آلِ سعود یا فرعون؟

0
772
All kind of website designing

ابوحنظلہ عبدالاحد قاسمی

آج جدہ کی ایک مسجد کا ویڈیو دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں کل جمعہ کے روز ایک معمر خطیب دوران خطبہ سعودی حکام کی بعض غلطیوں پر کچھ تنقید کردیتا ہے اور پھر آناً فاناً میں سلامتی دستے کے اہلکار محراب کے راستے سے مسجد میں داخل ہوتے ہیں اور بیچارے خطیب کو خطبہ کے دوران ہی گھسیٹ کر مار پیٹ کرتے ہوئے مسجد سے باہر لیجاتے ہیں، ویڈیو میں تو اتنا ہی ہے لیکن آگے جو ہوا ہوگا اس سے سب واقف ہیں، اب اس خطیب کو اپنی زندگی کس اندھیر کوٹھری میں پوری کرنی ہے یہ شاید وہ خود بھی نہ جانتے ہوں۔
ہم ہندوستان میں رہتے ہیں اور باوجودیکہ یہاں غیروں کی حکومت ہے لیکن پھر بھی حکومت کی پالیسوں پر کھلے عام نقد کرتے ہیں، بعض علماء تو لاکھوں کے مجمعوں میں وزیراعظم کا نام لیکر سخت سست کہہ جاتے ہیں لیکن ایسا نظارہ ہندوستان میں آج تک ہماری نظروں سے نہیں گذرا جب کسی عالم کو دوران تقریر ہی گرفتار کرلیا گیا ہو۔
حکومت کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے علماء کو سعودی عرب میں زندگی بھر کے لئے کسی کال کوٹھری میں پھینک دیا جاتا ہے، ان کے یہاں یہ روایت آج سے نہیں عرصہ دراز سے جاری ہے ۔
گذشتہ دنوں عالم عرب کی مشہور علمی شخصیت شیخ عائض القرنی کو صرف اس لئے قید کردیا گیا کہ انہوں نے قطر سے ہمدردی کا اظہار کردیا تھا، اس کے علاوہ شیخ سلمان العودہ مدت سے صرف اس لئے نظربند ہیں کہ انہوں نے سعودی عرب میں سنیما اور تھیٹر کی مخالفت کردی تھی ۔
یہ وہ آل سعود ہیں جو امریکہ و اسرائیل کے لئے تو بچھے جارہے ہیں لیکن اپنے مسلمان بھائیوں کے لئے ان کے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوچکے ہیں،
ناچیز ایک مرتبہ جدہ گیا تو ہمارے رہبر نے امریکی سفارتخانے کے قرب و جوار میں واقع وہ مساجد دکھائی جہاں لاؤڈ اسپیکر میں اذان صرف اس لئے ممنوع ہے کہ کہیں قریب میں قیام پذیر امریکیوں کو ڈسٹرب نہ ہو
آج عربستان میں جہاں بھی قتل و خونریزی ہورہی ہے اس میں یہ ظالم آل سعود براہ راست شامل ہیں، کون نہیں جانتا عراق، لیبیا، مصر، یمن جیسے اسلامی ممالک کو کو تباہ و برباد کرنے میں یہی بدبخت سعودی حکام براہ راست ملوث ہیں،
ان ظالموں نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے آثار مبارکہ کو تو شرک اور بدعت کہہ کر ختم کردیا جبکہ اپنے آباء و اجداد کے نام پر بڑے بڑے آثار قائم کرلئے حتی کہ بیت اللہ شریف کے پردے پر بھی اپنے اور اپنے باپ دادا کے نام کندہ کرادیئے، سعودی عرب کے ہر ہوٹل اور دوکان میں اپنی تصویریں آویزاں کرنے کو لازم قرار دیدیا، حرم مکہ سے بالکل متصل جبل ابی قبیس جیسے تاریخی پہاڑ کو تراش کر اپنے عالیشان محلات تعمیر کرلئے عرب کے سارے قدرتی ذخائر یہود و نصاری کو نیلام کردئیے ۔ میدان بدر اور جعرانہ جیسے تاریخی مقامات کو کھیل کے میدانوں میں تبدیل کردیا اور پھر تماشہ دیکھئے کہ اپنے تمام جرائم و بدمعاشیوں پر خادم الحرمین الشریفین کا پردہ ڈال دیا ۔
آج شام اور عراق میں ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں لیکن یہ بدبخت آل سعود سنیما اور تھیٹرز کے افتتاح میں مشغول ہیں ۔ یہ ظالم ٹرمپ کی بیٹی کو اس کے ایک پروجیکٹ کے لئے 100 ملین ڈالر چندہ دیدیتے ہیں لیکن شام کے بلکتے و سسکتے معصوموں کے لئے ان کے پاس کچھ نہیں،
یہ ظالم آج امریکہ و اسرائیل جیسے آقاؤں کی شہ پر فرعون بننے کے خواب دیکھ رہے ہیں لیکن انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ خدا کی پکڑ بڑی سخت ہے ۔
ہم یہی دعا کریں گے کہ یا تو اللہ انہیں ہدایت دے یا پھر ان کے ناپاک وجود سے عرب کی مقدس دھرتی کو پاک فرماکر عرب کی قیادت کے لئے صلاح الدین ایوبی جیسے کسی نیک صالح مرد مجاہد کو پیدا فرمائے۔ آمین

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here