پارسائی یا دھوکہ : پہچان کیسے ہو؟

0
841
فائل فوٹو۔۔۔۔ ملت فروشوں کے اسٹیج کا۔۔۔۔
All kind of website designing

آئینہ برائے اندھ بھکت ۔۔۔۔۔۔ ڈاکٹرزین شمسی

مودی کے  ہندوستان پر قابض ہو جانے کے فوراً بعد ہی میں  نے ’قائد قائدے بدلیں یا  پیروکار قائد بدلیں ‘ کے عنوان سے مضمون لکھاتھا ، جس میں اس خدشہ کا اظہار کیا تھا کہ آر ایس ایس کی چالاکیوں اور مکاریوں کو سمجھنے  اور سمجھانے والے ہماری قوم میں ناپید ہیں ، ایسے میں علما اور ملی رہنما کو بہت بڑا رول ادا کرنا ہوگا ، ورنہ یہ ہوگا کہ قوم  غلط سمت پکڑ لے گی۔ گاہے بگاہے اس بات کا ذکر کرتا رہتا ہوں کہ مسلمانان ہند نے ہمیشہ اپنے اکابرین  اور قائدین کا  حترام کیا ہے اور کرتے رہیں گے کہ ہمارے دین نے اس کی فضیلت تفصیل میں بیان کی ہے۔ اس بات پر زور دیتا رہا ہوں کہ ہم بھارتیہ مسلمان ہیں ، ہماری روایتیں ضرور عجم و عرب سے مستعار لی گئیں ہیں ،لیکن ہماری تہذیبی جڑوں میں گنگ و جمن کی وراثتیں ہیں۔ ہم نے اگر ایک طرف اپنے علما  کے فرمان کو سنا ہے تو دوسری طرف اپنے ہندوستانی دانشوروں ، ادیبوں ، لیڈروں اور استادوں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ اسی لیے ہم  مشترکہ تہذیب کو بہتر اور جامع طریقے سے سمجھتے اور برتتے ہیں۔ ماضی میں جانے سے کوئی فائدہ نہیں کہ جب آپ پیچھے کی طرح دیکھیں گے تو  پائیں گے کہ ہم نے جن پر تکیہ کیا وہی پتے ہمیں ہوا دیتے ہوئے ملتے ہیں ، اس کے باوجود  ہم مسلمانوں کا اپنے علما اور اکابرین پر مکمل اعتماد ہے۔ ہمارے ملی اور دینی ادارے کبھی اپنی شان و شوکت اور  بہترین استادوں سے پہچانے جاتے تھے ، لیکن آہستہ آہستہ وہ سب رو بہ ذوال ہوتے گئے ۔ اس میں عام مسلمانوں کا کوئی رول نہیں رہا ، بلکہ ذمہ داران ملک و قوم نے آپسی چپقلش اور مفاد پرستی اور متعصبانہ رویہ کے تحت  اداروں اور تنظیموں کے تشخص کو پامال کیا اور اس کی عظمت  کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ بات اب شروع کرتے ہیں۔ ہمارے پاس دیوبند جیسا تاریخی اور انقلابی تیر تھا ، جس کی کمان اب جمیعتہ کے پاس ہے اور ہمارے پاس امارت شرعیہ جیسی تلوار تھی جو آل انڈیا پرسنل بورڈ کے میان میں ہے ، اور یہ سب ایسے ہوا کہ جو ہوا سب اسلام اور دین کے نام پر ہوتا رہا اور مسلمان اپنے علما اور قائدین کی باتوں کو سنتے ، سمجھتے ، متذبذب ہوتے ، پریشان ہوتے اور آخر کار خاموش رہ جاتے کہ وہ کیا کر سکتے تھے۔ مذہبی تشخص کوڈھال بناتے ہوئے ہمارے اکابرین نے مسلمانوں کو کئی مرتبہ دھوکہ دیا اور کئی مرتبہ انہیں خود سیاسی پارٹیوں سے دھوکہ کھانا پڑا۔ اب جبکہ مودی سرکار یعنی سلطنت  بھاگوت کا دور دورہ ہے۔ اس وقت سب سے بڑی ذمہ داری علما کی ہوتی ہے کہ وہ قوم کے ہاتھ کو مضبوطی سے پکڑیں تاکہ وہ کہیں پھسل نہ جائے ، بہک نہ جائیں ، گر نہ پڑے ، لیکن کمال حیرت ہے کہ جب سے مودی سرکار آئی ہے تنظیموں اور اداروں کے سربراہان کی کوئی ایسی سرگرمی دکھائی نہیں دی کہ جس سے یہ معلوم پڑے کہ اس حکومت میں ہمیں کرنا کیا ہے۔ ان کی خاموشی  انہیں مشکوک کرتی ہے کہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب لوگ سرکار کے ہی پٹھو تو نہیں بن گئے ہیں۔ یہ کہنا بالکل جھوٹ پر مبنی ہوگا کہ یہاں کے بڑے ادارے سیاست میں دل چسپی نہیں لیتے۔ کئی اداروں کی تو بنیاد ہی سیاست کی

