امیت شاہ کی چوری اورسینہ زوری کاقصہ

0
866
All kind of website designing

الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوانے کام کیا

عبدالعزیز 

اردو میں یہ مثل مشہور ہے کھسیانے بلی کھمبانوچے اس وقت امیت شاہ کابالکل یہی حال ہے کرناٹک میں اپنے صاحب کے اشارے پر حکومت بنانے کے لئے سب جتن کرڈالے مگرمنہ کی کھانی پڑی اس وقت کھمبا نوچنے میں لگے ہوئے ہی۔ پارٹی کے اندر ان کی شخصیت اس وقت سوالیہ نشان بن چکی ہے جن لوگوں نے کہاتھا کہ میگھالیہ میں جب دو سیٹوں پر جیت کربی جے پی امیت شاہ کی قیادت میں حکومت بناسکتی ہے توکرناٹک میں104 سیٹوں میں کیوں نہیں بناسکے گی؟ مگر کانگریس اورجے ڈی ایس کے لیڈروں نے امیت شاہ اورنریندرمودی کی ساری کوششوں پرپانی پھیر دیا اوران کے کرناٹک کے لیڈریدورپا کو اسمبلی میں جذباتی تقریرکرکے نہایت مایوسی کے ساتھ اپنے مستعفی ہونے کااعلان کرناپڑا۔ لڑے بغیر میدان چھوڑنے پرمجبور ہوئے۔پارٹی کے اندر جب چہ میگوئیاں بڑھ گئیں تو اپنی صفائی اوراپنی ناکامی کو کامیابی بتانے کے لئے امیت شاہ کو ایک عدد پریس کانفرنس کرنی پڑی۔ اپنی چوری بلکہ ڈکیتی کوعوام کے منڈیٹ(حکم، فرمان) کااحترام بتایا۔ مگرجب ان پرسوالوں کی بوچھار کردیاگیا توکھسیانی بلی کیاکرتی جوسمجھ میں آیا جیسے تیسے پریس کانفرنس کوانہیں ختم کرناپڑا۔ جب شاہ تشدد نے کہاکہ کانگریس اورجے ڈی ایس کی حکومت زیادہ دنوں تک نہیں رہ سکے گی اس پرجب ان سے سوال کیاگیا کہ کیاآپ اسے گرانے کی ہرممکن کوشش کریں گے ؟ اس پران کاجواب تھا دونوں غیرمقدس اتحاد قائم نہیں رہ سکے گا مگراس کاجواب دینے سے انکار کیاکہ وہ حکومت کو گرائیں گے یانہیں اس کامطلب وہ صاف تھا کہ وہ اپنی چوری اورسینہ جوری سے باز نہیں آئیں گے ۔ انگریزی اخبارات اورمیڈیا نے پوچنگ(Poaching) یعنی غیرقانونی شکار کی اصطلاح دی ہے مال اورزیور زیورات کی چوری یاڈکیتی کو تو چوری یاڈکیتی کہنے میں کسی کوکوئی تامل نہیں لیکن کسی قانونی ادارے کے ممبر کوزور زبردستی یاروپے پیسے کی لالچ دے کراپنے گھر یاخیمے میں شامل کرنے کو غیرقانونی شکار کی تہذیب کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے تاکہ انسانوں کی چوری، یاان پر ڈاکہ زنی کو چوری اورڈکیتی کی اصطلاح سے احتراز کیاجاسکے۔ شاہ بھاجپا نے اس غیرقانونی شکار کے بارے میں کہاکہ اگردونوں پارٹیوں نے انہیں بند دروازے میں نہیں رکھاہوتاتو وہ حکومت بنانے یعنی چور دروازے سے حکومت بنانے میں کامیاب ہوجاتے حالانکہ اپنے ایک فردوجو بھائی ولاجے گورنر کہنا گورنر کی توہین معلوم ہوتی ہے اپنی غیرقانونی اورغیردستوری حرکت کرنے میں کسی قسم کی کمی نہیں کی پھر بھی گورنر کو بھی اپنی حرکت پرنادم ہونے کے بجائے اسے دستوری اورقانونی طریقہ بتایا ایک بی جے پی سیاست داں نے کہاہے کہ امیت شاہ ایک ایسے آدمی نہیں ہیں جو چھوٹا موٹا جھوٹ پراکتفا نہیں کرتے ہوں اورآسانی سے اپنی ہار کوتسلیم کرنے والوں میں نہیں ہیں وہ ہار کو بھی جیت سے تعبیر کرتے ہیں ۔ شاہ نے کہاکہ یہ بات میڈیا میں عام طورپر آرہی ہے کہ جب ان کے پاس اکثریت نہیں تھی تو آخر کیو ں حکومت بنانے پرمصرتھے اورکیوں ہرہتھکنڈہ استعمال کررہے تھے۔اس پرموصوف نے دید ہ دلیری سے کہاکہ اگروہ ایسا نہیں کرتے توعوام کی خواہش یا فرمان کے خلاف کام کرتے۔ آگے فرمایا کہ ان کی پارٹی توصرف سات آٹھ سیٹوں سے پیچھے رہ گئی 13 سیٹوں پربہت کم ووٹوں سے ہاری ہے۔ جب پیچھے رہ گئی تویہ کہہ کر آگے ہوجائے گی کہ 13 سیٹوں پر وہ بہت کم ووٹوں سے ہاری ہے۔ اسی کو کہتے ہیں سینہ جوری۔ شاہ نے یہ بھی کہاکہ ان کی سمجھ میں یہ بات نہیںآرہی ہے کہ کانگریس کیوں کر فتح کاجشن منارہی ہے جب کہ عوام نے اسے مسترد کردیا ہے۔ جب شاہ جی سے پوچھا گیا کہ آپ کو یاآپ کی پارٹی گوا، منی پور، اورمیگھالیہ میں عوام نے مسترد کردیا تھا اورکانگرس سب سے بڑی پارٹی بن کرابھری تو وہ آپ کے گورنر نے کانگریس کو حکومت بنانے کاموقع کیوں نہیں دیا اس پرامیت شاہ کو سفید جھوٹ بولنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا، موصوف نے فرمایاکہ کانگریس نے حکومت بنانے کا دعویٰ ہی نہیں کیاتھا۔ یہ اتنا بڑا جھوٹ تھا کہ کہیں سما نہیں سکتا ہے۔ کانگریس کاآج تک الزام ہے کہ اسے گورنر نے بڑی پارٹی ہونے کے باوجود حکومت بنانے کی دعوت نہیں دی۔ جب شاہ جی سے پوچھا گیا کہ بی جے پی اورپی ڈی پی جموں اورکشمیر میں الیکشن کے وقت ایک دوسرے سے الیکشن میں نبردآزما رہیں ایک دوسرے پرکیچڑ اچھالتی رہیں گالی گلوج کرتی رہیں پھر بھی الیکشن کے بعد ایک ہوگئیں۔ اس پرشاہ جی نے کہاکہ پی ڈی پی بڑی پارٹی بن کرابھری اوربی جے پی نے حکومت سازی میں اس کاساتھ دیا۔ یہی کام کرناٹک میں کانگریس اورجے ڈی ایس نے کیا تو دونوں کارشتہ بی جے پی کی نظر میں غیرمقدس رشتہ یااتحاد (Unholly alliance) ہوگیا۔ بے شرمی کی حد ہوتی ہے مگربی جے پی یاان کے لیڈروں کے پاس جب شرم و حیا ہی نہیں ہے تو وہ جو چاہیں کہیں اورجوچاہیں کریں ’’بے حیاباش ہرچہ خواہی کن‘‘ شاہ نے ہار کو جیت کیسے بتایا ذرا ملاحظہ فرمائیے ’کرناٹک میں ہماری جیت ہوئی ہے جس سے مودی کی مقبولیت میں اضافہ ہواہے اور2019 میں پہلے سے بھی بڑی جیت ہوگی۔
جب موصوف سے پوچھا گیا کہ کرناٹک میں بی جے پی 2008 میں110 سیٹوں پرکامیاب ہوئی جب مودی بالکل کہیں بھی منظر یا پس منظر میں نہیں تھے اب مودی کی موجودگی اوربھاشن کے باوجود بی جے پی میں صرف 104 سیٹوں پرسمٹ گئی آخر کیاوجہ ہے اورکیسے مودی کی مقبولیت بڑی ہے ذرا فرمائیے۔ اس پر جواب ملاحظہ فرمائیے اس وقت کانگریس آج کی طرح نہیں تھی جیسے روپے پیسے استعمال کررہی ہے اورقوم دشمن پارٹیاں جیسے ایف آئی اورایس ڈی ایف کے ساتھ ہے۔شاہ جی پہلے تو پریس کانفرنس کے ذریعہ پبلک کو سمجھاتے اوراپنے لوگوں کو مطمئن کرتے مگر انہیں معلوم نہیں تھا کہ ان کے سامنے نامہ نگار بیٹھے ہوں گے کوئی پارٹی کے کارکرتا(کارکن) نہیں ہوں گے کہ ان کی تقریر چپ چاپ سن کرچلے جائیں گے یہاں تو سوال و جواب کامعاملہ تھا جس میں ہرجواب میں ان کی چوری ظاہر ہوجاتی تھی اورسفید جھوٹ لوگوں کی سمجھ میں آجاتاتھا۔ اس وقت سیاست کے میدان میں مودی اورشاہ کی جوڑی نے نہ صرف سیاست میں گندگی کو بڑھا یا ہے بلکہ ہر وہ ادارہ جسے قانونی یا دستوری ادارہ کہاجاتاہے اس کے معیار اوروقار کومجروح کیاہے اس کی ایک ہی وجہ ہے کہ یہ دونوں کی قیادت بی جے پی نے محض اسی لئے مانا کہ یہ ہرکام کو الٹا سیدھا کرسکتے ہیں۔ جب تک بی جے پی والے ان دونوں کی ناکامی اورگندگی کو تسلیم نہیں کریں گے ہندستان کی جمہوریت خطرے میں رہے گی اب یہ کام اپوزیشن کا ہے کہ متحد اورمنظم ہوکر سیاست سے اس کیچڑ کو اٹھاپھینکے جس طرح کرناٹک میں پھینکنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

E-mail:[email protected]

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here