اٹل بہاری واجپئی : کچھ یادیں کچھ باتیں 

0
830
file photo
All kind of website designing

عبدالعزیز

بات 1988ء کی ہے جب مسٹر اٹل بہاری واجپئی لوک سبھا کے اپوزیشن لیڈر تھے۔ مسٹر کلدیپ نیر سابق ایڈیٹر ’اسٹیٹس مین‘ ’’دہلی میری ‘ ‘ ادارے میں شائع ہونے والے ایک اخبار روزنامہ ’اقراء‘ میں اپنے مضامین بھیجتے تھے جو ہفتہ میں ایک دن شائع ہوتا تھا۔ ان سے میرے اچھے تعلقات تھے۔ جب حاجی منصور احمد صاحب کے ساتھ ہفتہ وار ’انقلاب‘ کلکتہ کیلئے دہلی کئی لیڈروں سے انٹرویو لینے کیلئے گیا تو کلدیپ نیر صاحب سے تذکرہ کیاکہ میں واجپئی صاحب سے بھی انٹرویو لینے کا خواہشمند ہوں۔ اگر آپ میرا تعارف کرادیں اور ان کو انٹرویو کیلئے آمادہ کرلیں تو مہربانی ہوگی۔ دوسرے دن کلدیپ نیر صاحب کا فون آیا کہ ’’واجپئی صاحب راضی ہوگئے ہیں۔ ان کا یہ فون نمبر ہے۔ آپ ان سے خود ہی بات کرکے وقت طے کر لیں‘‘۔ میں نے جب فون کیا تو اتفاق سے واجپئی صاحب ٹیلیفون پر تھے، میں نے کلدیپ نیر صاحب کے حوالے سے بات کی۔ انھوں نے کہاکہ ایڈوانی جی سے انٹرویو لے لیجئے۔ میں نے کہاکہ اگر ایڈوانی جی سے لینا ہوتا تو آپ کو کیوں فون کرتا۔ پھر انھوں نے کہا کہ کل دس بجے دن میں میری رہائش گاہ پر آجائیے۔ جب ہم لوگ پہنچے تو واجپئی صاحب ایک کمرہ کے باہر کرسی پر بیٹھے ہوئے تھے اور ان کے سامنے دو کرسیاں لگی ہوئی تھیں۔ ایک بڑی بڑی مونچھوں والا شخص ان کے پاس موجود تھا۔ ایک کتا بھی ادھر ادھر ٹہل رہا تھا۔ ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں کئی سوالات کئے۔ وہ ایک ایک کرکے جواب دیتے رہے۔ میں نے پھر ان سے کہاکہ آپ جب جنتا پارٹی کے زمانے میں وزیر خارجہ تھے تو آپ نے پاسپورٹ حاصل کرنے کی ایسی سہولت پیدا کردی کہ مسلمانوں کو جو پاسپورٹ ملنے میں بری دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا تھا اس میں کمی آگئی۔ اس کیلئے مسلمان آپ کے بہت شکر گزار ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ’’ہم نے انسانیت کے ناطے ایسا کیا، مسلمان کیلئے نہیں‘‘۔ 
اس کے بعد میں نے ان سے پوچھا کہ بابری مسجد کے تنازعے کو آپ کیسے ختم کرنا چاہتے ہیں؟ 
اس پر جو ان کا انداز ہوتا تھا ہاتھ ہلاکر بات کرنے یا تقریر کرنے کا جو انداز اپناتے تھے، چہرہ کو پوری حرکت میں لاتے ہوئے کہاکہ ’’بابری مسجد کا مسئلہ بہت آسان ہے۔ وہ کوئی مشکل مسئلہ نہیں ہے، اسے حل کیا جاسکتا ہے‘‘۔ کیسے؟ میں نے پوچھا ۔
انھوں نے کہاکہ ’ہندو بڑا بھائی ہے اور مسلمان چھوٹا بھائی۔ چھوٹا بھائی اپنے بڑے بھائی کو مسجد دیدے اور بڑا بھائی اسے پھر لوٹا دے۔ مسئلہ کا یہی آسان حل ہے‘‘۔ 
میں نے کہاکہ آپ کے جواب سے تو کوئی بڑے بڑے سوالات پیدا ہوتے ہیں، مثلاً کیا آپ نے اس طرح مسئلہ حل کرنے کیلئے اپنی سیاسی جماعت بی جے پی اور آر ایس ایس سے صلاح و مشورہ کرلیا ہے کہ آپ ایسا کرنا چاہتے ہیں اور وہ لوگ راضی ہیں؟ ’’میں نے ابھی بات نہیں کی ہے، مگر بات کرنے کا ارادہ ہے، بشرطیکہ مسلمان بھی راضی ہوجائیں‘‘۔ انھوں نے جواب دیا ۔ میں نے پھر کہاکہ اگر نہ اس کیلئے مسلمان راضی ہوں اور دوسرا فریق جو رام مندر کی تعمیر کرنا چاہتا ہے وہ بھی نہ راضی ہو تو پھر کیا اس کا حل ہوگا؟‘‘
