مکروہات احرام کا بیان

0
1781
All kind of website designing
مکروہات احرام کا بیان
قسط نمبر (24)
تصنیف:
حضرت مولانا محمد منیر الدین  جہازی نور اللہ مرقدہ بانی و مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ
مسئلہ: بدن سے میل دور کرنا ، سر داڑھی اور بدن کو صابون وغیرہ سے دھونا مکروہ ہے۔ (ہدایہ)
مسئلہ: بالوں میں کنگھی کرنا یا اس کو اس طرح سے کھجلاناکہ بال یا جوں گر پڑے، مکروہ ہے۔ اس طرح کھجلانا کہ بال یا جوں نہ گرے جائز ہے ۔ اگر بال گرنے کا ڈر نہ ہو تو زور سے بھی کھجلاسکتا ہے۔
مسئلہ: داڑھی میں خلال کرنا بھی مکروہ ہے، اگر کرے تو اس طرح کہ بال نہ گرے۔
مسئلہ: لنگی کے دونوں پلوں کو آگے سے سینا مکروہ ہے ۔ اگر کسی نے ستر عورت کی حفاظت کے لیے سی لیا تو دم واجب نہ ہوگا، اس لیے کہ یہ بدن کی ہیئت پر سلی ہوئی نہیں ہے۔
مسئلہ: چادر میں گرہ دے کر گردن پر باندھنا ، چادر اور لنگی میں گرہ لگانا یا سوئی اور پن وغیرہ لگانا، تاگے یا رسی سے باندھنا مکروہ ہے۔
مسئلہ: خوشبو کو چھونا یا سونگھنا، خوشبو والے کی دوکان پر خوشبو سونگھنے کے لیے بیٹھنا، خوشبو دارمیوہ اور خوشبو دار گھاس سونگھنا اور چھونا مکروہ ہے۔ اگر بلا ارادہ خوشبو آجائے تو کچھ حرج نہیں۔
مسئلہ: سر اور منھ کے علاوہ اور بدن پر بلا وجہ پٹی باندھنا مکروہ ہے ۔ ضرورت کے وقت باندھ سکتا ہے ۔
مسئلہ: کعبہ کے پردہ کے نیچے اس طرح کھڑا ہونا کہ منھ کو یا سر کو لگے مکروہ ہے ۔ اگر سریا منھ کو نہ لگے تو جائز ہے ۔
مسئلہ: لنگی میں نیفہ موڑ کر کمربند ڈالنا جیسا کہ پاجامہ میں کرتے ہیں ، مکروہ ہے۔
مسئلہ: ناک، تھوڑی اور رخسار کو کپڑے سے چھپانا مکروہ ہے ۔ ہاتھ سے چھپانا جائز ہے۔
مسئلہ: تکیہ پر منھ کے بل لپٹنا مکروہ ہے ۔ سر یا رخسارے کا تکیہ پر رکھنا جائز ہے ۔
مسئلہ: خوشبو دار کھانا بلا پکا ہوا مکروہ ہے ۔ خوشبو دار پکا ہوا کھانا مکروہ نہیں۔
مسئلہ: اپنی عورت کی شرمگاہ شہوت سے دیکھنا مکروہ ہے۔
مسئلہ: چوغہ اور قبا وغیرہ کو صرف کندھوں پر ڈالنا بھی مکروہ ہے، اگرچہ ہاتھ آستینوں میں نہ ڈالے ہوں۔ ہاتھ آستینوں میں ڈالنے سے جنایت لازم آئے گی۔
مسئلہ: احرام باندھنے کے بعد دھونی دیا ہوا کپڑا پہننا مکروہ ہے۔
مباحات احرام کا بیان

ضرورت کی وجہ سے ٹھنڈے یا گرم پانی سے غسل کرنا جائز ہے۔ (ہدایہ)
عن ابی ایوبؓ ان النبی ﷺ کانَ یغسِلُ رأسَہُ وھو محرِمٌ۔ (متفق علیہ)
حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ احرام کی حالت میں سر دھوتے تھے۔
سر کا بال اس طرح دھونا کہ بال نہ ٹوٹے بالاتفاق جائز ہے، لیکن خطمی وغیرہ سے دھونے سے اما م صاحب کے نزدیک دم واجب ہے اور صاحبین کے نزدیک صدقہ ۔ (فتاویٰ قاضی خان)
حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ حاجی کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :
