پلوامہ سانحہ : فوج اپنی پوری طاقت کا استعمال کرکے مستقبل میں اس طرح کے حملوں کو روکے۔ ایم کے فیضی

0
407
All kind of website designing

نئی دہلی ۔(محمد ارسلان خان )۔سوشیل ڈیموکریٹک پارٹی آف انڈیا

(SDPI)ی آر پی ایف جوانوں کی شہادت پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے واقعے کی سخت مذمت کی ہے۔ اس ضمن میں جاری کردہ اخباری اعلامیہ میں ایس ڈ ی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے کہا ہے کہ جموں کشمیر میں ہوئے اس سانحہ سے ہمیں گہرا دکھ پہنچا ہے اور اس دکھ کی گھڑی میں ایس ڈی پی آئی متاثرہ خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ ایم کے فیضی نے مزید کہا ہے کہ فوج کو اپنی پوری طاقت کا استعمال کرکے مستقبل میں اس طرح کے حملوں کو روکنا چاہئے۔ یہ بات انتہائی تشویشناک ہے کہ ہم گزشتہ کئی برسوں سے اس طرح کے واقعات کا سامنا کررہے ہیں۔ایم کے فیضی نے اس بات کی طرف خصوصی نشاندہی کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی نے 40سے زائد جوانوں کی شہادت پر صرف ٹوئیٹ کے ذریعے دکھ کا اظہار کیا ہے اور کرارا جواب دینے کی خالی دھمکی دی ہے۔ PMOاور قومی سلامتی مشیر کو ا ن سوالات کے جوابات دینے چاہئے کہ کیوں ان 2500سی آر پی ایف جوانوں کومحفوظ طریقے سے سفر کرنے کیلئے سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی ؟۔ ہائی وے پر جارہے سی آر پی ایف قافلے کے سامنے اور پیچھے سفر کررہی تمام گاڑیوں اور افراد کی توثیق کرنے کیلئے کیوں چوکیوں کو لگا کر جانچ پڑتال نہیں کی گئی ؟۔ RAWاور IBعسکریت پسند کے مشکوک نقل و حرکت کا پتہ کیوں نہیں لگا سکی ؟۔ خود گورنر نے انٹلی جنس کی ناکامی کو تسلیم کیا ہے ۔ وادی کے لوگوں کے ساتھ سیاسی بات چیت شروع کرنے کیلئے تشکیل کی گئی پینل کا کیا ہو ا؟۔ ایس ڈی پی آئی قومی صدر ایم کے فیضی نے اپنے اخباری اعلامیہ میں مطالبہ کیا ہے کہ اس پورے واقعے کی مکمل تحقیقات کی جانی چاہئے اور مستقبل میں اس طرح کے واقعات کو روکنے کیلئے احتیاطی تدابیر کئے جائیں۔ ایم کے فیضی نے حکومت پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت جموں کشمیر میں جاری تحریک کا سیاسی حل نکالنے میں ناکام ہے۔ آزادی کے بعد سے آج کی تاریخ تک فوج عسکریت پسندوں کے ساتھ چوہے اور بلی کا کھیل کھیل رہی ہے۔ کئی غیر جانبدار مبصرین کی آراء ہے کہ ریاست جموں کشمیر کو آئین کے تحت مکمل خود مختاری دے دی جائے ۔ کئی دہائیوں سے چلے آرہے اس مسئلے کا صرف یہی ایک حل ہے۔ اس طرح کے منصوبوں پر عمل کرنے کیلئے سیاسی جرات مندی کی ضرور ت ہے اور فوری فوجی ردعمل اور صورتحال کا از سر نو جائزہ لیکر حکومت کو اس مسئلہ کا سیاسی حل نکالنا چاہئے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here