بہار اور بنگال میں آتشزنی، لوٹ اور قتل ،کیا دونوں جگہ بی جے پی یا مودی کا راج ہے؟

0
609
All kind of website designing

عبدالعزیز 

بہار میں کہنے کو تو نتیش کمار کی حکومت ہے مگر بی جے پی ان پر بھاری ہے اور نتیش بی جے پی کے زیر اثر ہیں۔ نتیش اچھی اور صاف ستھری حکمرانی کیلئے مشہور تھے مگر بھاگلپور اور اورنگ آباد میں جو کچھ ہوا اس سے نتیش کی حکمرانی کا پول کھل گیا کہ اب وہ دہلی کے کجریوال کی طرح ہیں۔ حکومت ان کی ہے مگر پولس بی جے پی کی ہے۔ بہار میں فرقہ وارانہ فساد بڑے پیمانے پر ہوا جسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ کئی مسجدوں پر دن دہاڑے حملے ہوئے۔ ایک مسجد پر بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے لوگ اس طرح حملہ آور تھے جس طرح بابری مسجد پر۔ مسجد کے چاروں طرف سے پتھراؤ کیا جارہا تھا۔ غنڈے، بدمعاش مسجد کی چھت پر چڑھ کر بھگوا جھنڈے لہرا رہے تھے اور مسجد کے مائیک اتار رہے تھے۔ ’فیس بک‘ میں یہ منظر دکھایا گیا ہے۔ پولس کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔ پولس ہوسکتا ہے اسی طرح دور کھڑی ہو جس طرح بابری مسجد کے انہدام کے وقت بابری مسجد سے کئی فرلانگ دور پولس اور فوج کھڑی تھی۔ 
گزشتہ 17مارچ کو بھاگلپور میں فساد پھوٹ پڑا۔ بی جے پی، بجرنگ دل اور آر ایس ایس کے کارکنان جلوس نکالے جس کے نتیجے میں پچاس سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ کئی دکانیں لوٹ لی گئیں۔ کئی مکانات جلا دیئے گئے۔ مرکزی وزیر اشونی چوبے کے بیٹے اریجیت شاشوت جلوس کی قیادت کر رہے تھے۔ ان کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا گیا ہے مگر آج دو ہفتے ہونے کو آیا مگر نتیش کی بھگوا پولس شاشوت کو گرفتار کرنے سے ہچکچا رہی ہے اور نتیش کے بھی ہاتھ پاؤں کانپ رہے ہیں کہ کہیں ان کی حکومت کو نہ خطرہ لاحق ہوجائے۔ اس طرح لالو پرساد یادو کا یہ کہنا کہ نتیش فینیش (Finish) ہوگئے ہیں بالکل صحیح معلوم ہوتا ہے۔ 25مارچ کو اورنگ آباد میں یہی سب کچھ ہوا جو بھاگلپور میں ہوا بلکہ اس سے بھی بدتر حیوانیت کا ننگا ناچ دیکھنے میں آیا جہاں رام نومی کا تہوار دو روز تک چلتا رہا۔ 25 سے زائد افراد زخمی ہوئے اور پچاس ساٹھ دکانیں نذر آتش کر دی گئیں۔ سمستی پور، مونگیر اور نالندہ کا بھی کم و بیش یہی حال رہا۔ نتیش کمار اور ان کی بھگوا پولس تماشائی بنی رہی۔ نتیش کمار پورے طور پر ہندوتو فلسفہ کے حامی نظر آرہے ہیں اور اب اس دلدل سے ان کا نکلنا مشکل ہے کیونکہ اگر وہ فرقہ پرستہ کی حمایت نہیں کریں گے تو انھیں حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے گا اور وہاں سے دوبارہ نکل کر لالو پرساد یا ان کے بیٹوں کو منہ دکھانے کے لائق بھی نہیں رہے۔ نتیش کمار کی بے وفائی اور بیوقوفی سے بہار جل رہا ہے اور خمیازہ مسلمان بھگت رہے ہیں جو لالو اور نتیش کی حمایت میں ایڑی چوٹی کا زور لگائے تھے۔ 
مغربی بنگال کی صورت حال بہار جیسی ہے مگر یہاں نتیش کمار کی حکومت نہیں، ممتا بنرجی کی حکومت ہے۔ یہاں ممتا بنرجی بی جے پی کا مقابلہ کرنے کے بجائے ایسی حکمت عملی اپنائی ہیں جس سے ریاست کی صورت حال خراب سے خراب تر ہوتی جارہی ہے اور اس کا پورا خمیازہ مسلمان بھگت رہے ہیں۔ ممتا نے پہلے اعلان کیا تھا کہ ایک دو مقامات کے سوا کہیں بھی کوئی جلوس ہتھیاروں کے ساتھ نہیں نکالا جائے گا۔ پولس کو اجازت دینے سے بھی منع کردیا گیا مگر پورے مغربی بنگال میں تلوار، چھری اور دیگر مہلک ہتھیاروں سے لیس بجرنگ دل، آر ایس ایس اور وشو ہندو پریشد کے کارکنوں نے جلوس نکالا۔ جلوس میں بعض جگہ ریاست کے باہر کے لوگ بھی نظر آئے۔ حکمت عملی یہ اپنائی گئی کہ بی جے پی کے رام نومی کے جلوس کے مقابلے میں ترنمول کا بھی جلوس نکلے ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں جلوسوں کے درمیان پورے مغربی بنگال میں ٹکراؤ ہوا۔ کلکتہ میں کوئی بڑا حادثہ نہیں ہوا لیکن بردوان، آسنسول، رانی گنج، پرولیا، شمالی چوبیس پرگنہ کو بھی جے پی نے جو چاہا رامنومی کے نام پر کیا۔ ترنمول کا جلوس نکلا بھی بی جے پی اس کے مقابلے میں مات کھاتا گیا۔ ٹکراؤ، تصادم زوروں پر ہوا۔ مسلمان بھی اس کشمکش کا حصہ بن گئے، جس کے نتیجہ میں چار مسلمانوں کی قیمت چکانی پڑی۔ ترنمول کے جلوس میں مسلمانوں نے اس طرح حصہ لیا جیسے ان کا اپنا تہوار تھا۔ کہا جاتا ہے کہ جے شری رام کے نعرے لگانے میں بھی مسلمان پیش پیش تھے۔ مسلمانوں کا ایک طبقہ جو بے دین اور دہریہ پن کا مظاہرہ کرتا ہے وہ اسے ’فیس بک‘ میں حق بجانب قرار دے رہا ہے۔
آسنسول میں ایک 16سالہ مسلم نوجوان لڑکے کو اغوا کرکے مسجد کے سامنے رامنومی کے جلوس کے افراد لے گئے جہاں کوئی پولس نہ تھی اور تھانے کو جب اطلاع دی گئی تو تھانے کی پولس نے بھی کوئی کارروائی نہیں کی۔ دن میں یہ واقعہ ہوا تھا، رات میں پولس نے لاش کا پتہ دیا کہ فلاں جگہ لاش ملی ہے۔ اسپتال میں آکر اس کی شناخت کرلو۔ مولانا امداداللہ رشیدی کے حافظ قرآن اور جواں سال بیٹے کو تو مسجد کے دروازے سے کھینچ کر ظالم لے گئے اور بے دردی کے ساتھ اسے شہید کر ڈالا۔ مولانا نے اپنے بیٹے کی شہادت پر جس صبر و تحمل کا مظاہر کیا اور امن و امان کیلئے جس طرح کی اپیل کا اس اثر پورے ملک پر پڑ رہا ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینلوں پر ان کی اپیل اور ان کے صبر و تحمل کی تحسین و ستائش ہورہی ہے۔ اس پر اللہ کا جس قدر شکر ادا کیا جائے کم ہے کہ جس کے چشم و چراغ کو مار مار کر جان لے لی گئی ہو اور اسے لاش بھی مشکل سے ملی ہو اور پھر اس کے دل کے ٹکڑے کو اس طرح زخمی کیا گیا ہو کہ وہ پورے طور پر اسے دیکھنا بھی مشکل ہو پھر بھی وہ صبر کر رہے ہیں اور صبر کی تلقین فرما رہے ہیں کہ آسنسول میں ہر قیمت پر امن و امان قائم رکھا جائے گا۔ کسی سے بھی میرے بیٹے کا بدلہ نہ لیا جائے۔ کسی پر انگلی نہ اٹھائی جائے۔ 
گزشتہ مرتبہ مغربی بنگال کے پنچایت الیکشن میں 70افراد مارے گئے تھے جس میں 50 افراد مسلمان تھے۔ پنچایت الیکشن قریب ہے، جس کی وجہ سے بی جے پی ہنگامہ آرائی یافتنہ و فساد کر رہی ہے۔ ترنمول کانگریس کی حکومت ہے مگر وہ بھی رام نومی کا جلوس نکال کر تصادم پر آمادہ ہے اور مسلمان جوش و خروش کا بے جا مظاہرہ کر رہے ہیں اور نقصان اٹھا رہے ہیں۔ اس بار جو پنچایت کا الیکشن ہونے والا ہے اس میں بھی پچھلی بار کی طرح ممکن ہے مسلمان پھر جوش و خروش دکھائیں اور اپنی جانوں سے ہاتھ دھوئیں۔ حکومت کا معاملہ تو یہ ہے کہ مسلمان خون دیتے ہیں اور وہ ان کی کوئی بات سننا بھی گوارا نہیں کرتی۔ ان کے جو نام نہاد نمائندے ایم ایل اے، ایم پی ہیں وہ بہرے اور گونگے کی طرح ممتا بنرجی کے سامنے کھڑے رہتے ہیں۔ مسلمانوں کا کچھ بھی ہوجائے ان کے منہ سے آواز تک نہیں نکلتی۔ آخر مسلمان ایسی جان کیوں دے رہے ہیں جو سمجھ سے باہر ہے، جس میں ان کا کوئی فائدہ نہ ہورہا ہے اور نہ ہونے کی امید ہے۔ اسے گناہِ بے لذت نہیں تو کیا کہا جائے گا۔ اگر یہ حق کے علمبردار بنتے اور حق و انصاف قائم کرنے کی کوشش کرتے تو ان کی یہ حالت نہیں ہوتی جو دیکھنے میں آرہی ہے۔ 

موبائل: 9831439068

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here