39 ہندستانی غریب مزدوروں کا قاتل ساری انسانیت کا دشمن اور قاتل ہے 

0
649
All kind of website designing

عبدالعزیز 
18جون 2014ء کو عراق کے ایک شہر موصل میں امریکہ اور اسرائیل کے پیدا کردہ آدم خور داعش (آئی ایس آئی ایس) نے 40 ہندستانی غریب مزدوروں کو اغوا کیا تھا اور ایک کے سواانھیں بہیمانہ اور سفاکانہ طور پر قتل کرکے زمین کے اندر دفن کر دیا تھا۔ کب قتل کیا گیا وثوق سے کہنا مشکل ہے مگر اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساڑھے تین سال پہلے یعنی 2017ء ہی میں یہ دلخراش واقعہ پیش آیا۔ موجودہ حکومت مقتولوں کے ورثاء کو اب یعنی189 3 سال بعد Confirm (تصدیق) کر رہی ہے کہ ایک فرد کے سوا سارے لوگ قتل کر دیئے گئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں خاص طور سے کانگریس چیخ پکار کر رہی ہے کہ مقتول کے لواحقین کو غلط اور جھوٹی تسلی دے کر تین ساڑھے تین سال تک دیتی رہی اور قوم و ملک کو بھی اندھیرے میں رکھا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت اپنی سستی اور کوتاہی کو چھپا رہی ہے کہ اس کی زبردست مساعی اور جدوجہد کے باوجود غریب مزدور بچائے نہیں جاسکے اور اسے معلوم بھی نہیں تھا، اس لئے وثوق کے ساتھ کوئی بات پارلیمنٹ میں یا اس کے باہر کہنا ممکن نہیں تھا۔ یہ حکومت کی بھول چوک اور کوتاہی ہے مگر سب سے بڑی اور دردناک بات ہے کہ داعش جو امریکہ اور اسرائیل کی پیدا کردہ ہے، ان ظالم ممالک کے ذریعہ بھی کچھ نہیں کرسکی یہ افسوسناک ہے۔ مسلمانوں میں تو میرے خیال سے کوئی ایک تنظیم یا ایک فرد ایسا نہیں ہے سوائے ان کے جو ظالموں کی ایجنسی سنبھالے ہوئے ہیں داعش کو مسلمانوں اور اسلام کی تنظیم کہہ رہے ہوں۔ جو مسلمان کہہ رہے ہیں کہ یہ مسلمانوں کی تنظیم ہے وہ یا تو غفلت میں ہیں یا جان بوجھ کر امریکہ اور اسرائیل کی حاشیہ برداری کر رہے ہیں۔ اکا دکا ایسے بھی مسلمان ہیں یا تنظیمیں ہیں جو دشمنانِ اسلام کے بجائے اسلامی تنظیموں کو بھی اپنی زبان اور اپنے قلم سے بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں جبکہ ان کو معلوم ہے کہ داعش کا سارا حملہ مسلم ملکوں میں ہورہا ہے اور اس کا فائدہ اسلام دشمنوں کو ہورہا ہے جو اسلام اور مسلمانوں کو بدنام کرنے کا تہیہ کرچکے ہیں۔ ان کے نزدیک اسلام کو داعش جیسی تنظیموں سے ہی بدنام کیا جاسکتا ہے اور روکا جاسکتا ہے۔اس کا فائدہ نہ کسی مسلم ملک کو پہنچ رہا ہے نہ کسی مسلمان کو اور نہ ہی اسلام کو۔ صرف امریکہ اور اسرائیل کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔ 
داعش میں اکثر لوگوں کے نام مسلمانوں جیسے ہیں جیسے ان کے سربراہ کا نام ابوبکر بغدادی تھا یا ہے۔ دوسرے لوگوں کا نام بھی جو آتا ہے وہ مسلمانوں ہی جیسا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عرب میں عیسائی اور یہودی اپنا عربی نام رکھتے ہیں جو بالکل مسلمانوں جیسا ہوتا ہے۔ نام سے یہ تمیز کرنا مشکل ہوتا ہے کہ ان میں سے کون یہودی، نصرانی یا مسلمان ہے؟ یہ مٹھی بھر لوگ عراق اور عرب کے دیگر علاقوں میں جو چاہ رہے ہیں کر رہے ہیں مگر ان کی ہمت اسرائیل پر حملے کرنے کی نہیں ہو رہی ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ ان کو اسرائیل ۔