ہائی کورٹ پہنچاہنی ٹرےپ کیس، تحقیقات میں رکاوٹ کا خدشہ

0
803
All kind of website designing

اندور، 04 اکتوبر (نیا سویرا لائیو/ ہ س)۔ مدھیہ پردیش کاہائی پروفائل معاملہ اب ہائی کورٹ پہنچ گیا ہے۔ اس معاملہ میں مدھیہ پردیش ہائی کورٹ کی اندور بنچ میں گزشتہ دنوں ایک مفاد عامہ کی عرضی دائر کی گئی ہے، جس میں معاملہ کی تحقیقات میں رکاوٹ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی مطالبہ کیا گیا ہے کہ معاملے کی جانچ ہائی کورٹ کی نگرانی میں کرائی جائے۔ یہ عرضی اندور رہائشی شیکھر چودھری نامی شخص کی طرف سے دائر کی ہے۔ درخواست گزار نے ایڈووکیٹ دھرمیندر چےلاوت کے ذریعے دائر درخواست میں کہا ہے کہ ریاستی حکومت نے معاملے کی تحقیقات کے لئے ایس آئی ٹی کی تشکیل تو کر دی ہے، لیکن بار بار ایس آئی ٹی میں حکام کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کچھ دن پہلے آئی پی ایس سنجیو شمی کو ایس آئی ٹی کا سربراہ بنایا تھا، لیکن بعد میں تبدیل کر دیا گیا۔ جو بھی افسر ان تحقیقات کر رہے ہیں، وہ ریاستی حکومت کے تحت ہیں، ایسی صورت میں تحقیقات کے متاثر نہ ہونے کا امکان کم ہے۔ جانچ سی بی آئی یا کسی مرکزی ایجنسی کو سونپی جائے اور ہائی کورٹ روز بروز اس کی نگرانی کرے، جس سے غیر جانبدارانہ جانچ ہو سکے۔ درخواست میں الزام ہے کہ حکومت اس معاملے کی جانچ کی سمت بھٹکانے کی کوشش بھی کر رہی ہے۔ بار بار تفتیشی افسر بدلے جا رہے ہیں۔ جیسے ہی جانچ آگے بڑھتی ہے، حکومت ایس آئی ٹی کے حکام کو تبدیل کر دیتی ہے۔ ایسی صورت میں تحقیقات میں رکاوٹ کا خدشہ ہے۔ دراصل، مدھیہ پردیش میں ہائی پروفائل ہنی ٹرےپ معاملے کی جانچ کے لئے پولیس ہیڈ کوارٹر کے ذریعہ خصوصی تفتیشی ٹیم (ایس آئی ٹی) کا قیام کیا گیا ہے جس میں آئی جی ڈی سرینواس ورما چیف تھے۔ اس کے دو دن بعد ہی انہیں ہٹا کر سنجیو شمی کو ایس آئی ٹی چیف بنا دیا گیا۔ انہوں نے بھی تین دن معاملے کی جانچ کی، لیکن اس کے بعد انہیں بھی ہٹا دیا گیا اور ڈی جی راجندر کمار کو ایس آئی ٹی چیف بنا دیا گیا۔ بار بار ایس آئی ٹی چیف تبدیل کرنے سے ہنی ٹرےپ معاملے کی رازداری پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ اسی کے سبب ہائی کورٹ میں جمعرات کو درخواست دائر کی گئی ہے جس میں ہائی کورٹ کی نگرانی میں سی بی آئی یا کسی مرکزی جانچ ایجنسی سے معاملے کی تحقیقات کرنے کی مانگ کی گئی ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here