یہ امت خرافات میں کھوگئی۔۔۔؟

0
740
All kind of website designing

محمد یاسین قاسمی جہازی 

رابطہ9871552408
 

شعبان کی پندرھویں رات کو مختلف پروگراموں میں شرکت کی مناسبت سے دہلی اور نئی دہلی کی سڑکوں پر آمدو رفت ہوئی۔ سڑکوں پر امت مسلمہ کی نئی نسلوں اور جواں خونوں کا جو نظارہ دیکھنے کو ملا، اس سے بے ساختہ علامہ اقبال کا یہ شعر ذہن میں گردش کرنے لگا کہ ؂
حقیقت روایات میں کھو گئی
یہ امت خرافات میں کھوگئی
چند مناظر آپ بھی دیکھتے چلیے
(۱) جو افراد جمعہ تک کی نماز کے لیے بمشکل مسجد میں آتا ہے، وہ آج عشا میں پہلی صف پانے کے لیے اس قدر بے چین نظر آئے کہ جیسے زندگی میں کبھی اس کی پہلی صف اور تکبیر اولیٰ فوت نہیں ہوئی ہے، تو آج کیسے فوت ہونے دیں۔ امت مسلمہ کا یہ ایمانی جذبہ واقعتا قابل قدر و تحسین ہے؛ لیکندیکھا گیا کہ سلام پھیرتے ہی یہ جذبہ کافور ہوگیا اورپہلی صف میں جگہ لینے کے لیے جس شدید خواہش کو دکھایا جارہا تھا ، معا سلام بعد مسجد سے بھاگنے کی بھی اتنی ہی خواہش نظر آئی۔
اب اس جذبہ کو کیا کہیں گے؟ پندرھویں شعبان کی خرافات یا مسلمانوں کا ایمانی جذبہ؟؟؟؟
(۲) جو لوگ عام دنوں میں ایک کلو میٹر بھی پیدل نہیں چلتے، وہ آج کی رات سڑکوں پر مٹر گشتی میں گذارتے نظر آئے۔ جگہ جگہ جمگھٹا بناکر گول گپے مارتے دکھے۔ بعض بعض جگہ یہ بھی دکھا گیا کہ سڑکوں پر غول کی شکل میں چل رہے ہیں اور بلا ضرورت نعرہ تکبیر بلند کرتے جارہے ہیں۔ نعرہ لگاتے ہوئے کچھ اس طرح کے جوش کا اظہار ہورہا ہے، گویا کوئی انہونی ہوگئی ہے۔
اس جذبہ کو بھی آپ کیا نام دیں گے؟۔۔۔ ایمانی حرارت؟۔۔۔ یا پھر خرافات شب۔۔۔؟
(۳) ٹرافک رول ماننا سب کے لیے اور ہر وقت ضروری ہے اور جس وقت ٹرافک کا نظام بگڑنے کا زیادہ امکان ہو اس وقت اس کی ضرورت مزید سوا ہوجاتی ہے۔ لیکن اس رات کو دیکھا گیا کہ نوجوانان نسل ا س کی بالکل بھی پرواہ نہیں کر رہے ہیں، نہ خود کی اورنہ دوسروں کی ۔ نتیجۃ بڑے بڑے حادثے پیش آتے ہیں اور کچھ تو اپنی جان بھی گنوا بیٹھتے ہیں۔
اب بھلا بتائیے کہ اس عمل کو کیا کہیں گے۔۔۔؟ ایمان کا جوش وخروش ۔۔۔؟ یا پھر پندرھویں شب کی بے قدری؟
(۴)کثیر مذاہب والے ملک میں مختلف مذاہب کی شناخت کی مختلف علامتیں ہیں۔ مسلمانوں کی آئے جین ٹیٹی میں ایک ٹوپی بھی ہے۔ امت مسلمہ کا عام افراد نماز تک میں ٹوپی پہننا ضروری نہیں سمجھتے ، لیکن اس رات میں خرافات کرنے کے لیے اس کو لازم و واجب گردانتے ہیں۔
کیا مسلمانوں کی شناخت اورآئے جین ٹیٹی کا تحفظ صرف ایک رات کو ٹوپی پہن لینے سے ہوجائے گا۔۔۔؟ یا پھر یہ صرف محض ایک خرافات ہے۔۔۔؟
(۵) دہلی کا جمنا کتنا بدبودار ہوگیا ہے، اس سے ہر شخص واقف ہے ۔ اس کے پانی کی سطح سے تقریبا تیس چالیس فٹ بلند پل پر سے گذریے تو بھی جمنا اپنی حالت بد کا احساس دلا دے گا۔ اس رات کو دیکھا کہ کچھ لوگ اپنے امام غائب کو تلاش کرنے کے لیے اس کے نام چھٹی لکھ کر جمنا کے حوالے کرتے ہیں ہیں اوراس کے بدبودار پانی سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ اس کے اپنے امام غائب تک پہنچا دے گا اور پھر اس کا امام غائب حاضر ہوکر اس کے تمام دکھوں کا مداوا کردے گا۔
ایسے لوگوں کے خود اپنے عقیدے کے مطابق امام غائب اس وقت خود ہی حاضر ہوجائیں گے جس وقت بدری مجاہدین یعنی تین سو تیرہ کی تعداد میں اس کے پکے جانشین دنیا میں موجود رہیں گے۔ یہ عقیدہ شاہد عدل ہے کہ اب تک ایسے لوگوں کی تعداد اتنی بھی نہیں ہوپائی ہے، جب کہ آبادی کروڑوں میں ہے۔ بہرکیف یہ لوگ امام کے خود بخود حاضری والی صلاحیت تو پیدا نہیں کرپارہے ہیں؛ لیکن جمنا کے بدبودار پانی کو خط دے کر توقع رکھتے ہیں کہ اس مقدس رات کی فریاد رائیگاں نہیں جائے گی ۔ صدیوں سے جاری یہ عمل بالیقین نتیجہ سے خالی ہے، کیوں کہ امام غائب نہیں آرہے ہیں۔ اس طرح کے عمل کو کیا یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ پندرھویں شب کی قدر کرنے والا عمل ہے ۔۔۔؟ یا پھر عقل و شعور سے خالی لایعنی عمل کا ایک تسلسل ہے جو ثواب کے نام پر کیا جارہا ہے ۔۔۔؟
امت کے پرجوش مومنین کی طرف سے اس رات کی قدر کرنے کے اور بھی کارنامے مشاہدہ میں آئے، جسے طوالت کے پیش نظر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ درج بالاواقعات کی روشنی میں کیا یہ کہنا خلاف واقعہ ہوگا کہ
امت خرافات میں کھوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
اللہ تعالیٰ ہمیں عقل و بصیرت سے نوازے اور حق کو حق اور باطل کو باطل سمجھنے ، کہنے اور دکھانے والا بنائے آمین

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here