اس پر انھوں نے کہاکہ ’’رام مندر کا معاملہ آستھا (عقیدہ) کا ہے، یہ عدالت میں حل نہیں ہوسکتا کیونکہ عدالت میں حل ہونے سے معاملہ باقی رہے گا‘‘؟ 
پھر میں نے پوچھا کہ کیا کسی جمہوری نظام میں جہاں عدلیہ ہو وہاں کسی تنازعے کا حل عدلیہ نہیں کرسکتی تو پھر عدلیہ کی توہین نہیں ہے؟ اور اگر ایک فریق عدلیہ کو اپروچ کرے گا تو پھر تو مقدمہ چلے گا ۔ ایسی صورت میں جب مسلمان کہہ رہے ہیں کہ عدالت کا فیصلہ ان کیلئے قابل قبول ہے۔ آخر دوسرا فریق عدلیہ پر کیوں بھروسہ نہیں کرنا چاہتا؟ 
’’میں نے پہلے ہی کہاکہ یہ ایسا مسئلہ نہیں ہے جو عدلیہ اس کا فیصلہ کرسکے کیونکہ یہ آستھا کا مسئلہ ہے‘‘ انھوں نے جواب دیا۔ 
میں نے کہاکہ اگر ہر طاقتور فریق یہی کہے کہ آستھا یا عقیدہ کا مسئلہ ہے تو پھر تو قانون نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہے گی، جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا معاملہ ہوگا ۔ Might is Raight کا راستہ طاقتور اپنائے گا۔ ایسی صورت میں قانون کی بالا تری کیسے قائم رہے گی؟ نہیں، نہیں سب معاملہ میں ایسا انداز نہیں اپنا یا جاسکتا ہے؟‘‘ انھوں نے جواب میں کہا۔ میرا اس سلسلے میں ایک سوال اور ہے کہ اگر آپ کی تجویز پر عمل ہو۔ چھوٹا بھائی بڑے بھائی کو مسجد دیدے اور بڑا اسے واپس نہ کرے تو کیا ہوگا؟ اور دوسری بات یہ ہے کہ کیا جمہوری نظام میں عدلیہ کو نظر انداز کرکے ایسا طریقہ اپنایا بھی جاسکتا ہے؟ 
جواب میں انھوں نے کہاکہ ’’جب معاہدہ ہوجائے گا تو پھر کیوں نہیں بڑا بھائی واپس کرے گا کیوں نہیں اپنایا جاسکتا ہے؟ 
’’تو پھر عدالتی نظام کی نا قدری نہیں ہوگی؟‘‘ میں نے سوال کیا ’’ہرگز نہیں ہوگی‘‘ انھوں نے جواب دیا۔ 
میں نے پوچھا کہ اگر کلکتہ یا کسی اور شہر میں اس تنازعہ پر مذاکرہ یا سمینار ہو اور آپ کو دعوت دی جائے تو آپ شرکت کریں گے؟ 
’’میں ضرور شرکت کروں گا‘‘ انھوں نے جواب دیا ۔ 
کئی اور سوالات کے بعد آخر میں میں نے کہا کہ واجپئی صاحب مسلمانوں کو آپ کی جماعت اور آر ایس ایس کی کئی چھوٹی بڑی تنظیموں سے شکایت ہے کہ یہ تنظیمیں فرقہ واریت کو فروغ دیتی ہیں، میں نے کئی تنظیموں کا نام لیا۔ 
جب شیو سینا کا نام لیا تو مسٹر واجپئی نے کہاکہ شیو سینا کو تو ہم لوگوں کو ختم کرنے کیلئے اندرا گاندھی نے بنایا تھا، وہ ہم لوگوں کی تنظیم نہیں ہے۔ باقی تنظیموں کے بارے میں انھوں نے کہاکہ ہوسکتا ہے کہ کبھی غیر ذمہ دارانہ بیان ہوجاتا ہو، مگر مسلمانوں کے اندر بھی تو ایسی تنظیمیں ہیں جو فرقہ پرستانہ بیانات دیتی ہیں ان کو بھی تو نہیں دینا چاہئے۔ 
آخر میں میں نے کہاکہ میں فیض آباد کا رہنے والا ہوں میرے گاؤں سے اجودھیا جہاں بابری مسجد ہے 40/50 کیلو میٹر دور ہے۔ 1949ء سے پہلے کبھی ہندو مسلمان میں کوئی جھگڑا لڑائی سننے کو نہیں ملتا تھا۔ یہ ایک مقامی مسئلہ تھا جسے بی جے پی نے قومی مسئلہ بنا دیا کیا یہ مقامی سطح کا مسئلہ مقامی طور پر حل نہیں ہوسکتا تھا جسے بی جے پی یا آر ایس ایس نے قومی یا ہندو مسلمان کا مسئلہ بناکر ملک کے حالات کو بگاڑنے کی کوشش کی ہے اور حالات بگڑ بھی گئے ہیں۔ 
