے فائبر کی مقدار میں اضافہ کرنا چاہئے۔ سفید روٹی کے بجائے بہترہے کہ اناج کی پوری بھوسی والی روٹیاں استعمال کریں، روزانہ دو دفعہ پھل اور تین بار سبزیوں کا استعمال کریں، اس کے علاوہ جئی سے بھی کافی مقدار ریشے حاصل ہوجاتے ہیں۔حقیقت یہ ہے کہ جئی کاچوکر فائدہ مند ہے ،کیونکہ یہ ریشہ کا ایک بہترین ذریعہ ہے ۔براو¿ن جئی میں فائبر 50فیصد حل پزیر ہے جو خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں مدد کرتا ہے185 مطالعوں اور 58 طبی ٹیسٹ سے فائبر کی اہمیت سامنے آئی ہے اور اس کی تفصیلات حال ہی میں معروف امریکی طبی جریدے لینسٹ میں شائع ہوئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر 1000 افراد کو 15 گرام (کم ترین فائبر) سے 25 سے 29 گرام فائبر(زیادہ فائبر) کی جانب لایا جائے تو اس سے 6 افراد کو دل کے امراض اور 13 افراد کو قبل ازوقت موت سے بچایا جاسکتا ہے۔زیادہ ترخوراک میں ان میں سے 25فیصد ریشے حل پزیر ہوتے ہیں ، لہذا کولیسٹرول کی سطح کو کم کرنے میں اتنا موثر نہیں ہے ،پھلیاں ، جو، کچھ پھل اور سبزیاں بھی حل پزیر ریشہ کے بہترین اور سستے ذرائع ہیں تحقیقات اور مطالعوں سے فائبر کی اہمیت دنیا پر واضح ہوچکی ہے۔ ماہرین روزانہ 25 سے 30 گرام فائبر کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
اس بات کو ہمیشہ پیش نظر رکھئے کہ ریشے دار غذا کھانے والوں کو قبض بہت کم ہوتا ہے۔ اس غذا سے عطیفِ قولون (Diverticulosis) حساس قولون، سوزش زائدہ، بواسیر اور ٹانگوں کی نمایاں نیلی رگوں (Varicose)سے بھی تحفظ ملتا ہے اور یہ مغربی غذا کھانے والوں کے عام امراض ہیں۔ ریشے دار غذا نہ صرف ان امراض سے تحفظ دیتی ہے، بلکہ یہ ان کا علاج بھی ہے۔ اس غذا سے شکرخون بھی اعتدال پر رہتی ہے اور ذیابیطس کے مرض میں کھائی جانے والی غذا میں اس کی بہت اہمیت ہے۔ ریشے دار غذائیں، جن میں بغیر چھنا آٹا، بھوسی دار اناج، ترکاریاں اور پھل وغیرہ شامل ہیں، بعض اقسام کے سرطان سے تحفظ دیتی ہیں اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کم کرتی ہیں۔ ان غذاو¿ں سے ضروری حیاتین معدنیات اور چکنے تیزاب بھی مل جاتے ہیں۔ لحمیات کی مناسب مقدار بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ یہ ریشے دار غذائیں سب کے لیے فائدہ مند ہیں۔ پکی عمر کے بوڑھے بھی ریشے دار غذا سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ متوازن اور کم چکنائی والی ریشے دار غذا باعث لطف ہوتی ہے اور خوش ذائقہ بھی۔ اس غذا کے عناصر زیادہ ریشے دار اشیا ( اناج، ترکاریوں اور پھل) سے حاصل ہوتے ہیں اور چکنائی نہایت کم ہوتی ہے۔ اس غذا سے وزن بھی مناسب رہتا ہے۔ آج کل کے زمانے میں ایک خوش حال شہری کی غذا میں ریشے کی روزانہ کھائی جانے والی مقدار 20 گرام ہے۔اس کے برعکس ایک دیہاتی کی غذا میں روزانہ کھائے جانے والے ریشے کی مقدار 50سے 120 گرام ہے۔ جنگ عظیم کے زمانے میں عام برطانوی شہری کی غذا میں ریشے کی مقدار 32 سے 40 گرام تھی۔ اس زمانے میں عارضہ قلب کم ہو گیا تھا۔ سبزی خوروں کی غذا میں روزانہ کھائے جانے والے ریشے کی مقدار 42گرام ہوتی ہے۔ چنانچہ یہ مشورہ ہے کہ غذا میں رفتہ رفتہ ریشے کی مقدار بڑھا کر 30گرام کردی جائے، جو متنوع غذا سے حاصل کی جائے، یعنی غذا میں بغیر چھنے آٹے کی روٹی ترکاری، سبزیاں، دالیں، لوبیا، پھلیاں اور پھلوں کی مقدار بڑھائی جائے۔ پھلوں میں پایا جانے والا مادہ ”پیکٹن“ اس ضمن میں بہت مفید ہے۔ اکثر لوگوں کے لیے اہم تبدیلی جو مشکل ہوتی ہے، وہ گوشت خصوصاً سرخ گوشت کھانا ترک کرنا یا صرف روکھا گوشت کھانے تک خود کو محدود کرنا ہے۔ جدید معلومات کے مطابق بعض قسم کے تیل کھانے سے خون میں س±دے کم بنتے ہیں ،خاص کر برفانی علاقے میں رہنے والے افراد کو یہ تیل وہیل اور سیل مچھلی سے حاصل ہوتے ہیں۔ اس لیے ان میں عارضہ قلب کا امکان کم ہوتا ہے۔ ہمارے لیے روغنی مچھلیاں مثلاً میکرل اور پیاسی وغیرہ مفید ہیں۔ جن سے یہ مخصوص تیل مل جاتا ہے، جس کے کھانے سے سرخ رگوں میں س±دے بننے کا امکان گھٹ جاتا ہے۔ دنیا کی اکثر اقوام کم چکنائی والی ریشے دار غذا کھاتی ہیں اور صحت مند رہتی ہیں۔ پانچ سال کی عمر تک بچوں اور بوڑھوں میں چکنائی کم کرنے سے چکنائی میں حل پذیر حیاتین اورغذائی توانائی کی کمی ہو سکتی ہے، جو بچوں کی نشوونما کے زمانے میں اور بوڑھوں کی صحت برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ چنانچہ بچوں اور بوڑھوں کو پینے کے لیے ملائی والا دودھ دیں۔ بغیر چھنے آٹے کی روٹیاں، چھلکے والے اناج، بادامی چاول، ترکاریاں، سبزیاں، پھلیاں، دالیں، سالم مونگ، ماش، مٹر، چنا، لوبیا، سفید مچھلی، روغنی مچھلی، بغیر کھال کی مرغی، خرگوش کا گوشت، بغیر ملائی کا دودھ، گھریلو پنیر، انڈے کی سفیدی، ایک ہفتے میں انڈے کی دویا تین زردیاں اور چکنائی کم سے کم کھائی جائے۔ سفید چاول، چھنا ہوا آٹا، خشک میوے، کلیجی، گردے، روکھا گوشت، تیل(سویا بین، سورج مکھی، تل، مکئی وغیرہ ) اور نرم مارجرین معمولی مقدار میں کھا سکتے ہیں۔ آلو کے تلے ہوئے قتلے یا فرنچ فرائیز، ناریل، کیک، پیسٹریاں، پراٹھے، شربت، چکنائی والا گوشت، گوشت کی چربی، اوجھڑی، زبان ملائی ، مکھن، گھی، بناسپتی گھی، ناریل کا روغن، پام کا روغن ، مونگ پھلی اور اس کا تیل اور مونگ پھلی کا مکھن کھانے سے ہر ممکن حد تک احتراز کرنا چاہیے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here