ڈاکٹر زین شمسی

 کی وجہ سے پڑی ہے تو پھر یہ  عوام کے ساتھ دھوکہ کیوں کرتے ہیں اور انہیں مین اسٹریم   سے دور رکھنے کی کوشش کیوں ہوتی رہی۔ آج حالت یہ ہے کہ مسلمان  معاشی ، سماجی اور سیاسی طور پر بالکل بے وقعت ہے اور اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ سوائے اس کے کہ مودی حکومت کو کوستا رہے اور اللہ سے دعا کرتا رہے کہ یہ حکومت جلد از جلد ختم ہو۔ کیا دنیا میں پنپنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔ گزشتہ ایک ہفتہ کا  محاسبہ کیجئے۔ گزشتہ 4سال میں پہلی مرتبہ بی جے پی بیک فٹ پر آئی۔  دلتوں  کے مہا بندھ  سے بی جے پی سنبھل بھی نہیں پائی تھی کہ کٹھوعہ اور انائو ریپ کیس میں   اتنی بری طرح گھرگئی  کہ چاہتے ہوئے بھی گودی میڈیا اس کے دفاع میں نہیں  اتر  پایا۔ چوطرفہ یلغار نے اسے سوچنے سمجھنے کا موقع بھی نہیں دیا۔ یہ سب کیسے ہوا۔ یہ ہندوستانی عوام کے اس احتجاج کے بل بوتے ہوا کہ جو بھارت کے سماج کو  مرتا ہوا نہیں دیکھ  سکتے اور پانی سر سے اونچا ہوجانے پر  سڑکوں پر اتر آتے ہیں۔ انڈیا گیٹ سے شروع ہوا احتجاج پورے ملک میں پھیل گیا۔ اس میں کیا ہندو کیا مسلمان ، کیا مرد کیا عورتیں سب کے سب سراپا احتجاج دکھے۔ اسی طرح کی بیداری چاہیے۔ رات کے بارہ بجے مسلمانوں کو بھی انڈیا گیٹ تک جاتے ہوئے دیکھنا اچھا لگا کہ وہ بھی قومی سیاست کا حصہ بن رہے ہیں۔ یہ اس لیے نہیں ہوا کہ کٹھوعہ میں ریپ کی شکار مسلم بچی تھی بلکہ یہ اس لیے ہوا کہ جس طرح  دلت تپ رہے ہیں ، اسی طرح مسلمان بھی تپ رہے ہیں راستہ دیکھ رہے ہیں کہ کوئی تو ہو جو  ان کے غصہ کا  صحیح استعمال کرے۔ مگر ان کے غصہ کا جس طرح استعمال کیا گیا وہ اب تک کا سب سے بڑا اور انوکھا تجربہ تھا۔ دین بچائو ، دیش بچائو کانفرنس‘ کی کرتب بازیوں نے ایک بار پھر انہیں مایوس کر کے رکھ دیا۔، آیئے اس کا تجزیہ کریں۔

