ماخوذ از: تاریخ دعوت و عزیمت: مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندویؒ ۔ 

0
1216
All kind of website designing

صوفیا کی اصطلاح وحدۃ الوجود اور وحدۃ الشہودکی وضاحت

بسم اللہ الرحمان الرحیم
ماخوذ از: تاریخ دعوت و عزیمت: مولانا سید ابوالحسن علی میاں ندویؒ ۔
وحدت الوجود کے جملے:سبحانی ما أعظم شانی (بایزید بسطامی) أنا الحق (حسین بن منصور حلاج)
وحدت الوجود کے نظریے کے بانی : شیخ اکبر محی الدین ابن عربی ہیں۔جس کی شرح یہ ہے ( جودو وجود کا قائل ہوا اور اس نے کہا کہ ایک اللہ کا وجود ہے اور ایک ممکن کا ، تو شرک کررہا ہے اور اس کا یہ شرک شرک خفی ہے اور جو صرف ایک وجود کا قائل ہواور اس نے کہا کہ وجود صرف اللہ کا ہے ، اس کے سوا جو کچھ ہے، وہ اس کے مظاہر ہیں اور مظاہر کی کثرت اس کی وحدت کے منافی نہیں، تو یہ شخص موحد ہے)۔اللہ تعالی اپنے ذاتی کمال میں قطعا غنی ہے، لیکن اسمائی کمال میں عالم کے وجود خارجی سے مستغنی نہیں۔یہی مطلب ہے حدیث قدسی : کنتُ کنزا مخفیا فأحببتُ أن أعرفَ فَخلقتُ الخلقَ (الفتوحات المکیۃ، الجزء الثامن والثمانون)۔ ا قتباسات از: رسالہ علامہ عبدالحی بحرالعلوم لکھنوی) م؍۱۲۲۵، دعوت و عزیمت، ج؍۴، ص؍۲۷۶)
عقیدہ وحدت الوجود کے غلو کے اثرات یہ تھے کہ تلسمانی شراب پیتے تھے اور محرمات کا ارتکاب کرتے تھے کہ جب وجود ایک ہے تو حلال و حرام کی تفریق کیسی؟ بعض لوگوں سے کہاگیا کہ جب وجود ایک ہے تو بیوی کیوں حلال اور ماں حرام ہے؟ اس محقق(تلسمانی) نے جواب دیا کہ ہمارے نزدیک سب ایک ہے؛ لیکن ان محجومین (جو توحید حقیقی سے نا آشنا ہیں)نے کہا کہ ماں حرام ہے تو میں نے بھی کہا ہاں تم محجومین پر حرام ہے۔(دعوت و عزیمت،ج؍۴، ص؍۲۸۰؍
شیخ شرف الدین یحی منیریؒ (م؍۷۸۲ھ) وحدت الوجو د کے متوازی وحدت الشہود کا ذکر فرما تے ہیں کہ عام طور پر جس کو وحدت الوجود اور غیر حق کا عدم محض اور فنائے کا مل سمجھا جا تا ہے وہ در اصل وجود حقیقی کے سامنے دوسرے موجو دات کا اس طرح ماند پڑ جا نا اور مغلوب ہو جانا ہے جس طرح آفتاب کی روشنی کے سامنے ستا روں کی روشنی ماند اور ذات کا وجود بے حقیقت ہو جاتا ہے، 146146نا بودن دیگر و نا دیدن دیگر145145 تاریخ دعوت و عزیمت، ج؍ ۴، ص؍۲۸۵)
وحدت الوجود کے سلسلے میں تین نظریات ہیں:
۱۔ وحدت الوجود تحقیق و معرفت کی آخری منزل ہے۔
۲۔ وحدت الوجود قوت متخیلہ کی کارفرمائی اور باطنی مشاہدہ کے سوا کچھ نہیں، یعنی اس کا مکمل انکار ۔
۳۔ وحدت الشہود وہ وحدت الوجودکے متوازی شئی ہے کہ حقیقت میں سالک کوجو کچھ نظر آتا ہے، وہ یہ نہیں کہ وجودواحد ہے اور واجب الوجود کے سوا ہر وجود حقیقتا منتفی ومعدوم ہے؛ بلکہ واقعہ یہ ہے کہ موجودات اپنی جگہ پر موجود اور قائم ہیں ، لیکن واجب الوجود کے وجود حقیقی کے نور نے ان پر ایسا پرد ہ ڈال دیا ہے کہ وہ معدوم نظر آتے ہیں اور جس طرح ستارے آفتاب کے طلوع کے بعد اس کے نور کے سامنے اس طرح ماند پڑجاتے ہیں کہ اگر کوئی کہے کہ ستارے نہیں ہیں، تو وہ کاذب نہیں ہوگا، اسی طرح موجودات اس وجود کامل و حقیقی کے سامنے ایسے بے حقیقت نظر آتے ہیں کہ گویا ان کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔(دعوت و عزیمت، ج؍ ۴، ص؍۲۸۷)
