خیر وشراور سنگم۔۔۔جنت جہنم اور دنیا۔۔۔ فرشتے، شیطان اور انسان۔۔۔ اورانجام؟ 

0
1204
All kind of website designing

خیر وشراور سنگم۔۔۔جنت جہنم اور دنیا۔۔۔ فرشتے، شیطان اور انسان۔۔۔ اورانجام؟

محمد یاسین جہازی قاسمی
اس کائنات خداوندی میں اگر آپ غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس دنیا اور اخروی دنیا میں تین الگ الگ کیفتیں ہیں ۔ اور انھیں تین کیفیتوں کے لحاظ سے مخلوقات کی بھی تین قسمیں ہیں۔ اور نتیجہ کے اعتبارسے ان کے ٹھکانے بھی تین ہی ہیں۔
پہلی کیفیت کا نام خیر ہے۔ اس کی خاصیت بھلائی، امن و سکون اور چین و اطمئنان ہے۔ دوسری کیفیت شر ہے۔ یہ خیر کی ضد ہے، لہذا اس کی خصوصیات میں وہ تمام چیزیں پائی جائیں گی، جو خیر کے برعکس ہیں، یعنی جہاں بھی شر ہوگا، وہاں فتنہ و فساد اور امن و سکون کا فقدان ہوگا۔ تیسری کیفیت خیر و شر کا سنگم ہے۔ اور یہ کیفیت اپنے وجود میں اپنے دو نوں پہلووں کی خصوصیات پر مشتمل ہوگی ۔
ان کیفیات ثلاثہ کی مناسبت سے مقامات بھی تین ہیں: (۱) جنت : یہ کیفیت خیر کا مظہر جمیل ہے۔جس کے اندر خیر ہوگا، وہ جنت کا مستحق ہوگا۔ اور جو جنت کا مستحق ہوگا، وہ خیر کی تمام خصوصیات سے لطف اندوز ہوگا۔ (۲) جہنم: یہ شر کی صفات سے متصف ہے ، لہذا یہ مقام شر اور شریروں کے لیے موزوں و مناسب ٹھکانہ ہے۔ (۳) خیرو شر کا سنگم: اس مقام کا دوسرا نام دنیا ہے۔ دنیا میں خیر کا وجود بھی ہے اور شر کا بھی۔اسی وجہ سے دنیا کو سراسر جنت بھی نہیں کہہ سکتے اور اسے جہنم کا بھی نام نہیں دے سکتے۔
پھر ان کیفیات و مقامات کی مناسبت سے مخلوقات بھی تین ہیں:
(۱) فرشتے: تمام فرشتوں کی خمیر میں خیر محض ہے، ان کے اندر شر کی ذرا بھی صلاحیت نہیں ہے، لہذا یہ مقام خیر اور کیفیت خیر سے وابستہ مخلوق ہے۔ اگر کہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ فرشتہ کی طرف سے یہ شر کا کام ہورہا ہے، تو دراصل وہ شر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے پیچھے بہت بڑا خیر چھپا ہوا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر ملک الموت روح قبض کرتے ہیں، جس سے ظاہر میں ایسا لگتا ہے کہ موت ایک مصیبت اور شر ہے، لیکن درحقیقت یہ خیر کے دروازے کھولنے کا سبب ہوتا ہے ۔ کیوں کہ اگر کسی انسان کو کبھی موت نہیں آئے گی، تو انسان حصول جنت اور رضائے الٰہی کے لیے جو عبادات و ریاضات انجام دیتے ہیں ، وہ سب لاحاصل اور فضول ہوجائیں گی۔ اسلام کے تمام اوامر و نواہی بھی لایعنی اور بیکار قرار پائیں گے۔ لہذا موت دراصل اللہ تعالیٰ سے ملاقات، اپنے اعمال کا پھل اور انعام پانے کا واحد ذریعہ ہے ، جو سراسر خیر ہے۔ اور یہی کار خیر ملک الموت انجام دیتے ہیں۔ المختصر فرشتے سے کبھی کسی شر کا سرزد ہونا محال ہے، لہذا تمام فرشتے جنتی ہیں۔
(۲) شیطان: اس کی سرشت میں شر شامل ہے، اس لیے اس کے اندر خیر کا کوئی بھی مادہ نہیں پایا جاتا۔ اگر کہیں شیطان کی کی طرف سے کوئی خیر نظر بھی آئے تو دراصل اس کے پیچھے کوئی نہ کوئی اس سے بڑا شر اور ضرر پوشیدہ ضرور ہوگا، جیسا کہ حضرت امیر معاویہؓ کا واقعہ مشہور ہے کہ وہ نماز کے سخت پابند تھے، حتیٰ کہ تہجد کی نماز بھی کبھی فوت نہیں ہوئی۔ ایک رات کا واقعہ ہے کہ وہ سوئے تو آنکھ نہیں کھلی اور تہجد کا وقت نکل گیا۔ جب بیدار ہوئے ، تو بہت نادم ہوئے اور فوت شدہ تہجد کے بدلے اس سے کئی گنا عبادت کی اور خوب توبہ تلہ کیا۔ اور ساتھ ہی عزم بھی کیا کہ اب آئندہ کبھی فوت نہیں ہونے دیں گے۔ اس کی اگلی رات اپنے محل میں سو رہے تھے ، تہجد کا وقت ہوا چاہتا تھا کہ ایک شخص آیا اور حضرت کے پیر ہلاکر کہنے لگے کہ اٹھیے اٹھیے، تہجد کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ حضرت امیر معاویہؓ بیدار ہوئے اور اس کا ہاتھ پکڑ کر پوچھا کہ تم کون ہو اور یہاں میرے محل میں کیا کر رہے ہو، تو اس نے جواب دیا کہ میں آپ کا شبھ چنتک ہوں، تہجد کے لیے بیدار کرنے آیا ہوں کہ کہیں کل کی طرح آج پھر آپ کی تہجد نہ چھوٹ جائے۔ حضرت امیرؓ نے مضبوطی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا کہ سچ بتاؤ تم کون ہو؟ اگر تم میرے خیر خواہ ہوتے، تو کل بھی جگاتے ، آج ہی جگانے کیوں آئے ہو؟ تب اس نے بتایا کہ میں شیطان ہوں۔ آپ کی فرض نماز تو ہم چھڑوانے سے رہے، تہجد کی نماز چھڑوانے میں کل کامیاب ہوگئے تھے، لیکن اس کے بدلے آپ نے اتنی عبادات اوراس قدر توبہ تلہ کیا کہ تہجد کے ثواب سے کئی گنا مقام اور ثواب آپ کا بڑھ گیا، تو مجھے بہت افسوس ہوا۔ اس لیے میں نے سوچا کہ آج خود ہی آکر آپ کو جگادوں ۔ مبادا کہیں ایسا نہ ہو کہ آج بھی تہجد چھوٹ جائے اور اس کے بدلے اس سے کہیں زیادہ عبادات اور توبہ کرکے مزید ثواب کمالیں۔تب حضرت امیر معاویہؓ نے فرمایا کہ میں تبھی سمجھ گیا تھا کہ ایک شیطان کی طرف سے خیر کا کام ہو ہی نہیں سکتا۔ پھر لعنت و ملامت کرکے اسے دھتکار دیا۔ بہر کیف ایک شیطان مجسم شر ہے اور مقام شر جہنم ہے، اس لیے تمام شیطان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ (۳) انسان: اس کے اندر خیر و شر دونوں مادے موجود ہیں ۔ انسان کار خیر بھی انجام دیتا ہے اور کبھی کبھار شر کے کام بھی اس سے سرزد ہوجاتے ہیں۔
یہ قاعدہ کلیہ اس راز سے بھی پردہ اٹھا دیتا ہے کہ انسانوں کا وجود ڈائریکٹ جنت یا جہنم میں کیوں نہیں ہوتا، اسے پہلے دنیا میں کیوں بھیجا جاتا ہے ۔ اسی طرح یہ مسئلہ بھی حل ہوجاتا ہے کہ دنیا میں ہمیں فرشتے یا شیطان ہماری مرضی کے مطابق ہمیں کیوں نظر نہیں آتے۔
بہر کیف کیفیت و مقام کی مناسبت سے انسان کو پہلے دنیا میں بھیجا جاتا ہے ، کیوں کہ یہی مقام اس کے خیر وشر کی صلاحیت کے اعتبار سے موزوں جگہ ہے۔ گویا دنیا کو اس کے لیے امتحان گاہ بنایا گیا ہے ۔ یہاں انسان ہر گھڑی امتحان میں ہے ۔ اس امتحان میں آزمائش اور پاس ہونے کے لیے اسے تین چیزیں دی گئی ہیں: عقل، دل اور نفس۔ نفس خواہشات پیدا کرکے دل کوعمل کے لیے برانگیختہ کرتا ہے۔ دل عموما جذباتی ہوتا ہے اور نفس کی پیدا کردہ خواہشات پر عمل درآمد کی کوشش کرتا ہے ؛ لیکن اس پر عمل کرنے سے پہلے عقل تدبر و تفکر کی دعوت دیتی ہے ۔ اگر دل عقل کی باتوں پر عمل کرتا ہے، تو دل نفس کی انھیں خواہشات پر عمل آوری کرتا ہے، جوملکیت اور خیر کے تحت ہوتا ہے اور اس طرح قوت شر و بہیمیت مغلوب ہوکر کار خیر انجام پاتے ہیں۔اور انسان اس امتحان میں کامیاب ہوتا چلا جاتا ہے۔اور کیفیت خیر کی مناسبت سے جنت ا س کا استقبال کرتی ہے۔ لیکن اگر نفس کے ابھارنے پر دل عقل سے مشورہ کیے بغیر کوئی کام انجام دیتا ہے ، تو دل پر قوت بہیمیت غالب آجاتی ہے اور قوت خیر مغلوب ہوجاتی ہے، جس سے محض برے کام سرزد ہوتے ہیں اور اس طرح انسان برائیوں اور گناہوں کے دلدل میں پھنس جاتا ہے اور اس دنیاوی امتحان میں ناکام و نامراد ہوجاتا ہے۔ جس کے نتیجے میں شر کی مناسبت سے اس کا ٹھکانہ جہنم قرار پاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے عقل و شعور سے کام لینے کی توفیق ارزانی کرے اور قوت خیر کو غالب کرتے ہوئے مقام خیر کا مستحق بنائے آمین۔
مصادر مضمون
۱۔ قرآن کریم
وَنَبْلُوکُمْ بِالشَّرِّ وَالْخَیْرِ فِتْنَۃً، وَإِلَیْنَا تُرْجَعُونَ۔ (الانبیاء، آیۃ ۳۵)
۲۔ حدیث پاک
قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّیٰ اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: لَمَّا خَلَقَ اللَّہُ الْعَقْلَ قَالَ لَہُ: أَقْبِلْ، فَأَقْبَلَ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: أَدْبِرْ، فَأَدْبَرَ، فَقَالَ: وَعِزَّتِي مَا خَلَقْتُ خَلْقًا ھُوَ أَعْجَبَ إِلَيَّ مِنْکَ، بِکَ أُعْطِي، بِکَ الثَّوَابُ وَعَلَیْکَ الْعِقَابُ۔ (المعجم الکبیر للطبرانی،رقم الحدیث۸۰۱۲)
۳۔ حجۃ اللہ البالغہ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here