کمل ہاسن کے خلاف دائر فوجداری شکایت پر سماعت ملتوی ہوئی

0
386
All kind of website designing

ہاسن نے ناتھو رام گوڈسے کو آزاد بھارت کا پہلا انتہا پسند ہندو بتایا تھا، ہندوسینا کے صدر نے دائر کی ہے درخواست

نئی دہلی، 15 اکتوبر (نیا سویرا لائیو/

ہ س)۔ دہلی کی پٹیالہ ہاو¿س کورٹ نے اداکار سے لیڈر بنے کمل ہاسن کے ناتھو رام گوڈسے والے بیان کے خلاف دائر فوجداری شکایت پر آج سماعت ملتوی کر دی ہے۔ کورٹ نے اس معاملے پر اگلی سماعت 22 نومبر کو کرنے کا حکم دیا۔ گزشتہ 16 مئی کو کورٹ نے اس درخواست کو سماعت کے لئے قبول کر لیا تھا۔ گزشتہ 2 اگست کو درخواست گزار اور ہندو سینا کے صدر وشنو گپتا کورٹ میں موجود نہیں تھے۔ لہٰذا کورٹ نے سماعت ملتوی کر دی تھی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمل ہاسن

کمل ہاسن

 نے ناتھو رام گوڈسے کو آزاد بھارت کا پہلا انتہا پسند ہندو قرار دیا تھا۔ کمل ہاسن کے اس بیان سے مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کمل ہاسن کے بیان سے ہندو اور مسلم کمیونٹی میں تعصب بڑھ سکتا ہے۔ کمل ہاسن نے میکلندھی میم (ایم این ایم) نامی سیاسی جماعت قائم کی ہے۔ انہوں نے تمل ناڈو کے ارواکروچی میں گزشتہ 12 مئی کو ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ناتھورام گوڈسے پر یہ بیان دیا تھا۔ اس بیان پر سیاسی ہنگامہ مچ گیاتھا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here