طلبہ اور نوجوانوں کو سماج کی تشکیلِ نو کے لئے منظم اور قائدانہ رول ادا کرنا ہوگا:ایس آئی او

0
926
بیدر میں ایس آئی اوکی اسٹوڈنٹس کانفرنس
All kind of website designing

بیدر،(نیا سویرا لائیو/ ہ س)۔ امت اور امت کا نوجوان اپنامقام وحیثیت بھُلا دیا ہے، امت میں علم یا سماجی علوم و فنون میں ماہرین کی کمی میں اور انسانیت کے لئے بہترین نفع ساز بننے کا جو تاریخی پس منظر ہے اس کو بھلا دیا گیا۔یہ خواب غفلت پوری انسانیت کے لیے یہ ایک سنگین خطرہ سے کم نہیں ، چونکہ انسانیت کا درد رکھنے والے خود اپنےآپ سے اوردنیا کے انسان خدا سے نا آشنا ہیں اور تاریکی میں ڈوبی اس دنیا کو راستہ دکھانے کے بجائے مایوسی کا شکار نظر آتے ہیں۔ ایسے حالات میں دنیا مجبور ہوکر انصاف امن و انصاف ، چین و سکون ، بھائی چارگی اخوت و محبت جیسے سے عوامل کو معاشرے کا حصہ بنتے ہوئے دیکھنا چاہتی ہے، لیکن معاشرہ اس سے بڑی حد تک دور ہے ایسے حالات میں جہاں مایوسی چھائی ہو، نوجوانوں کو اٹھنا ہے امید کی ایک کرن بننا ہے اور انہیں معاشرے میں اپنا ذمہ دارانہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار جناب لئیق احمد خان عاقل صاحب سابق مرکزی سیکریٹری ایس آئی او آف انڈیا وصدر حلقہ ایس آئی او، تلنگانہ نے کانفرنس کے مرکزی موضوع اگر تم نہ اُٹھوگے تو خدا تمہیں دردناک سزا دے گا پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ موصوف نے مزید کہا کہ خدا پر کامل یقین رکھنے والے بندوں کو مایوسی ہو یہ ممکن ہی نہیں ، پر عزم نوجوانوں کوامید کی کرن کبھی اپنے عزم اور حوصلے سے پیچھے ہٹنے نہیں دیتی بلکہ عمل کی طرف راغب کرتی ہے۔ حالات جس طرح بھی مومن ان کا مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے خدا پر کامل یقین کے ساتھ آگے بڑھتا ہے اور آج دنیا نوجوانوں سے یہی چاہتی ہے۔ مسلم نوجوانوں کواسلام کا ایمبسڈر (نمائندہ) بن کر اپنے آپ کو پیش کرنا ہے۔ اور انسانی زندگی کا چاہے کوئی بھی میدان ہو نوجوانوں کو آگے بڑھ کر قائدانہ رول ادا کرنا ہے۔اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ اگر یہ امت اپنا فرض منصبی کو بھلا کر دنیاوی معاملات میں مشغول ہو کر مادی دنیا کی طرف اپنا میلان رکھتی ہے تو یقینا خدا کی پکڑ سے کوئی نہیں بچا سکتا اور اگر یہ امت اور اسکا نوجوان نہیں اٹھتے ہیں تو ہمیں دردناک عذاب دیا جائے گا۔ امت کے نوجوانوں کو قوم کی قیادت کے خوف اور ناکامی کے ڈر سے آگے نکل کر خدا پر کامل یقین کے ساتھ دعوت الی اللہ کے فریضہ کو انجام دینا ہے۔ انہوں نے نوجوانوں سے علم کے میدان میں ماہرانہ صلاحیت، قابلیت اور عملی میدان میں آگے آنے کی طرف توجہ دلائی تو دوسری طرف اخلاق کے ایک بہترین نمونہ بن کر دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت کا احساس دلایا۔کانفرنس کے کلیدی خطاب میں ڈاکٹر بلگامی محمد سعد امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے طلبہ سے مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ طلبہ حالات سے مایوس نہ ہوں، بلکہ ایمان کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اپنی صلاحیتوں کا ادراک کرتے ہوئے عملی میدان منتخب کریں ، قرآن کی مختلف آیتوں کے حوالے سے کہا کہ احکام خداوندی اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کی مکمل پیروی پر زندگی گزارنے کا احساس ہرفردکو ہونا چاہیے، اور اسی میں ہماری کامیابی اور نجات ممکن ہے۔ انہوں نے طالب علموں کو علم کے حصول کا مرکز و محور انسانیت کی فلاح و کامیابی کو بنانے حصول پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں سے عزم حوصلے اور صبر کے ساتھ احکام خداوندی پر عمل اور شریعت کے قانون کے پاس دار بننے کا بھی مطالبہ کیا۔ جناب محمد آصف الدین صاحب رکن ریاستی مجلس شوریٰ جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام کا مستقبل روشن ہے امت کے فرزندان عزت و غیرت ایمان و اسلام کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں ہیں امت کو لینے والے نہیں، بلکہ دینے والے افراد کی ضرورت ہے۔ مختلف شخصیات کے واقعات کے حوالے سےانہوں نے کہا کہ اسلاموفوبیہ کی اصل وجہ اسلام اور اسلامی نظریہ کی بڑھتی طاقت ہے، پوری دنیا میں اسلام تیزی کے ساتھ پھیل رہا ہے جس کو اسلام دشمن طاقتیں اپنے لئے ایک خطرہ محسوس کرتی ہیں ایسے حالات میں مثبت سوچ کے ساتھ منظم ارادوں اور حوصلوں کے ساتھ عملی میدان میں نوجوانوں کو آگے بڑھنے کی ضرورت ہے۔موصوف نے مزید کہاکہ مایوسی کفر ے،مستقبل کے حوالے سے خوف و ڈر کے ماحول میں اسلام کی دعوت ایک بہترین ذریعہ ہے کہ ہم انسانیت کے ناطہ ہر فرد تک پہنچیں، انہوں نے تمام چیلنجز کو اسلام کی دعوت کے لئے زبردست موقع قرار دیا اور کہا کہ معاشرہ سوال کر رہا ہے کہ ان سوالات کے جوابات کے لیے امت کے نوجوانوں کو اُٹھنا ہوگا اور اس کا جواب دینا ہوگا۔ انہوں نے نوجوانوں کے متعلق کہا کہ احساس کمتری اور مایوسی سے بے پرواہ ہوکر اسلامی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی ضرورت ہے۔ آج کے حالات ملت کے جوانوں سے اس بات کا تقاضہ کر رہے ہیں ہم قومی کشمکش کا شکار نہیں بنیں گے بلکہ حق و باطل کی کشمکش میں حق کا ساتھ دیں گے اور تمام چیلنجز کو قبول کرتے ہوئے اسلام کی دعوت کو پوری قوت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کریں۔ برادر نہال کڈیور صاحب ریاستی صدر ایس آئی او، کرناٹک نے کانفرنس کے صدارتی خطاب میں کہا کہ اسلام کی دعوت ہر حال میں دینی ہےاوریہ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض منصبی ہے، طلبہ اور نوجوانوں اس اہم فریضے سے غفلت نہ پڑتے اور ایس آئی او کی تمام تر کوششیں دعوت الی اللہ کو لے کر ہے۔ ایس آئی او اسلام کی دعوت لے کر مختلف مہمات اور سرگرمیوں کی ایک لمبی تاریخ رکھتی ہے انہوں نے نوجوانوں سے معاشرے میں متحرک وفعال ادا کرنے کی کی ضرورت پر زور دیا۔ اپنے صدارتی خطاب میں انھوں نے کہا کہ دنیا اسلام کے لئے متلاشی ہے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر صدرشاہین ادارہ جات بیدرنے طلباءسے مختصر خطاب میں ایس آئی او کی سرگرمیوں کو سراہتے ہوئے کانفرنس میں پیش کی گئی قرارداد کو منظر عام پر لانے کی طرف توجہ دلائی اور طلبہ سے تعلیمی میں میدان میں نمایاں اور بہتر کارکردگی کے لیے مسلسل جدوجہد کرنے، ماں باپ کی خدمت اور انکی فرمابرداری کرنے پر زور دیا، انہوں نے طلباءمیں بڑھتے ہوئے موبائل کے رجحان پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تعلیمی ترقی میں ایک اہم رکاوٹ قرار دیا۔ موبائل کے زیادہ استعمال کو کم سے کم کرکے غیر ضروری مشغولیات میں ملوث ہونے کے بجائے تعلیم پر توجہ دینے پر زور دیا۔کانفرنس کا آغاز حافظ سید مسعودکی تلاوت کلام پاک معہ اردو ترجمہ سے ہوا، جسکا انگلش ترجمہ برادر سید انور الحق نے پڑھا۔ عاقب حسین صدر مقامی بیدر یونٹ نے افتتاحی کلمات پیش کیے۔ اس موقع پر الطاف امجد ایس آئی او کا تعارف کراتے ہو ئے تفصیلی روشنی ڈالی۔ جناب یوسف کنی صاحب معاون امیر حلقہ جماعت اسلامی ہند کرناٹک نے بھی اپنے مختصر خطاب میں طلباءکو اخلاقیات کو بہتر بنانی کی بات بتائی۔ شہ نشین پر جناب محمد نظام الدین صاحب امیر مقامی جماعت اسلامی ہند بیدر، محمد نجیب الدین ضلعی صدر ایس آئی او بیدر، جناب اکرم علی صاحب ناظم جماعت اسلامی ہند بیدر، جناب ذاکرحسین صاحب ناظم علاقہ جماعت اسلامی ہند گلبرگہ، عامر عرفان، ڈاکٹر ارشاد نوید، مبشر سندھے، اسداللہ خان ذکی ، و دیگر موجود تھے۔ اکانفرنس میں وابستگان ایس آئی او کی جانب سے بہترین پیغام رکھنے والا ایک ڈرامہ بھی پیش کیا گیا جسے کانفرنس کے شرکاءنے خوب سراہا۔ کانفرنس میں سات قراردادیں بھی پیش کی گئیں جسے برادر ہر اسداللہ خان ذکی زیڈاے سی ممبر نے پڑھا۔ اور شرکاءنے اللہ اکبر کے نعروں سے انہیں منظور کیا۔ اس موقعہ پر تعلیمی میدان میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے ایم ڈی کی تکمیل پر ڈااکٹر ارشاد نوید کو تہنیت بھی پیش کی گئی۔ دوران کانفرنس جے این یو کے گم شدہ طالب علم نجیب کے متعلق ایک احتجاج بھی ہوا،جس میں وہیر از نجیب ، برنگ بیاک نجیب، نجیب کو ڈھونڈکے لاو¾ وغیرہ سلوگنس لگائے گئے۔محمد انورالحق نے نظامت کی، کانفرنس کا اختتام پروگرام آرگنائزر صلاح الدین فرحان کی تشکری کلمات پر ہوا۔ کانفرنس میں طلبہ اور نوجوانوں کے علاوہ دیگر افراد کی کثیر تعداد شریک رہی۔

 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here