أشعث التفل(ابن ماجہ)
جن کا بال پراگندہ ہو، خوشبو نہ لگائے۔ شعث کے معنی بال کے پراگندگی کے اور تفل کے معنی ترک خوشبو کے ہیں ، یعنی تیل خوشبو ترک کرے صابون وغیرہ سے بال کو صاف نہ کرے۔ (ہدایہ)
مسئلہ: ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے یا گردوغبار دور کرنے کے لیے نہانا جائز ہے ، مگر میل دور نہ کرے۔ پانی میں غوطہ لگانا، حمام میں داخل ہونا، کپڑا پاک کرنا، انگوٹھی پہننا، ہتھیار باندھنا، دشمن سے شریعت کے مطابق جنگ کرنا جائز ہے۔
مسئلہ: ہمیانی (تھیلی) اور پیٹی لنگی کے اوپر یا نیچے باندھنا جائز ہے ، اگرچہ اس میں اپنا یا کسی دوسرے کا روپیہ ہو۔ (ہدایہ)
مسئلہ: گھر یا خیمے کے اندر داخل ہونا ، چھتری لگانا، شغدف و عماری میں بیٹھنا، ریل ، موٹر میں بیٹھنا، یا کسی اور چیز کے سایہ میں بیٹھنا جائز ہے۔
عن ام الحصین قالتْ: رأیتُ أسامۃ و بلالا، احدھما اخذَ بخطامِ ناقۃِ رسولِ اللّٰہِ والاٰخرُ رفَعَ ثوبَہُ یستُرُہُ مِنَ الحرِّ حتّٰی رمیٰ جمرۃَ العقْبَۃِ (رواہ مسلم)
ام حصین بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان دونوں میں سے ایک نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑی اور دوسرے نے اپنا کپڑا اٹھایا، تاکہ آپ ﷺ کو گرمی سے بچائے۔ (اسی طرح سایہ کیے رہے) یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی۔
عالمگیری میں ہے کہ گھر اور محمل کے سایہ میں کچھ حرج نہیں ۔ اور قاضی خان میں ہے کہ خیمہ کے سایہ میں کچھ حرج نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ سایہ میں بیٹھنے میں کچھ حرج نہیں۔ حضورﷺ کے لیے عرفات میں خاص طور سے خیمہ نصب ہوا تھا، جس میں آپ ﷺ آرام کرتے تھے۔
مسئلہ: آئینہ دیکھنا، مسواک کرنا، دانت اکھاڑنا، ٹوٹے ہوئے ناخن کاٹنا، پچھنے لگانا، پڑبال نکالنا، بلا خوشبو کا سرمہ لگانا، ختنہ کرانا، آبلہ کو توڑنا، ٹوٹے ہوئے عضو پر پٹی باندھنا جائز ہے۔
مسئلہ: بال دور کیے بغیر فصد لینا، ہیضہ وغیرہ کا انجشکن لینا اور چیچک کا ٹیکہ لگوانا جائز ہے۔
عن ابن عباسؓ قال: احتجمَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ وھو محرمٌ (متفق علیہ)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احرام کی حالت میں سینگی لگوائی ہے۔
عالمگیری میں ہے کہ سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور لباب میں ہے کہ جب کہ بال دور نہ کرے۔ اور در مختار میں ہے کہ بال کے ازالہ کی صورت میں دم واجب ہوگا۔ اسی سے انجکشن اور ٹیکہ کا حال معلوم ہوگیا۔
مسئلہ: لنگی میں روپیہ یا گھڑی کے لیے جیب لگانا جائز ہے ۔
مسئلہ: سر اور منھ کے علاوہ دوسرے بدن کو ڈھانکنا، کان، گردن، پیروں کو چادر، رومال وغیرہ سے چھپانا جائز ہے۔
