علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں سنٹر فار ایکسیلنس کے قیام کیلئے حکومت ہند سے 4؍کروڑ روپئے کی گرانٹ منظور

0
748
Prof Absar Ahmad wth a sample of biosynthesized silica particles
All kind of website designing

علی گڑھ، 12؍مئی: حکومت ہند کے بایو ٹکنالوجی محکمہ نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) میں سنٹر فار ایکسیلنس آن ٹرانسلیشنل ریسرچ آن بایو انسپائرڈ نینو میٹریلس اینڈ ڈرگس فرام اِنڈوفائٹس‘‘ کے قیام کے لئے چار کروڑ روپئے کی گرانٹ منظور کی ہے۔ اے ایم یو کا انٹرڈسپلینری نینوٹکنالوجی سنٹر (آئی این سی) اس سلسلہ میں نوڈل لیب کے طور پر کام کرے گا جہاں بایو نینو میٹریل پر تحقیق کی جائے گی۔ آئی این سی کے ڈائرکٹر پروفیسر ابصار احمد اس پانچ سالہ پروجیکٹ کے کوآرڈنیٹر اور پرنسپل انویسٹی گیٹر ہوں گے۔ یہ پروجیکٹ ملک کے نامور قومی اداروں کے محققین کے اشتراک و تعاون کے ساتھ انجام پذیر ہوگا جس میں ایس جی پی جی آئی ، لکھنؤ کے نیوکلیئر میڈیسن شعبہ کے سربراہ پروفیسر سنجے گمبھیر، نیشنل کیمیکل لیباریٹری ، پونے کے پرنسپل سائنسداں ڈاکٹر دھناسیکرن شنموگم اور اسی ادارے کے سینئر سائنسداں ڈاکٹر مہیش کلکرنی شامل ہیں۔ پروفیسر ابصار احمد نے بتایا کہ اس پروجیکٹ کے تحت نینوذرات کے ماس پروڈکشن ، پودوں میں نینو اجزاء کا مطالعہ، نینو ادویات کی تیاری، خلیوں اور ریشوں کے اندر نینوذرات کا تجزیہ سمیت دیگر متعلقہ موضوعات کا مطالعہ کیا جائے گا۔ انھوں نے کہاکہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کے تعاون و سرپرستی، اساتذہ اور طلبہ کی محنت سے انٹرڈسپلینری نینوٹکنالوجی سنٹر جلد ہی ملک میں ممتاز نینو ٹکنالوجی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ کا درجہ اختیار کرے گا۔ قابل ذکر ہے کہ پروفیسر ابصار احمد نے بایو نینو سائنس و ٹکنالوجی میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں۔ انھیں ٹاٹا اِنّوویشن فیلوشپ، واسوک (VASVIK) ایوارڈ، این سی ایل ریسرچ فاؤنڈیشن سائنسداں ایوارڈ، مٹیریئلس ریسرچ سوسائٹی آف انڈیا میڈل اور ڈاکٹر شوم میموریل ایوارڈ مل چکے ہیں۔ قومی و بین الاقوامی شہرت کے حامل جرائد میں ان کے 110؍سے زائد تحقیقی مقالے شائع ہوچکے ہیں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here