تیری نسل پاک میں ہے بچہ بچہ نور کا…… خواجہ معین الدین چشتی کا خاندانی سلسلہ 

0
1766
All kind of website designing

غوث سیوانی، نئی دہلی

اس دنیا کا نظام مرد وعورت سے چلتا ہے۔ ساری دنیا کے لوگ کسی نہ کسی کی اولاد ہیں اور اللہ نے اس دنیا کو آدم وحوا کے ذریعے پھیلایا ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا’’اے لوگو، اللہ سے ڈرو، جس نے تمہیں ایک نفس سے پیدا فرمایا اور اس سے بہت سے مرد وعورت پھیلائے۔‘‘
دنیا کا انحصار نسل آدم پر موقوف ہے اور اسلام دین فطرت کے طورپر انسانی ضرورتوں کو سمجھتا ہے لہٰذا اس نے مجرد زندگی جینے کو پسند نہیں کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود نکاح فرمایا اور مسلمانوں کو نکاح کرنے کا حکم بھی دیا۔ اگر کوئی مالی تنگی کے سبب نکاح نہ کرسکے تو اس کے لئے روزے رکھنے کا حکم ہے تاکہ جنسی خواہشات پر قابو پایا جاسکے۔ صوفیہ کی خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے دوسرے مذاہب کے عابدوں اور زاہدوں کی طرح زندگی سے سنیاس نہیں لیا بلکہ دنیا میں رہے اور زندگی کے تقاضے پورا کرتے رہے۔ انھوں نے شادیاں کیں اور اہل وعیال والے رہے۔ انھوں نے بچوں کی پرورش اور تربیت کی انھیں زندگی کے طور طریقے سکھائے۔ حضرت خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ بھی ایسے ہی صوفیہ میں سے تھے جس کی اپنی گھریلو زندگی تھی اور بال بچوں کے ساتھ رہتے سہتے تھے جو عین سنت رسول کا مطالبہ ہے۔ خواجہ صاحب کی زندگی کا بیشتر حصہ سفر میں گزرا۔ بچپن میں یتیم ہوگئے مگر پھر بھی حصول تعلیم کے لئے نکل پڑے۔ تعلیم سے فارغ ہوکر پیرومرشد کی خدمت میں پہنچے اور اور مجاہدات میں مصروف ہوگئے۔ سفر وحضر میں اچھا خاصا وقت مرشد کے ساتھ گزارا ۔ دنیا کے کئی ملکوں کی سیاحت کی۔ اللہ والوں سے ملاقات کی اور ان کی صحبت سے فیضیاب ہوئے۔ حج بیت اللہ و زیارت مدینہ منورہ کی اور پھر ایک غیبی اشارہ پاکر ہندوستان میں تبلیغ اسلام کے لئے چلے آئے۔ لگاتار مصروفیتوں میں آپ کا وقت گزرا اور کبھی ایک جگہ ٹک کر بیٹھنے کی فرصت نہیں ملی کہ شادی کرکے اہل وعیال کے ساتھ زندگی گزار سکیں لہٰذا عمر پچاس کو پارکرگئی اور تب آپ نے شادی کی۔
نکاح اول
خواجہ معین الدین چشتی کی پہلی شادی بی بی عصمت سے ہوئی جو کہ اجمیر کے باشندہ وجیہ الدین مشہدی کی بیٹی تھیں۔ آپ انتہائی پاکیزہ خصلت، عبادت گزار اور دیندار تھیں۔ آپ کا خاندان اجمیر کا معزز ترین خاندان مانا جاتا تھا۔ تذکرہ نویسو ں کا اندازہ ہے کہ یہ شادی ۵۸۹ھ میں ہوئی تھی۔ تذکرہ کی کتابوں میں آتا ہے کہ بی بی عصمت کے والد سید وجیہ الدین مشہدی نے خود خواب میں دیکھا تھا کہ حضرت امام جعفر صادق نے آکر اس رشتے کا حکم دیا اور یہ بھی کہا کہ یہ مرضئ رسول ہے۔ اس خواب کے بعد وہ خود خواجہ غریب نواز کی خدمت میں پہنچے اور خواب کا ذکر کرکے رشتے کی بات کی تو آپ مان گئے۔خواجہ صاحب نے ارشاد فرمایا اگرچہ عمر زیادہ ہوچکی ہے مگر میں حکم رسول کا پابند ہوں اور اطاعت میں سر خم کرتا ہوں۔ نکاح اول کے وقت عمر کیا تھی، اس میں تذکرہ نگاروں کا اختلاف ہے۔ 
نکاح ثانی
پہلے نکاح کے بعد آپ نے دوسرا نکاح بھی کیا۔ آپ کی دوسری اہلیہ کا نام امت اللہ بتایا جاتا ہے۔ یہ نام آپ نے ہی رکھا تھا۔ وہ ایک نومسلمہ تھیں اور کسی راجہ کی بیٹی تھیں۔ اسلام قبول کرنے کے بعد وہ خوش دلی سے آپ کے نکاح میں آئیں۔ 
اولاد
خواجہ صاحب کی پہلی بیوی محترمہ بی بی عصمت سے آپ کے تین صاحبزادے ہوئے جن کے نام تھے خواجہ فخرالدین، خواجہ ضیاء الدین ابو سعید اور خواجہ حسام الدین ابو صالح۔ آپ کی دوسری بیوی امت اللہ سے ایک بیٹی بی بی حافظ جمال تھیں جن کی قبر مزار خواجہ سے متصل ہے۔ 
خواجہ فخر الدین
خواجہ صاحب کے بڑے صاحبزادے خواجہ فخرالدین ابولخیر کی ولادت ۵۹۰ھ میں ہوئی۔ آپ نے خواجہ صاحب کی زیر نگرانی روحانی منزلیں طے کیں اور منزل کمال کو پہنچے۔ علم وفضل میں یکتائے زمانہ تھے ، باوجود کے اس کے کھیتی باڑی کا پیشہ اختیار کیا۔ جب خواجہ خواجگان ، سلطان شمس الدین التمش
سے ایک کسان کی سفارش کرنے دہلی جارہے تھے، تو خواجہ ابوالخیر نے بھی اپنی عرضی دے دی۔ آپ کو خواجہ صاحب سے خلافت حاصل تھی۔آپ اپنے والد کی زندگی میں بیس سال تک زندہ رہے اور ۵شعبان المعظم ۶۵۳ھ کو انتقال فرمایا۔اجمیر سے ۵۰کلو میٹر کے فاصلے پر سرواڑ شریف میں قبر ہے۔ آپ کے پانچ بچے ہوئے۔
خواجہ ضیاء الدین
خواجہ معین الدین چشتی کے منجھلے صاحبزادے کا نام خواجہ ضیاء الدین ابوسعید تھا۔ آپ بھی اپنے بڑے بھائی کی طرح صاحب علم وفضل تھے۔ آپ نے زیادہ لمبی عمر نہیں پائی اور صرف پچاس سال کی عمرمیں انتقال کیا۔ آپ اجمیر شریف میں درگاہ کے قریب ہی دفن ہیں۔ اس جگہ کو جھالرہ کہتے ہیں اور یہاں محرم میں تعزیوں کو ٹھنڈا کیا جاتا ہے۔ ذی الحجہ کی تیسری تاریخ کو آپ کا عرس منایا جاتا ہے۔ خواجہ ضیاء الدین کے دو لڑکے ہوئے خواجہ احمد اور خواجہ وجیہہ ۔
خواجہ صاحب کے تیسرے صاحبزادے خواجہ حسام الدین ابوصالح تھے جو راہ سلوک کے وارفتہ تھے۔ ۴۵سال کی عمر میں اپنے ہی جیسے لوگوں کے ساتھ غائب ہوگئے اور پھر کچھ پتہ نہیں چل پایا۔ آپ کے سات بچے تھے۔ 
بی بی حافظ جمال