مسئلہ: جو داڑھی تھوڑی سے نیچے لٹکی ہوئی ہے، اس کو چھپانا جائز ہے۔
مسئلہ: دیگ، طباق، رکابی، چارپائی، سبزہ وغیرہ سر پر اٹھانا جائز ہے۔
مسئلہ: خشکی کے اس شکار کا گوشت کھانا جس کو کسی حلال شخص نے حل میں شکار کیا ہواور اسی نے ذبح کیا ہو، محرم نے کسی قسم کی شرکت نہ کی ہو جائز ہے۔
مسئلہ: اونٹ، گائے، بکری، مرغی، گھریلو بطخ کو ذبح کرنا اور گوشت کھانا؛ سب جائز ہے۔ جنگلی بطخ کا ذبح کرنا، محرم کو جائز نہیں۔
مسئلہ: موذی جانوروں کا مارنا جائز ہے ، جیسے سانپ، بچھو، پسو، چھپکلی، گرگٹ، بھڑ، کھٹمل، مکھی، مردار خور کوا وغیرہ ۔
عن ابن عمرؓ عن النبی ﷺ قال: خمسٌ لاجناحَ علیٰ مَنْ قَتَلَھُنَّ فی الحرمِ والاِحرام، الفارۃُ، والغرابُ، والحداۃُ، والعقربُ، والکلبُ العقورُ۔ (متفق علیہ)
حضرت ابن عمرؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو کسی نے حرم میں یا حالت احرام میں مار ڈالا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے: (۱) چوہا۔ (۲) کوا۔ (۳) چیل۔ (۴) بچھو۔ (۵) کاٹنے والا کتا۔
اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں بچھو کے بجائے سانپ ہے اور غراب کی جگہ میں غراب ابقع ہے یعنی مردار خور کوا۔ (بخاری و مسلم)۔
پہلی حدیث میں بھی کوا سے مرادمردار خور کوا ہے۔
عن ابی سعید الخُدری عن النبی ﷺ قال: یقتلُ المحرمُ السبُعُ العادی۔ (رواہ الترمذی و ابو داود و ابن ماجہ)
ابو سعید خدریؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حملہ کرنے والے درندہ کو مار ڈالے۔
در مختار میں ہے کہ حملہ کرنے والے جانور کے مار ڈالنے میں کچھ نہیں ، جب کہ اس کا دفع کرنا قتل کے سوا ممکن نہ ہو۔ اور اگر قتل کے بغیر اس کا دفع کرنا ممکن ہواور پھر بھی قتل کر ڈالے تو اس پر جزا لازم آئے گی۔
مسئلہ: لونگ، الائچی اور خوشبو دار تمباکو کے بغیر پان کھانا جائز ہے ۔ اور لونگ،الائچی اور خوشبو دار تمباکو ڈال کر پان کھانا مکروہ ہے۔
مسئلہ: ایسا شعر پڑھنا جس میں گناہ کی بات نہ ہوجائز ہے ، ورنہ ناجائز ہے۔
مسئلہ: بدن میں گھی یا چربی لگانا مکروہ ہے۔
مسئلہ: گھی، تیل اور چربی کا کھانا جائز ہے۔
مسئلہ: زخم، یا ہاتھ پاؤں کی بوائی اور پٹھن میں تیل لگانا جائز ہے ، بشرطیکہ خوشبو دار نہ ہو۔
مسئلہ: مسائل اور دینی امور میں گفتگو کرنا جائز ہے۔
مسئلہ: احرام کی حالت میں اپنا یا کسی دوسرے کا نکاح کرنا جائز ہے، لیکن صحبت کرنا جائز نہیں ۔
عن بن عباسؓ ان النبی ﷺ تزوجَ میمونۃَ وھو محرمٌ (متفق علیہ)
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام کی حالت میں نکاح کیا۔
مسئلہ: کپڑوں کی گیٹھری اگر خوب بندھی ہوئی ہے تو اس کا اٹھانا جائز ہے ، ورنہ مکروہ ہے

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here