سب سے پہلے تو اس  کے نام پر ہی غور کیجئے۔ دین بچائو، دیش بچائو۔ دین اور دیش کاآپس میں تصور کیا ہے ؟ دوسرے یہ کہ دین کو کس سے بچایا جائے اور دیش کو کس سے بچا یاجائے۔ ظاہر ہے یہاں پر دین کا مطلب شریعت سے ہے اور شریعت کا مطلب ان دنوں طلاق ثلاثہ سے ہے ۔ جو  شاعرہ بانو کی اپیل پر عدالت اور سرکار کا ہاٹ کیک ثابت ہوا اور پرسنل لا بورڈ یہ کیس ہار گیا۔ ہار تو  وہ شاہ بانو سے بھی گیا تھا ، لیکن اس  وقت راجیو گاندھی نے فیصلہ پلٹ دیا اور مسلمانان ہند  خوش ہو گئے ، آل انڈیا پرسنل لا بورڈ نے واہ واہی لوٹی۔ مگر اتنے سالوں کے بعد بھی وہ نکاح اور طلاق کا ایک ماڈل تیار نہیں کر سکی۔ اجلاس میں تمام مکتب فکر کے لوگوں کو اسٹیج پر بٹھا کر یہ پیغام دینا کہ سب مسلک کے لوگ  متحد ہیں  ،مگر شریعت کے کسی مسئلہ پر تمام مسلک  کا اتحاد ماڈل طلاق نامہ نہیں بنا سکا ۔ ہے نہ حیرت کی بات۔ بہر حال اب آیئے دیش بچانے والے ایشو پر تو یہ تو طے ہے کہ نہ ہی آپ اس دیش کو سنوار سکتے ہیں اور نہ ہی اس دیش کو بچا سکتے ہیں تو پھر اس کانفرنس کا کیا مطلب نکالا جا ئے۔ صرف اس لیے کہ آپ کچھ نہیں کر رہے ہیں تو کچھ کریں خواہ اس کا نقصان ہی قوم کو کیوں نہ اٹھانا پڑ جائے۔
یہ کانفرنس اس لیے شکوک کے دائرہ میں ہے کہ اس اجلاس کا کوئی مقصد نہیں تھا۔ کہا گیا کہ ہمیں اپنی طاقت دکھانی ہے۔ طاقت اگر تعداد سے دکھانی ہے تو سرکار کو معلوم ہے کہ اس ملک میں کتنے مسلمان  بستے ہیں اور ان کی کیا طاقت ہے۔ رام لیلا میدان اور گاندھی میدان میں آنے والی بھیڑ نہیں ہوتی وہ بھیڑیں ہوتی ہیں جنہیں اپنے اکابرین کااحترام  جائے مقام تک کھینچ لاتا ہے۔ بھیڑ انڈیا گیٹ اور جنتر منتر کی ہوتی ہے ، جہاں سے سرکاریں اپنا فیصلہ بدلنے پر مجبور ہوتی ہیں۔ خیر ، ہوا کیا ہے، جس پر اتنا ہنگامہ ہو رہا ہے اور ہو رہا ہے تو کیا درست ہو رہا ہے۔ کانفرنس ختم بھی نہیں ہو پائی کہ  خبر آئی کہ  کانفرنس کے کنوینر کو جنتا دل یو نے ایم ایل سی نامزد کیا ہے ، جس کی سفارش حضرت نے کی تھی۔ اب  معاملہ یہ ہے کہ کیا اسی کے لیے پٹنہ کے گاندھی میدان میں اتنی بھیڑ جمع کی گئی۔ ہمیں لگتا ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ ایم ایل سی کے ٹکٹ کے لیے اتنا بڑا دھوکہ نہیں دیا جا سکتا ، کیونکہ 60سے70لاکھ روپے تک میں کسی بھی پارٹی سے اس کے لیے ڈیل ہو سکتی ہے۔ اتنا بڑا مجمع کرنے کے لیے ہونے والے چندوں کا ہی حساب کتاب مانگا جائے تو یہ کروڑوں میں چلا جائے گا، تو پھر یہ بات اتنی طول کیوں پکڑ گئی۔ کیا ہندوستان کا کوئی بھی مسلمان یہ چاہے گا کہ  ہندوستان کے کسی بھی علاقے کا مسلمان کوئی احتجاج کرے تو اس کی کمر توڑی جائے۔ بالکل نہیں تو پھر ہنگامہ کیوں؟ 
