أخر ہماری اصلاح کیوں نہیں ہورہی ہئے اورہمارے اندر فرما برداری کی صفت کیوں نہیں پیدا ہوررہی ہئے؟؟

0
1121
کبهی کبهی اپنی کم مائےگی.  نادانی. کوتاه فهمی اورقلت علمی کے جهروکے خود کو جهانک کر دیکهتا ہوں اور پهر اپنے آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آج پہلے کے مقابلے مسجدیں زیادہ ہیں مدارس ومکاتب کا زمین کے چپے چپے میں جال بچها ہوا ہئے. علمی مراکز اوردانش گاہوں کی کثرت ہئے. دانشوران علماء خطباء دعاه مصلحین پروفسران دکاتره انجنیرس واعظین اعداد وشمار سے کہیں زیادہ ہیں ہر مسلک اور مذهب کے ودهوان ومفکرین رات ودن جی توڑ کوشش کررہے ہیں خوب جلسوں . سیمیناروں اور ورکشاپس کا انعقاد ہورہا ہئے اس کے باوجود ہماری اصلاح کیوں نہیں ہورہی ہئے؟آخر وجہ کیا ہئے؟ہمارے مسائل حل ہونے اور مشکلات کم ہونے کی بجائے مزید بڑهتے ہی کیوں جا رہے ہیں معلومات اورانفارمیشن نے سارے سابقہ ریکارڈ توڑ دئے ہیں پهر جہالت آسمان باتیں کررہی ہئے.میں دوسروں بات نہیں کرنا چاہتا اپنی اور اپنی ملت کی بات کر رہا ہوں مجهے لگتا ہئے ہمارا دل اخلاص سے عاری ہئے .ہماری سوچ خود پسندی میں مبتلا ہئے.خود نمائی ہمارا مقصد حیات ہوکر رہ گیا ہئے.ہمارا لب ولہجہ داعیانہ .ہمدردانہ.اور ناصحانہ کم اور قاضیانہ.آمرانہ اور آمرانہ زیادہ ہوکر رہ گیا ہئے اصلاح کی ضرورت دوسروں کیلئے زیادہ اور اپنے لئے سمجهنے کے عادی ہوگئے ہیں جب تک ہماری یہ سوچ نہیں بدلے گی ہمارے اور ہماری قوم کے اندر تبدیلی کے آثار بہت کم نظر آتے ہیں .میںاپنے آپ سے بس اتناہی کہوں گا :
“اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغ زندگی.تواگر میرا نہیں بنتا .نہ بن .اپنا تو بن”
                                                        محتاج اصلاح احمد نادر القاسمی  .

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here