جامعہ فیض العلوم قریش نگر میں سری لنکا میں ہوئے دہشت گردانہ حملے کیخلاف تعزیتی جلسہ

0
465
All kind of website designing

نئی دہلی،6مئی(محمد ارسلان خان):قصابپورہ میں واقع جامعہ فیض العلوم القریش مسجد میں گزشتہ دنوں سری لنکا میں ہوئے خوفناک بم دھماکوں کے خلاف ایک تعزیتی جلسہ کا انعقادعلامہ مفتی شمیم احمد قاسمی کی صدارت میں کیا گیا۔جلسہ کاآغاز محمد کاشف کی تلاوت کلام الہی اور محمد ذیشان کی نعتیہ مجموعہ سے ہوا۔اس موقع پر شرکت کرتے ہوئے چاندنی چوک حلقہ سے بی ایس پی کے لوکسبھا امیدوارشاہد علی ایڈوکیٹ نے سری لنکا میں چر چ اور ہوٹلوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور حملے میں جاں بحق ہوئے افراد کے کنبوں سے ہمدردی کااظہار کیا۔انہوں نے کہاکہ عیسائی کے تہوار ’ایسٹر‘کے موقع پر چرچوں پر ہوئے حملے ناقابل برداشت ہیں۔ایڈوکیٹ شاہد علی نے مزید کہاکہ دہشت گرد مذہبی عبادتگاہوں کو نشانہ بنا کر عالمی سطح پر بے چینی اور انارکی پھیلانا چاہتے ہیں،حال ہی میں نیوزی لینڈ کی مسجد ہو یا کو لمبو کے چرچوں پر حملے کا معاملہ ہو،یہ ظاہر کر تا ہے کہ دہشت گردنہ صرف انسانیت کیلئے خطرہ ہیں بلکہ وہ تمام مذاہب کے آدرشوں کے خلاف نبرد آزما ہیں،یہاں تک کہ مذاہب کے پیروکاروں اور عبادت گزاروں کو قتل کر نا دہشت گردوں کا محبوب مشغلہ بن گیا ہے۔دہلی اقلیتی کمیشن کے اہم رُکن شفیع دہلوی نے سری لنکا میں چرچ اور ہوٹلوں پر ہوئے دہشت گردانہ حملے اور ان میں سیکڑوں جانوں کے جاں بحق ہوئے شہریوں پر گہری تشویش ظاہر کی اور اس عمل کو انسانیت کے خلاف ناقابل معافی بھیانک جرم قرار دیا۔نظامت کرتے ہوئے مفتی ریحان القاسمی نے اس عظیم سانحہ پر گہرے رنج وغم کا اظہارکیا اور کہاکہ مجرم کا تعلق خواہ کسی بھی مذہب،ذات،خطہ اور علاقے سے ہو،وہ سنگین جرم ہے اور اسکے خلاف سخت ایکشن اور کارروائی ضروری ہے،نیز مشکل و اس دکھ کی گھڑی میں ہم سری لنکا کی حکومت کے ساتھ ہیں ان کے اہلخانہ کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔اس موقع پر آل انڈیا مومن کا نفرنس کے صوبہ کے جنرل سیکریٹری محمدشاکر انصاری،سماجی کارکن محمد عثمان،محمد جاوید قریشی،حسین سلمانی،محمد ارسلان خان سمیت دیگر بڑی تعداد میں موجودرہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here