ہنگامہ اس لیے کہ جس خالد انور کو ایم ایل سی کا ٹکٹ دیا گیا، وہ جے ڈی یو کے کوٹہ کا تھا اور ریلی تھی این ڈی کے خلاف اور خالد انور نہ ہی امارت شرعیہ کا رکن ہے اور نہ ہی جے ڈی یو کا، تو پھر وہ اتنے بڑے جلسے کی نظامت کیسے کر رہا تھا۔ جس ریلی میں ولی رحمانی صاحب بی جے پی کو کوس رہے تھے اسی ریلی کے چاروں اطراف لگے ہورڈنگ اور پوسٹرنتیش کمار کے کام کاج کا قصیدہ پڑھتے کیوں نظر آئے۔ کیا ولی رحمانی صاحب کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ خالد انور کو جے ڈی یو اپنا رکن بنا رہی ہے  اور اگر نہیں تھی تو کیا خالد انور نے اس اجلاس کو یرغمال بنایا۔ یہ سب ایسے سوالات ہیں ، جو اجلاس کو مشتبہ بنا رہے ہیں۔ بات بات میں پریس ریلیز جاری کرنے والی امارت شرعیہ اب تک اس بات کی وضاحت کیوں نہیں کر پائی۔ آل انڈیا پرسنل لا بورڈ کا کوئی موقف کیوں نہیں آیا۔ کیا اتنے سارے سنجیدہ سوال کو نظر انداز کیا جا سکتا ہے اور کیا جا رہا ہے تو یہ سراسر مسلمانوں کے ساتھ دھوکہ ہے۔ ساتھ ہی اس معاملہ میں تنظیمیں بھی گرفت میں آرہی ہیں جو اس اجلاس میں شامل تھیں ، خواہ وہ جمیعتہ ہو یا جماعت ہو۔ کیا ان لوگوں نے اس معاملہ میں  امارت شرعیہ سے جواب طلب کیا۔؟ کیا  ایسا کر کے  یہ سارے ادارے مسلمانوں میں بدگمانیاں نہیں پیدا کر رہے ہیں۔ یا کھیل کچھ اور ہے ، کچھ بڑا ہے۔
 بہار میں نتیش کیوں جیتے تھے ؟ سیدھا سا جواب ہے کہ الیکشن دوطرفہ تھا تو اب لوک سبھا الیکشن میں نتیش کیسے جیت سکتے ہیں اگر پھر الیکشن دوطرفہ ہوا تو کیا یہ اجلاس  الیکشن کو سہ طرفہ بنانے کے لیے منعقد کیا گیا۔ تیسرے محاذ کی سرگوشیاں چل رہی ہیں۔ الیکشن کے نزدیک آتے ہی پاسوان بھی این ڈی اے چھوڑیں گے اور نتیش بھی ، پپو یادو اور دیگر لیڈران مل کر تیسرے محاذ کی تشکیل کریں گے۔ یہ لکھ لیجئے۔ اجلاس میں نتیش  سے سانٹھ گانٹھ کا واضح ثبوت ان کا پوسٹر ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ مسلمانوں کو تذبذب میں ڈالاگیا اور اس کے ووٹ منتشر کئے  جانے کا کھیل  کھیلا گیا۔ سہ رخی مقابلہ ہوگا اور بی جے پی کی جیت یقینی ہو جائے گی۔ پھر نتیش اور پاسوان اپنی جگہ لوٹ جائیں گے۔ 
ان سب کو چھوڑ بھی دیجئے تو اتنے بڑے اجلاس کا نتیجہ سوائے خالد انور کے اور کیا رہا؟ کیا دیش بچ گیا ، کیا  تمام لوگ دیندار ہو گئے۔ کیا اب بہار اڑیسہ اور جھارکھنڈ کے تمام مسلمان  ایک دوسرے کے بھائی ہو گئے اور ہاں میں تو بھول ہی گیا تھا اس اجلاس میں تقریباً60سے 70ہزار دلت بھائی بھی تھے کیا وہ بھی ہمارے دین کو بچا رہے تھے، اور آ پ کتنے معصوم ہیں کہ آپ کو لگتا ہے کہ آپ نے  گاندھی میدان میں اتحاد کا مظاہرہ کیا، کیا  آپ نہیں جانتے کہ جانے انجانے آپ نے ان ہندوئوں کو بھی ہندوتو کے پالے میں جانے کے لیے مجبور کر دیا جو آپ کی لڑائی لڑتے رہے ہیں۔ کیا صرف آپ ہی متحد ہو سکتے ہیں وہ نہیں۔ ایک بات نوٹ کر لیجئے  دشمنوں کو دھوکہ دینا ہے تو متحد رہیے مگر منتشر نظر آیئے ۔
  سوالات بہت ہیں ، جواب دینا چاہیے۔ میں تو پہلے بھی لکھتا آیا ہوں کہ سوال کیجئے ، سوال نہ کرنے کی مصلحت پسندی ہی دھوکہ کا سبب بنتی ہے۔ احترام الگ چیز ہے اور حق الگ چیز ۔ 

 

 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here