حضرت مجدد ؒ سرہندی نے ان تین مسلکوں کے مقابلے میں ایک چوتھا مسلک اختیار کیا ، وہ یہ کہ وحدۃ الوجد سالک کے سیر وسلوک کی ایک منزل ہے ، اگر توفیق الٰہی شامل حال رہی اور شریعت کا چراغ رہنما ہوا اور سالک کی ہمت بلند ہوتی ہے، تو دوسری منزل بھی سامنے آتی ہے اور وہ وحدۃ الشہود کی منزل ہے۔ (دعوت و عزیمت، ج؍ ۴، ص؍۲۸۷)۔ اس طرح حضرت مجدد ؒ ، وحدۃ الوجود کے نفی اور اس کے سب سے بڑے علم بردار شارح شیخ اکبر محی الدین بن عربی (جن کے علوم و معارف، نکات و اسرار اور کمالات روحانی کا انکار مکابرہ ہے) کے علو مقام، مقبولیت عند اللہ اور اخلاص کا انکار کیے بغیر ؛ بلکہ بلند الفاظ میں اس کا اعتراف کرتے ہوئے ایک اضافہ فرماتے ہیں اور ایک نئی دریافت کا اعلان کرتے ہیں ، جو ایک طرف عقیدۂ جمہور مسلمین، کتاب و سنت اور شریعت حقہ کے مطابق ہے اور دوسری طرف پیچھے کی طرف لے جانے اور بڑے گروہ کے علوم و تحقیقات پر خط نسخ پھیرنے کے بجائے ایک ایسی چیز کا اضافہ کیا ہے، جس کے نصوص شرعیہ، اصول قطعیہ اور سیر انفس وآفاق کے آخری مکشوفات و تحقیقات میں مطابقت پیدا ہوجاتی ہے۔(دعوت و عزیمت ، ج؍ ۴، ص؍۲۸۸)۔
حضرت مجدد صاحب شیخ فرید بخاری کو لکھتے ہیں:
146146وہ توحید، جو سلوک کے دوران حضرات صوفیا کو حاصل ہوتی ہے ، اس کی دو قسمیں ہیں: توحید شہودی و توحید وجودی۔ توحید شہودی نام ہے : ایک دیکھنے کا ، یعنی سالک کا مشہود سوائے ایک کے نہ ہو۔ اور توحید وجودی نام ہے : ایک کو موجود جاننے کا اور غیرکو معدوم سمجھنے کا145145۔(دعوت و عزیمت ، ج؍ ۴، ص؍۲۹۲)
حضرت مجددؒ صاحب نے توحیدی شہودی کے اثبات اور اس کی ترجیح پر کیوں زور دیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ توحید وجودی کے قائلین نے اپنے کو قیود شرعی و واجبات اسلامی سے آزاد سمجھ لیا تھا اور یہ سمجھ کر کہ جب سب کچھ حق کی طرف سے ہے ؛ بلکہ سب حق ہے ، تو پھر حق و باطل کی تفریق اور کفرو ایمان کے امتیاز کا کیا سوال؟ حضرت مجدد صاحب کے زمانے ( دسویں صدی ہجری ) میں اس توحید وجودی کا رنگ ہندستان پر ایسا چھایا ہوا تھا کہ عارفانہ ذوق رکھنے والے شعرا اس کے گیت گاتے تھے اور کفرو ایمان کو مساوی قرار دیتے تھے ؛ بلکہ بعض اوقات کفر کو ایمان پر ترجیح دیتے تھے، مثلا ؂
کفرو ایمان قرین یک دگرند
ہر کہ را کفر نیست ایمان نیست
پھر اس کی تشریح کرتے ہوئے ایک کتاب میں لکھا ہے کہ
146146 پس ازیں معنی اسلام در کفر ست و کفر در اسلام، یعنی : تولج اللیل فی النہار وتولج النہار فی اللیل، مراد از لیل کفر ست، و مراد از نہار اسلام145145َ
آگے چل کر لکھتے ہیں:
146146 العلم حجاب اکبرگشت، مراد ازیں علم عبودیت کہ حجاب اکبر ست، ایں حجاب اکبر اگر از میاں مرتفع شود، کفر بہ اسلام و اسلام بہ کفر آمیزدوعبارت خدائی و بندگی برخیزد145145۔ (دعوت و عزیمت ، ج؍ ۴، ص؍۲۹۷)۔
اس غلو کی وجہ سے شریعت کی گرفت طبیعتوں پر سے ڈھیلی پڑتی جاتی تھی۔
مغربی مصنف پیٹر ہارڈی نے لکھا ہے کہ
146146 شیخ احمد سرہندی کی بڑی کامیابی یہی ہے کہ انھوں نے ہندی اسلام کو متصوفانہ انتہاپسندی سے خود تصوف کے ذریعے نجات دلائی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ جس نظریہ کی انھوں نے تردیدکی اس کے مطلب و مفہوم اور قدرو قیمت کا ان کو ذاتی طور پر عمیق ادراک تھا145145۔ (دعوت و عزیمت ، ج؍ ۴، ص؍۳۰۰)

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here