’’مسلمان عوامی یا خالی جگہوں پر نماز ادا نہیں کرسکتے‘‘  ہریانہ کے وزیر اعلیٰ اور ان کے ایک وزیر کا شاہی فرمان 

0
666
All kind of website designing

عبدالعزیز 

آر ایس ایس اور اس کی تنظیمیں اسلام اور مسلم دشمنی کی بنیاد پر قائم ہوئی ہیں۔ وہ مسلمانوں اور اسلام کی دشمنی کئے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی ہیں۔ انھیں اپنی زندگی باقی رکھنے کیلئے ضرور ی ہے کہ مسلمانوں کو اذیت پہنچاتے رہیں اور اسلام کی ہر چیز سے اپنی نفرت اور بیزاری کا اظہار کرنے میں کسی قانون یا آئین کا ذرا بھی پاس و لحاظ نہ رکھیں مسلمانوں کے کھانے پینے کی تمام چیزوں سے نفرت اور شعار اسلام سے بیزاری ان کا مطمحِ نظر ہے۔ 
ہریانہ میں مسلمان ایک کھلی اور خالی جگہ میں جمعہ کی نماز پڑھتے تھے ۔ نماز جمعہ زیادہ سے زیادہ ایک گھنٹہ میں ختم ہوجاتی ہے۔ ایسی جگہ نماز پڑھی جاتی تھی جہاں سے کسی کے گزرنے یا آنے جانے کا معاملہ نہیں تھا۔ مگر جمعہ کی نماز کے موقع پر سنگھ پریوار والوں نے نہ صرف ہنگامہ آرائی کی بلکہ تشدد اور غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا۔ اگر چہ اس سلسلے میں چند افراد گرفتار کرلئے گئے ہیں مگر فرقہ پرستانہ مظاہرہ جاری ہے۔ سنیکتی ہندو سنگھرش سمیتی کے تحت آر ایس ایس کی پیدا کردہ کئی تنظیمیں نماز کی ادائیگی کے خلاف سرگرم عمل ہیں۔ 
ہریانہ کے بدنام زمانہ وزیر اعلیٰ موہن لال کھٹر نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مسلمان مسجدوں اور عید گاہوں کے علاوہ کسی مقام پر نماز نہ پڑھیں۔ ان کے ایک اور وزیر ہیں جو اپنی شرات اور بدمعاشی کیلئے مشہور ہیں ان کا نام انیل وِیج ہے۔ وہ الٹا پلٹا بیان دینے کیلئے جانے جاتے ہیں۔ وہ اپنے وزیر اعلیٰ سے بھی دو قدم آگے بڑھ کر اپنے بیان میں کہا ہے کہ حکومت کسی بھی ادارہ یا جماعت کو کسی خالی یا کھلی جگہوں میں نماز پڑھنے کی اجازت جگہ کو قبضہ کرنے کیلئے نہیں دے سکتی۔ 
کھٹر اور ویج دونوں کو ہندستان کے آئین اور دستور کا پتہ ہونا چاہئے تھا کہ ہندستان ایک ایسا ملک ہے جہاں تکثیری معاشرہ ہے اور مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں انھیں اپنے اپنے مذہب اور عقیدہ کو ماننے، عمل کرنے اور پرچار کرنے کا حق ہے۔یہاں مختلف مواقع پر بیساکھی، گنپتی سے لے کر جگناتھ، رام نومی، دیوالی، ہولی ، درگا پوجاوغیرہ کا اہتمام سڑکوں پر کیا جاتا ہے اور سڑکوں سے مورتیوں کو بھسانے کیلئے لے جاتے ہیں۔ ان کے علاوہ بھی بہت سے مذہبی جلسے جلوس مختلف مذاہب کی طرف سے منعقد ہوتے ہیں۔ یہ سب جو ہوتا ہے نہایت شور و غوغا کے ساتھ۔ اس کے برعکس نماز پر امن طریقے سے ادا کی جاتی ہے کسی کو تکلیف پہنچائے بغیر۔ اگر نماز کو خالی جگہوں میں پڑھنے سے روکنے پر پابندی ہوگی تو مذکورہ تمام چیزوں پر پابندی عائد کرنی ہوگی یہ باتیں ان فرقہ پرستوں کے ذہن میں نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ آئین ان کے گھر کی لونڈی ہے۔ ان کیلئے کوئی آئین اور قانون نہیں ہے۔ آئین اور قانون غیروں کیلئے جو ہندو مذہب سے تعلق نہیں رکھتے۔ 
ہندستان کے دستور میں ہر مذہب کے لوگوں کو اپنے عقیدہ کے مطابق عمل کرنے اور تبلیغ کرنے کی اجازت ہے۔ البتہ دوسروں کو تکلیف پہنچائے بغیر اپنے مذہبی فرائض کو پورے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اگر ہریانہ حکومت صرف مسلمانوں کو نماز پڑھنے سے روکے گی تو اسے دیگر مذاہب کے مذہبی عمل پر پابندی عائد کرنی ہوگی جو دستور ہند کو بدلے بغیر ممکن نہیں ہے۔ 
آر ایس ایس کے تربیت یافتہ جو لوگ ہیں وہ مسلمانوں سے اور ان کی ہر چیز سے کھلی دشمنی رکھتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ مسلمان کوئی ایسا کام نہ کریں جو قانون کے دائرہ میں نہ آتا ہو۔ اگر انتظامیہ کسی چیز میں محض مذہب کی بنیاد پر رکاوٹ ڈال رہی ہو تو عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کی ضرورت ہے۔ عدالتی فیصلہ کو کھٹر کو بھی ماننا ہوگا اور ویج کو بھی تسلیم کرنا ہوگا اور ان کی جو تشدد پسند یا عسکری تنظیمیں ہیں ان کو بھی مانے بغیر کوئی چارہ نہیں گا۔ قانون شکنی اور تشدد زیادہ دنوں تک چلنے والی چیز نہیں ہوتی ہے ۔ جب تک مرکز اور ریاستوں میں سنگھ پریوار کی حکومتیں ہیں یہ سب چیزیں شدت کے ساتھ ہوتی رہیں گی تاکہ مسلمان انہی مسائل سے جھوجھتے رہیں اور دیگر لوگوں کا بھی ذہن بنیادی مسائل سے ہٹاکر غیر بنیادی مسائل کی طرف منتقل ہوتا رہے۔ اس وقت خاص طور سے بی جے پی اور آر ایس ایس کی دیگر ذیلی تنظیمیں غیر ضروری مسائل (Issueless) کو اٹھا رہی ہیں تاکہ نریندر مودی نے 2014ء میں لوک سبھا کے الیکشن کے موقع پر جو وعدوں کا انبار لگا دیا تھا جس میں سے ایک بھی وعدہ پورا نہ کرسکے اس کے بارے میں کوئی سوال نہ اٹھائے؛ حالانکہ اپوزیشن پارٹیاں اور میڈیا کا کچھ حصہ تیار بیٹھا ہے کہ ان سے جب بھی موقع ملے ان کے جھوٹے اور گمراہ کن وعدوں کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ 
[email protected] 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here