مطالعہ، مشق اور اظہار کے طریقوں پر توجہ دینا انتہائی ضروری :خالدمحمود

0
1270
پوڈیم پر جاپانی ریسرچ اسکالرموراکامی آسوکا،ناظم اجلاس صالحہ صدیقی اور اجلاس کے صدورپروفیسرخالدمحمودوپروفیسرشریف حسین قاسمی
All kind of website designing

غالب انسٹی ٹیوٹ و قومی کونسل برائے فروغ اردوزبان کے زیر اہتمام منعقد بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار کا دوسرا روز

نئی دہلی:غالب انسٹی ٹیوٹ وقومی کونسل براے فروغ اردوزبان کے زیر اہتمام منعقد بین الاقوامی ریسرچ اسکالرزسمینار کے دوسرے روز کے پہلے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے انجمن ترقی اردو ہند کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر اطہرفاروقی نے کہاکہ مقالوں کا رجحان تنقید کی طرف ہے۔اچھے متون کی ترتیب وتدوین کے کام نہیں ہورہے ہیں۔شعری متن پڑھنے کی بھی صلاحیتیں ہم سے ختم ہورہی ہیں۔ تحقیق اور عام زندگی میں مقالات لکھنے میں فرق ہوتا ہے۔حوالہ جات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ مقالہ لکھنے کے وقت حوالہ جات کی بڑی اہمیت ہے اور حوالے پورے دینے چاہئیں۔دس منٹ میں ایسا مقالہ لکھیں ۔جو آپ کا اور آپ کے موضوع کا کما حقہ تعارف کرادے۔اس اجلاس میں محمد آثار احمدانصاری،شاہین ترنم ،نوربانو، گلشن بنجارہ،وسیم اقبال نحوی،عرفان عسکری، شاذلی خان زینب نازاورخوشترزریں نے اپنے مقالات پیش کئے۔اس اجلاس کی نظامت عبدالرزاق نے کی ۔ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار کے دوسرے روز کے دوسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر خالد محمود نے کی انہوں نے اپنی گفتگو میں کہا کہ میں رسمی طور پر تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد دیتاہوں۔ہمارے طلبہ وطالبات کو پہلے اتنے مواقع نہیں ملتے تھے۔ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم طلبہ وطالبات کی حوصلہ افزائی بھی کریں اور ان کی اصلاح بھی۔اس طرح کے سمیناروں میں اظہارمافی الضمیر کی ادائیگی سے طلبہ وطالبات میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔ مطالعہ، مشق اور اظہار کے طریقوں پر توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔یہاں آکر مجھے احساس ہوا کہ کئی بار غیر ممالک کے لوگ بھی اکتساب علم کی وجہ سے اہل زبان سے آگے بڑھ جاتے ہیں۔جاپان سے آئیں اسکالر نے سب سے اچھا مقالہ پیش کیا۔مجھے محسوس ہی نہیں ہوا کہ یہ اہل زبان نہیں ہیں۔ اس سمینار میں اپنی یونیورسٹی کے نمائندوں کو بھیجنے سے پہلے ان کی تیاری کرانی چاہیے اور پہلے شعبہ میں انہیں سننا چاہیے ،مشق کرانی چاہیے۔ لوگ کہتے ہیں کہ اردو پر برا وقت آپڑا ہے مگر مجھے آپ سب کو دیکھ کر لگ رہاہے کہ اردو کا اچھا وقت آگیا ہے۔ پروفیسر شریف حسین قاسمی نے اپنی صدارتی گفتگو میں کہا کہ آپ چاہیں جتنی اچھی باتیں کہیں مگر جیسے ہی آپ کا تلفظ خراب ہوتا ہے آپ کی اہمیت ختم ہوجاتی ہے۔ تلفظ کی درست ادائیگی ناگزیر ہے۔ میں آپ سب کو اور بالخصوص منتظم اداروں کو مبارک باد پیش کرتاہوں۔اساتذہ کو عبارت خوانی پر توجہ دینی چاہیے، جو درست عبارت نہیں پڑھ سکتا وہ عبارت کی درست تفہیم سے بھی محروم رہے گا۔ اس اجلاس کی نظامت صالحہ صدیقی نے کی۔ اس اجلاس کی خاص بات یہ رہی کہ اس میں جاپانی اسکالر مورا کامی آسوکانے شرکت اور اپنامقالہ پیش کیا ان کے علاوہ قمر جہاں، محمد شاداب شمیم، شاہدعالم، مسروراحمدحیدری، آصفہ زینب اور محمد ارشد نے اپنے مقالات پیش کیے۔ دوسرے روز کے تیسرے اجلاس کی صدارت پروفیسر عراق رضا زیدی اور پروفیسر اخلاق احمد آہن نے کی اس اجلاس کی نظامت فرمان چودھری نے کی۔اس اجلاس میں صدارتی تقریر کرتے ہوئے پروفیسر اخلاق احمد آہن نے کہا کہ آپ کی تحقیق کے کام کا یہ ابتدائی زمانہ ہے۔ اس وقت موضوع کا انتخاب کرتے ہوئے آپ اختصاص کا خاص خیال رکھیں کسی خاص پہلو پر لکھیں اور سیر حاصل گفتگو کریں۔ کوئی مقالہ لکھنے سے پہلے اس موضوع پر لکھی گئی کتابوں پر آپ کی نظر ہونی چاہیے۔ باز گوئی اور تکرار سے پرہیز کریں۔اردو فکشن دنیا میں ہماری عظیم فتوحات کی فہرست میں شامل ہے ۔ پروفیسر عراق رضا زیدی نے اپنی صدارتی تقریر میں کہا کہ ہم جب بھی کچھ کہیں تو اس کے پس منظر کو دیکھ لینا چاہیے۔تمام مقالہ نگاروں کو میں مبارک باد پیش کرتاہوں۔ آپ سب کو محنت کرنی ہے تاکہ زندگی کے طویل سفر کو کامیابی کے ساتھ طے کرسکیں اور تحقیق وتنقید کے میدان میں کارنامے انجام دے سکیں ۔ اس اجلاس میں انجم پروین، ندامعید، اشتیاق احمد، محمد جاوید، نسرین صدیقہ، نغمہ تبسم ،جاوید عالم اور تکمینہ حبیب نے اپنے مقالات پیش کیے۔ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار کے دوسرے روز کے آخری اجلاس کی صدارت ڈاکٹر علی اکبر شاہ اور ڈاکٹر شعیب رضا خان وارثی نے کی اور نظامت شہباز رضا نے کی۔ اس اجلاس میں شاہد رضی، رہبررضا، سروری بیگم، امتیاز احمد، وصی الدین سردار، تنویر مظہر، محمد رفیق اور شیخ اصغرنے اپنے مقالات پیش کیے۔اس موقع پر دونوں صدور نے تمام مقالہ نگاروں کو مبارک باد دی ۔ان کے مقالوں پر تبصرے کیے اور انہیں اچھے اور بہتر تجزیے ،تنقیداور تحقیق کاسلیقہ بتایا ۔خیال رہے کہ بین الاقوامی ریسرچ اسکالرز سمینار کے دوسرے روز کے تمام اجلاسوں میں یونیورسیٹیوں کے اساتذہ ،طلبہ وطالبات اور معززین شہر نے شرکت کی اور اپنی خوشی کا اظہارکیا ۔آخر میں غالب انسٹی ٹیوٹ کے ڈائرکٹر ڈاکٹر سید رضا حیدر نے تمام مقالہ نگاروں ،صدورحضرات اور سامعین کا شکریہ ادا کیا اور کہاکہ ہماری کوشش رنگ لا رہی ہے ۔قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان اور غالب انسٹی ٹیوٹ کے خواب شرمندہ تعبیرہورہے ہیں ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here