امریکہ کی پشت پناہی حاصل ہے بلکہ انہی کی یہ بچہ تنظیم ہے۔ جیسے امریکہ اور برطانیہ نے فلسطینیوں کی زمین پر یہودیوں کو بسایا ان کی حکومت کو تسلیم کیا اور ان کو ہتھیاروں سے لیس کر دیا تاکہ وہ عربوں کو سبق سکھا سکیں اور امریکہ اور برطانیہ تیل کے کنویں پر قبضہ جمائے رہیں اور سعودی عرب کا بادشاہ اور دیگر ممالک کے شیوخ ان کے اشارے پر رقص کرسکیں۔ آج پورے عرب ممالک میں انہی دونوں ملکوں کی چلتی ہے۔ عرب کے بادشاہ ہوں یا شیوخ سب امریکہ اور اسرائیل کے اشارے یا حکم کا انتظار کرتے ہیں۔ بادشاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان نے کس طرح ڈونالڈ ٹرمپ کا استقبال کیا تھا اور کس قدر تحفتہً ریال کی تھیلی کھول دی تھی کہ جتنا چاہیں حضور لے لیں۔ دنیا کو معلوم ہے کہ ایران پر صدام نے امریکہ کے اشارے پر حملہ کیا تھا اور آٹھ سال تک جنگ چلتی رہی۔ آٹھ لاکھ افراد جاں بحق ہوئے۔ کئی شہر تباہ و برباد ہوگئے۔ بعد میں صدام حسین نے کویت کو اپنے قبضے میں لینے کیلئے حملہ کیا تھا۔ سعودی عرب صدام کی مدد کر رہا تھا اور جب صدام نے سعودی عرب کو آنکھ دکھایا تو سعودی عرب کے آقا امریکہ نے اپنی فوج سعودی عرب بھیج دی۔ آج تک امریکی فوج سعودی عرب میں قیام پذیر ہے۔ جو لوگ بادشاہ اور شہزادہ سے فائدہ اٹھاتے ہیں وہ آج بھی ان کا گن گاتے ہیں۔ 
جہاں تک داعش کی بات ہے تو ضرورت ہے کہ تمام مسلم ممالک اور دیگر ممالک جو اسے انسانیت کا دشمن سمجھتے ہیں اکٹھا ہوکر اسے نیست و نابود کرنے کی کوشش کر یں ۔ امریکہ اور اسرائیل اپنے اس ناجائز بچہ کو اپنے ہاتھوں سے ہر گز ختم نہیں کریں گے جس طرح اسرائیل کو دشمنانِ اسلام زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح اسے بھی زندہ رکھیں گے۔یہ ساری انسانیت کے دشمن اور قاتل ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب قرآن مجید میں صاف صاف بیان کیا ہے کہ ایک کا قاتل سب کا قاتل ہوتا ہے: 
’’جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کر دیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی‘‘۔ (سورہ المائدہ:32)
ہم سب اس حقیقت سے کما حقہ واقف ہیں کہ دنیا میں انسان کی زندگی کی بقا اس پر منحصر ہے کہ ہر انسان کے دل میں دوسرے انسانوں کی جان کا احترام موجود ہو اور ہر ایک دوسرے کی زندگی کے بقا و تحفظ میں مدد گار بننے کا جذبہ رکھتا ہو۔ جو شخص ناحق کسی کی جان لیتا ہے وہ صرف ایک فرد پر ظلم نہیں کرتا بلکہ یہ بھی ثابت کرتا ہے کہ اس کا دل حیاتِ انسانی کے احترام سے اور ہمدردی نوع کے جذبہ سے خالی ہے، لہٰذا وہ پوری انسانیت کا دشمن ہے کیونکہ اس کے اندر وہ صفت پائی جاتی ہے جو اگر تمام افراد انسانی میں پائی جائے تو پوری نوع کا خاتمہ ہوجائے۔ اس کے برعکس جو شخص انسان کی زندگی کے قیام میں مدد کرتا ہے در حقیقت انسانیت کا حامی ہے؛ کیونکہ اس میں وہ صفت پائی جاتی ہے جس پر انسانیت کی بقا کا انحصار ہے۔ 
موبائل: 9831439068

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here