طلبہ کا مظاہرہ کسی بھی طریقہ سے محمد علی جناح کی تصویر سے متعلق نہیں: یونیورسٹی انتظامیہ

0
727
All kind of website designing

پروفیسر طارق منصور نے اپنی اہلیہ ڈاکٹر حمیدہ طارق کے ساتھ دوسری مرتبہ زخمی طلبہ سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی، آفیسرس ایسوسی ایشن، گروپ سی، ایم ٹی ایس یونین سمیت مختلف تنظیموں نے کی لاٹھی چارج اور ضلع انتظامیہ کے طرز عمل کی مذمت، ہندوجاگرن منچ کے شہ زوروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ، جوڈیشیل انکوائری پر زور

علی گڑھ، 4؍ مئی :علی گڑھ مسلم یونیورسٹی نے واضح کیا ہے کہ یونیورسٹی طلبہ کا پُر امن مظاہرہ چند ہندو وادیوں کے یونیورسٹی کیمپس میں زبردستہ داخلہ اور اس کے بعد رونما ہونے والے پُر تشدد واقعہ کی جوڈیشیل انکوائری اور طلبہ کی جانب سے02؍مئی 2018کو دئے گئے میمورنڈم میں درج مطالبات سے متعلق ہے۔یونیورسٹی نے مزید واضح کیا ہے کہ طلبہ کا مظاہرہ کسی بھی طریقہ سے محمد علی جناح کی تصویر سے متعلق نہیں ہے۔ دوسری جانب علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے اپنی اہلیہ ڈاکٹر حمیدہ طارق کے ساتھ دوسری مرتبہ جواہر لعل نہرو میڈیکل کالج میں گزشتہ دن پُر تشدد کارروائی میں زخمی طلبہ سے ملاقات کرکے ان کی خیریت دریافت کی اور معالجین سے ان کا حال جانا۔واضح ہو کہ یہ طلبہ گزشتہ دنوں اس وقت پولیس کے لاٹھی چارج میں زخمی ہوگئے تھے جب وہ یونیورسٹی کیمپس میں زبردستی داخل ہونے والے شر پسند عناصر اور ان کے ذ ریعہ کیمپس کے امن کو برباد کرنے کے لئے تھانہ سول لائنس میں ایف آئی آر درج کرانے جا رہے تھے۔وائس چانسلر نے بابِ سید پر اپنے مطالبات کی حمایت میں مظاہرہ کر رہے طلبہ سے بھی ملاقات کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی آفیسرس ایسوسی ایشن نے علی گڑھ مسلم یونیورسٹی (اے ایم یو) کے ان بے قصور طلبہ پر لاٹھی چارج کئے جانے کی شدید مذمت کی ہے جو ’ہندو جاگرن منچ‘ کے شہ زوروں کی غنڈہ گردی کے خلاف پرامن طریقہ سے مظاہرہ کررہے تھے۔ ایسوسی ایشن نے ضلع انتظامیہ کے طرز عمل کی بھی مذمت کی ہے جس نے شہ زور عناصرکو اے ایم یو کیمپس کی طرف بڑھنے اور اشتعال انگیز نعرے لگانے سے روکنا تو دور ، انھیں تحفظ فراہم کیا اور اے ایم یو کے صدر دروازے تک لے کر آئے اور سابق نائب صدر جمہوریہ جناب حامد انصاری کے پروگرام میں رکاوٹ ڈالی۔ 
دریں اثناء آفیسرزایسوسی ایشن کے صدر مسٹر ایس سلطان صلاح الدین نے کہاکہ ایسوسی ایشن اے ایم یو کے طلبہ کو ان کی ہمت اور صبر کیلئے سلام کرتی ہے جنھوں نے لاٹھی چارج کا سامنا کرنے اور ان میں سے کئی ایک کے سنگین طور سے زخمی ہونے کے باوجود صبر کا مظاہرہ کیا ۔ انھوں نے طلبہ سے امید ظاہر کی کہ اے ایم یو میں امن و رواداری کے دشمنوں کے ذریعہ ایسی بدتر صورت حال پیدا کئے جانے پروہ تمام اشتعال انگیزیوں کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کریں گے ۔ ایسوسی ایشن نے حکومت ہند سے اپیل کی کہ وہ امن کے دشمنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے اعلیٰ سطحی جوڈیشیل انکوائری کرائے اور ایسے عناصر کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے، ساتھ ہی ان قصوروار اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی جائے جنھوں نے حملہ آوروں کو پوری آزادی دی اور بے قصور طلبہ پر لاٹھی چارج کیا۔ بھیم متر منڈل کے صوبائی بانی صدر مسٹر سریندر کمار آزاد نے اے ایم یو کے طلبہ یونین ہال میں پاکستان کے بانی محمد علی جناح کی تصویر سے متعلق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پر چڑھائی کرنے والے سیاسی سازشیوں کے عمل کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ متعدد مواقع پر یہ شر پسند عناصر اے ایم یو کو نشانہ بناتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا ہے کہ تقسیمِ ملک کے لئے تنہا محمد علی جناح کو ذمہ دار قرار نہیں دیا جا سکتا یہ قومی سطح کی بحث کا مدّہ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اردو اکیڈمی کے ڈائرکٹر کا خلاصہ واضح کرتا ہے کہ محمد علی جناح کی تصویر ملک کی آزادی سے قبل سے ہی اے ایم یو کے یونین ہال میں لگی ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ طلبہ یونین ہال میں کس کی تصویر لگائیں اس پر کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہئے۔مسٹر آزاد نے کہا ہے کہ وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور کو’’ سنگھی وائس چانسلر‘‘ کہنا تحریک کے پردہ میں ان کے مخالفین کے ذہنی دیوالیہ پن کا مظہر ہے جبکہ پروفیسر طارق منصور دورِ طالب علمی سے ہی سیکولر اقدار پر کاربند ہیں، ان کا خاندان دلتوں کا ہمدرد رہا ہے اور وہ علی گڑھ کی شان ہیں۔
پولیس انتظامیہ کے کاوشوں کو سراہتے ہوئے مسٹر آزاد نے کہا ہے کہ اس کی دانش مندی سے بروز بدھ ایک بڑے حادثہ کو ٹالا جاسکا۔ انہوں نے ضلع انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ محمد علی جناح کی آڑلے کر2019کے پارلیامانی انتخابات سے قبل علی گڑھ کو فرقہ پرستی کی آگ میں جھونکنے والے سیاسی بازی گروں پر لگام لگائی جائے تاکہ شہر میں امن و قانون کی فضا کو پراگندہ ہونے سے بچایا جا سکے۔علی گڑھ مسلم یونیورسٹی گروپ سی، ایم ٹی ایس یونین کے صدر مسٹر سید ذکی احمد نے شدت پسند تنظیموں کے افراد کے اے ایم یو طلبہ یونین کے عہدیداران اور دیگر طلبہ کے ساتھ مارپیٹ اور بد سلوکی کے واقعہ کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اے ایم یو کے خلاف مذکورہ سازش بد نصیبی کے سوا کچھ نہیں۔انہوں نے کہا ہے کہ اے ایم یو کے خلاف ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت اس کی شبیہہ کو داغدار کرنے کی مذموم کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے طلبہ کے مظاہرہ کی بھرپور حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے تمام ملازمین طلبہ کے ساتھ ہیں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here