بی بی حافظ جمال خواجہ ساحب کی اکلوتی بیٹی تھیں ۔ آپ بے حد متقی وپرہیزگار تھیں۔تارا گڑھ پہاڑ پر ایک مقام آج بھی آپ کی چلہ گاہ کے طور پر مشہور ہے۔ یہاں عبادت وریاضت میں مصروف رہتی تھی۔ آپ کا نکاح خواجہ حمیدالدین ناگوری کے صاحبزادے شیخ رضی الدین سے ہوا تھا،جو ایک خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ آپ کے یہاں دو بچے ہوئے مگر وہ بچپن میں ہی فوت ہوگئے۔ شیخ رضی الدین کی قبر ناگور میں ہے مگر بی بی حافظ جمال کا انتقال اجمیر میں ہوا تھا لہٰذا خواجہ صاحب کے مزار کے احاطے میں ہی انھیں دفن کیا گیا۔ ۱۷ رجب کو ان کا عرس منایا جاتا ہے۔ 
خواجہ صاحب کی اولاد کا سلسلہ 
خواجہ معین الدین چشتی کی نسل پاک میں بہت بڑے بڑے اولیاء صوفیہ اور علماء پیدا ہوئے۔ گو انھیں حضرت خواجہ بختیار کاکی ، بابا فریدالدین اور نظام الدین اولیاء جیسی شہرت نہیں ملی مگر ان میں بیشتر علم وفضل اور روحانیت میں بلند مرتبے پر فائز تھے۔ سبھوں نے سلاسل تصوف کو عام کرنے میں اہم کردار نبھایا اور اپنے جد امجد کے مشن کو آگے بڑھانے کا کام کیا۔ ان میں چند بزرگوں کا ذکر خیر بر محل ہوگا۔
خواجہ حسام الدین سوختہ
یہ خواجہ صاحب کے بڑے صاحبزادے خواجہ فخرالدین کے بیٹے تھے۔ سوختہ کا مطلب ہے جلا ہوا۔ آپ کے دل میں ہردم عشق حقیقی کی آگ لگی رہتی تھی اور طبیعت میں سوز وگداز کی کیفیت تھی لہٰذا آپ سوختہ کے لقب سے جانے جاتے تھے۔ آپ کو حضرت شیخ نظام الدین اولیا کی خدمت میں رہنے کا موقع ملا۔ سوختہ کے دو لڑکے ہوئے جنھوں نے خاندانی روایت کو زندہ و پائندہ رکھا۔ ان کے نام تھے خواجہ معین الدین خرد اور خواجہ قیام الدین بابرپال۔ آپ نے ۷۴۱ھ میں انتقال کیا۔
خواجہ احمد اور وحید
خواجہ ضیاء الدین ابو سعید کے دونوں صاحبزادے بے حد نیک اور پارسا تھے۔انھیں بھی اپنے عہد میں خاصی شہرت حاصل ہوئی۔ ان میں خواجہ وحید کو بابا فریدالدین گنج شکر سے فیض صحبت کا موقع ملا۔ بابا سے مرید ہونے کی خواہش ظاہر کی تو پہلے بطور تکلف بیعت سے انکار کرتے ہوئے کہامیں نے آپ کے خانوادے سے یہ دولت حاصل کی ہے۔ میری کیا مجال ہے کہ تمہارا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لوں، لیکن اصرار کرنے پر رضامند ہوگئے اور اپنا مرید بنالیا۔ 
خواجہ معین الدین خرد
خواجہ معین الدین خرد ، خواجہ حسام الدین سوختہ کے بڑے فرزند تھے۔ آپ نے عبادت وریاضت کی بنیاد پر تصوف وعرفان میں اعلیٰ مقام حاصل کیا۔شیخ نظام اولیاء کے خلیفہ حضرت نصیرالدین چراغ دہلی سے مرید ہوئے اور خلافت پائی۔ آپ کثیرالعیال تھے۔ ۷۶۱ھ میں انتقال ہوا۔
خواجہ قیام الدین بابر پال
خواجہ حسام الدین سوختہ کے چھوٹے فرزندا ور خواجہ معین الدین خرد کے حقیقی بھائی تھے خواجہ قیام الدین بابرپال۔ آپ بے حد بہادر، جری اور بیباک قسم کے انسان تھے ۔ کسی سے خوفزدہ ہونا سیکھا ہی نہیں تھا۔آپ کا انتقال ۷۶۷ھ میں ہوا۔ 
