یونانی ادویات کے موضوع پر دوروزہ قومی کانفرنس کا انعقاد

0
1211
فوٹو: پروگرام میں کتاب کااجراءکرتے ہوئے مہمان
All kind of website designing

علی گڑھ ، 6 نومبر : علی گڑھ مسلم ےونیورسٹی (اے ایم یو) کے اجمل خاں طبیہ کالج کے معالجات شعبہ کے زےر اہتمام ”علامات پر مبنی یونانی ادویات“ موضوع پر منعقد ہوئی دو روزہ قومی کانفرنس میں ملک بھر سے جمع ہوئے معالجین قدیم امراض کے علاج میں پےش آنے والے چیلنجز پر گفتگو کی۔ اجمل خاں طبیہ کالج کے آڈیٹوریم میں کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کی صدارت کے فرائض علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرووائس چانسلر پروفیسر اختر حسیب نے انجام دیئے۔ جناب ڈاکٹر سکندر حیات صدیقی صاحب، ڈائرکٹریونانی خدمات اتر پردےش پروگرام میں مہمان خصوصی رہے اور ڈاکٹر انور سعید، سکریٹری جامعہ طبیہ دیوبند پروگرام کے اعزازی مہمان کے طور پر موجود رہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر انور سعید نے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبۂ علاج بالتدبیر میں امتیازی نمبر حاصل کرنے والے طلباءکو دیئے جانے والے گولڈ میڈل کو جامعہ طبیہ دیوبند کی جانب سے ”شمیم احمد سعیدی ایوارڈ“ کے طور پر دیئے جانے کی پیشکش کی۔ جسے علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے منظوری بھی دے دی گئی۔ ڈاکٹر انور سعید نے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شعبۂ معالجات نے جس موضوع پر کانفرنس کا انعقاد کیا ہے وہ حد درجہ اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ قدیم امراض کے تدارک میں یہ کانفرنس یقینی طور پر کامیاب ہوگی۔ انہوں نے طبی دنیا میں ہو رہے تجربات و علاج کے documentation کرنے پر زوریا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ طب کوئی بھی رہی ہو عموماًاس کی بنیاد تجرباتی علاج معالجہ یا تجرباتی ادویہ پر رہی ہے۔ لیکن آج سائنس کے اس ترقی یافتہ دور میں اور اس ترقی یافتہ معاشرہ میں جیوں علوم کی نئی نئی شاخیں پیدا ہوتی گئیں تیو ں تیوں لوگوں کے ذہنوں میں تجسّس کے عناصر زیادہ سے زیادہ ہوتے گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ ہر چیز What, How & Why کے پیرامیٹر پر اپنا وزن طے کرنے لگی۔ جدید طب نے چونکہ جدید سائنس کے شانہ بہ شانہ اپنے قدم بڑھائے اس لئے اس نے جلد ہی تمام سوالیہ نشانوں کے جوابات اپنے اندر تلاش کرنے شروع کر دیئے۔دیسی طبوں میں نسل در نسل، سینہ بہ سینہ دواؤں کی افادیت اور استعمال ماضی قریب تک بھی جاری رہا لیکن علوم جدیدہ نے آخرکار ان طبوں کے آنگنوں کو بھی منور کر دیا۔ اب صرف اس بات سے کام نہیں چلتا کہ ہم نے یہی پڑھا ہے یہی دیکھا ہے کہ فلاں دوا فلاں مرض میں مؤثر اور کارگر ثابت ہوتی ہے۔ اب ہر شے کا validation صرف گفتن (کہہ دینے سے) نہیں ہو سکتا۔ اب آپ جودعویٰ کر رہے ہیں اس کی پختگی کے لئے آپ کو شواہدات (Evidences) مہیا کرنا ہوں گے۔ معالجہ اب صرف یہ نہیں رہ گیا کہ ہم نے ہفتہ عشرہ اس دوا کو استعمال کیا اور ہمیں شفا حاصل ہو گئی۔ اب اس معالجہ کا بتدریج Documentation لازمی ہے۔ دواؤں کے مختلف مراحل میں کیا کیا اثرات مرتب ہوئے کیا Negative کیا Positive ہوا اس سب کا Documentation اور ساتھ ساتھ آپ کے ہر دعویٰ کے ثبوت میں مختلف قسم کی جانچیں اور ان کی Lab reports معالج کا ایک ضروری حصہ بن گئے ہیں۔ اس ضمن مےں امراض مزمنہ Chronic Diseases میں سارے Challenges سارے عوارضات ساری پیچیدگیاں باقاعدہ طور پر منظر عام پر ہی نہیں آتیں بلکہ ان کا ضروری تدارک بھی اس طریقہ سے تلاش کیا جاتا ہے۔Evidence based medicine گذشتہ ایک دہائی کے عرصہ سے طب یونانی میں اپنا اہم مقام بنا چکی ہے۔ جب تک طب یونانی صرف رواےت Tradition کے طلسم میں قید تھی تو اس کی مثال اےک Stagnant water (رکے ہوئے پانی) کی سی تھی لیکن Evidence based medicine نے اس طب کو بھی اےک رواں دریا کی حیثیت دیدی ہے اور یہی حیثیت اس کی ترقی کا راستہ بھی ہے۔ اس موقع پر ڈاکٹر انور سعید کی گل پوشی کی گئی و مومنٹو دے کر اور شال اوڑھاکر اعزاز سے نوازہ گیا۔ پروگرام میں مہمان خصوصی رہے یونانی خدمات اتر پردیش کے ڈائرکٹر جناب ڈاکٹر سکندر حیات صدیقی صاحب نے بھی کانفرنس سے متعلق اپنے بیان میں کہا کہ مختلف ادوار میں متعدد امراض انسان کو چیلنج دیتے رہے ہیں، حالانکہ کچھ امراض کے زود اثر علاج درےافت کئے گئے ہےں لےکن آج بھی متعد د اےسے امراض ہےں جو معالجےن کے لئے چےلنج بنے ہوئے ہےں۔ انہوں نے کہا کہ متعدد امراض کا کسی بھی طریقۂ علاج سے علاج نہیں ہے۔ ڈاکٹر صدیقی نے کہا کہ ایسی صورت حال میں اگر یونانی معالجین قدیم اور شدید امراض کا زود اثر علاج تلاش کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ انسانیت کے لئے بڑی حصولیابی ہوگی اور اس سے یونانی طریقہ علاج کو بھی مقبولیت حاصل ہوگی۔ علیگڑھ مسلم یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر پروفیسر اختر حسیب نے کہا کہ ےونانی طریقۂ علاج دنیا کا قدےیم ترین طریقۂ علاج ہے اور اسے فروغ دے کر مقبولیت سے ہمکنار کرانا یونانی معالجین کا اولین فریضہ ہے۔ شعبۂ معالجات کے سربراہ اور کانفرنس کے آرگنائزنگ سکریٹری پروفیسر تنزیل احمد نے اپنے اسقبالےہ خطبہ مےں کہا کہ اس کانفرنس مےں جو تحقےقی مقالے موصول ہوئے ہیں وہ یونانی طب کے میدان میں ہو رہے معیاری تحقےق کا ثبوت ہیں۔ انہوں نے اس موضوع پر مزید تحقیقی عمل اور ایک ٹاسک فورس کی تشکیل کی ضرورت پر زور دیا۔ پروفےسر ایم ایم ایچ صدیقی ڈین فیکلٹی یونانی میڈیسن اور پروفیسر سعود علی خاں پرنسپل اجمل خاں طبیہ کالج نے بھی افتتاحی تقریب سے خطاب کیا۔ پروگرام کی نظامت پروفیسر بدرالدجیٰ خاں نے نظامت کے فرائض انجام دینے کا ساتھ حاضرین کا شکریہ ادا کیا۔ کانفرنس کے آرگنائزنگ صدر پروفیسر عبدالمنان اور پروفیسر مصباح الدین بھی موجود تھے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here