’’اسے قومی مسئلہ بنانے میں دونوں فرقوں کا ہاتھ ہے، آر ایس ایس یا بی جے پی ہی کو ذمہ دار ٹھہرانا صحیح نہیں ہوگا۔ مقامی سطح پر مسئلہ حل ہوگیا ہوتا تو آج ملک کا ایک بڑا مسئلہ بن کر کیسے ابھر کر سامنے آتا؟ واجپئی جی نے سنجیدہ لب و لہجہ میں جواب دیا، بی جے پی اور آر ایس ایس کا نام لینے کے بجائے ہندو فرقہ کا نا م لیا۔
اٹل بہاری واجپئی اب دنیا میں نہیں رہے۔ اب ان پر بہت کچھ لکھا جائے گا۔ ان کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ نرم لب و لہجہ کے آدمی تھے یقیناًتھے ۔ مگر وہ ایک فرقہ پرست اور فسطائی جماعت سے تعلق رکھتے تھے۔ ظاہر ہے وہ پارٹی کے فیصلے اور نصب العین کے مطابق کام کرتے تھے۔ آر ایس ایس ایک دہشت گرد اور مسلم دشمن جماعت ہے، اس جماعت کی ترقی اور فروغ کیلئے دل و جان سے کام کرتے تھے۔ آر ایس ایس کے بانی کے بی ہیڈ گیوار کے علاوہ گروگولوالکر، ویر ساورکر ، پنڈت دین دیال اپادھیائے، شیاما پرساد مکھرجی جو مسلمانوں کے خلاف زہر اگلتے تھے، واجپئی جی کے بھی گرو تھے۔ 
گزشتہ روز نریندر مودی نے واجپئی جی کے بارے میں بیان دیا کہ واجپئی جی ان کے آئیڈیل تھے اور ان کیلئےInspiring Personality (متاثر کن شخصیت) تھے۔ 
آج ’دی ٹیلیگراف ‘ کے صفحہ اول پر اٹل بہاری واجپئی کے ساتھ نریندر مودی کی دو تصویریں شائع ہوئی ہیں۔ ایک تصویر میں مودی جی کا چہرہ بجھا بجھا سا ہے، جبکہ دوسری تصویر میں چہرہ پر مسکراہٹ پھیلی ہوئی ہے۔ پہلی تصویر اس وقت کی ہے جب واجپئی جی نے کہا تھا کہ مودی کو راج دھرم کا پالن (احترام) کرنا چاہئے اور دوسری تصویر اس وقت کی ہے جب انھوں نے مودی کی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے کہاکہ مودی جی گجرات کی انتخابی مہم کی سربراہی کریں گے۔ 
جب گجرات فساد کی آگ میں جل رہا تھا اور مسلمانوں کا قتل عام ہورہا تھا تو واجپئی کے دوست وزیر دفاع جارج فرنانڈیز نے دس پندرہ روز کے بعد فوج بھیجی۔ اس طرح دیکھا جائے تو مسلمانوں کو ہراساں اور پریشان کرنے میں بی جے پی اور آر ایس ایس کے نیچے سے اوپر تک کے لوگوں کا ہاتھ معلوم ہوتا ہے۔ اس میں واجپئی جی کو مستثنیٰ قرار دینا ، میرے خیال سے خلاف واقعہ ہے۔ ایسے لوگ اس حقیقت کو نظر انداز کرتے ہیں کہ واجپئی اسی فلسفہ اور نظریہ کے پرچارک، سپاہی اور سردار تھے، جو بی جے پی اور آر ایس ایس کا نظریہ اور فلسفہ ہے اس سے متاثر تھے اور آر ایس ایس کی ساکھاؤں میں جاتے تھے۔ بہت سے لوگ واجپئی جی کو اڈوانی سے خطرناک سمجھتے ہیں کیونکہ اڈوانی منہ پھٹ تھے، جبکہ واجپئی جی زہریلی باتوں کو ہنرمندی اور سلیقہ سے پیش کرتے تھے، جس کا اثر کچھ زیادہ ہی ہوا کرتا تھا۔زہر کو اگر تریاق بناکر پیش کیا جائے تو دھوکہ کھانے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے۔ اڈوانی کی ننگی جارحیت تھی، جبکہ واجپئی جی کی جارحیت زیباترین اور جدید ترین لباس میں تھی جو زیادہ متاثر کن اور خطرناک تھی۔ 

E-mail:[email protected]

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

شیر
گزشتہ مضمونarkaane tawaaf
اگلا مضموننعمت کی ناقدری

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here