خواجہ قطب الدین چشت خاں
حضرت چشت خان کے نام سے شہرت رکھنے والے بزرگ، خواجہ معین الدین خرد کے پڑپوتے تھے ۔ چشت خان کا خطاب سلطان محمود خلجی نے دیا تھا۔ آپ سلطان کی فوج میں سپہ سالار تھے اور بارہ ہزار سواروں کے افسر مقرر ہوئے تھے۔ مانڈو اور مالوہ میں سکونت تھی۔ اخیر عمر تک یہیں رہے۔ آپ کی پہچان ایک فوجی افسر کی تھی۔ 
خواجہ نجم الدین خالد
خواجہ حسام الدین سوختہ کے پوتے تھے خواجہ نجم الدین خالد۔ آپ صاحب علم وفضل تھے اور روحانیت کا ذوق رکھتے تھے۔ ۷۷۶ ھ میں انتقال فرمایا۔ اپنے پسماندگان میں دوبیٹوں کو چھوڑا۔ 
سید کمال الدین حسن احمد
خواجہ نجم الدین خالد کے ایک صاحبزادے کا نام سید ابوزید اور دوسرے کا نام سید کمال الدین حسن احمد تھا۔ آپ پائے کے بزرگ تھے اور اعلیٰ علمی ذوق رکھتے تھے۔ آپ کو کئی الگ الگ علوم وفنون میں مہارت تھی۔ ۷۸۶ھ میں انتقال ہوا۔
تاج الدین بایزیدبزرگ
حضرت تاج الدین بایزید بزرگ، حضرت سید کمال الدین حسن احمد کے صاحبزادے تھے۔ اپنے دور کی معتبر شخصیت ہیں۔ عالم دین تھے ۔ مانڈو کا حکمراں سلطان محمود خلجی آپ کا معتقد تھا۔ اجمیر میں قیام رکھتے تھے مگر کچھ لوگوں کی مخالفت کے سبب یہاں کی سکونت ترک کرنی پڑی۔ سلطان نے دوبارہ فضا ہموار کی اور آپ کو اجمیر میں درس ووعظ کے لئے بھیجا۔ شیخ الہند مفتی محمود دہلوی کی بیٹی سے آپ کا نکاح ہوا تھا۔ ۸۸۰ھ میں انتقال فرمایا۔
شیخ نور الدین ظاہر 
حضرت تاج الدین بایزید کے صاحبزادے شیخ نور الدین ظاہر تھے جو صاحب علم وفضل کے ساتھ ساتھ صاحب باطن بھی تھے۔ عرصہ دراز تک اصلاح وہدایت کے کام میں لگے رہے۔ سماع کی اصلاح پر زور دیتے تھے۔ آپ کی شادی خواجہ مخدوم حسین ناگوری کی صاحبزادی سے ہوئی اور ۹۰۵ھ میں انتقال فرمایا۔ 
سید رفیع الدین بایزید خرد
سید نورالدین ظاہر کے صاحبزادے سید رفیع الدین بایزید خرد باعلم ہونے کے ساتھ ساتھ باعمل بھی تھے۔ عبادت وریاضت میں کثرت کرتے تھے اور لوگ آپ کو صاحب کشف وکرامت سمجھتے تھے۔ اجمیر میں خواجہ صاحب کی درگاہ کے قریب درس وتلقین کیا کرتے تھے۔ صوفی حمیدالدین ناگوری کے خاندان میں شادی ہوئی تھی۔ ۹۲۲ھ میں انتقال ہوا۔ 
خواجہ معین الدین چشتی رحمۃ اللہ علیہ کی نسل میں بہت سے اہل علم وفضل اور صاحب تقویٰ بزرگ ہوئے ہیں۔ ان کی فہرست بہت طویل ہے جن میں سے صرف چند بزرگوں کا یہاں ذکر کیا گیا۔ اگر اختصار میں ذکر ہو تو سید معین الدین ثالث، خواجہ حسین مجذوب، دیوان خواجہ حسین، خواجہ ابولخیر، خواجہ حسن اجمیری کے نام انھیں اہم شخصیات میں لئے جاسکتے ہیں۔                (یو این این)

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here