دہشت گردی کیخلاف جنگ میں کامیابی کیلئے نیشنل انٹریسٹ کو اولیت دینا ضروری : مولانا محمود مدنی

0
808
All kind of website designing

مسلم نوجوان کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے میں کمپیوٹر ہونا چاہئے : نریندرمودی

نئی دہلی۔یکم مارچ ،نیا سویرا لائیو: اُردُن کے شاہ عبداللہ ثانی ابن الحسین کے ہاتھوں اور وزیر اعظم نریندر مودی کی موجودگی میں ہز رائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد کی کتاب’ ’ پرنس اے تھنکنگ پرسنز گائیڈ ٹو اسلام ’’کے اردو ایڈیشن کا اجراء قومی دارالحکومت میں واقع وگیان بھون میں عمل میں آیا۔اس کتاب کا ا نگریزی ایڈیشن انگلینڈ سے شائع ہوا تھا اور اب اس کی افادیت کی پیش نظر جمعےۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے اس کا اردو ایڈیشن شائع کرایا ہے۔ مزید زبانوں بالخصوص ہندی اور گجرات ی میں بھی اس کا ایڈیشن جلد شائع ہو گا ۔

اس موقع پر کتاب کا تعارف پیش کرتے ہوئے مولانا محمودمدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ ملک اور سماج میں کمیونلزم اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے کسی خاص سیکشن کے انٹریسٹ کے مقابلے میں نیشنل انٹریسٹ کا سپریم ہونا ضروری ہے۔ مولانا مدنی نے اس موقع پر ۸؍نکاتی خطاب میں جہاں اسلام کے پیغام امن اور رواداری پر روشنی ڈالی وہیں ملک کے لیے مسلمانوں کی وسیع خدمات کا بھی ذکر کیا ۔ ذیل میں مولانا مدنی کے خطاب کا متن پیش ہے . ہز رائل ہائی نیس پرنس غازی بن محمد کی کتاب( اسلام کا تعارف ، باشعور قارئین کے لیے‘‘)کی اشاعت میرے لیے کوئی فارملیٹی نہیں بلکہ ایک ہسٹوریکل ایوینٹ ہے ۔اس کتاب میں ٹرومیننگ آف اسلام، یونیورسل میسیج آف لو، پیس اینڈ کواکزیس ٹینس پرعالمانہ طریقے سے روشنی ڈالی گئی ہے۔ ہز مجیسٹی شاہ عبداللہ ثانی ابن الحسین نے اس کتاب کے فورورڈ میں بجا طور پر فرمایا ہے کہ اس کی اشاعت سے آپسی خلیج کو پُر کرنے میں ایک حد تک مدد ملے گی۔ ہم انڈینز کے لیے آپسی بھائی چارہ ، محبت اور رواداری سب سے زیادہ امپورٹنٹ ہے ، کیوں کہ ہمارے دیش میں ہر دھرم ، ہر رنگ، ہر نسل ، ہر تہذیب کے پھول کھلتے ہے۔ جو چیز ہمیں جوڑتی اور ایک قوم بناتی ہے وہ نہ ہمارا مذہب، نہ رنگ، نہ نسل ، نہ تہذیب اور نہ زبان ہے بلکہ ہم سب باہمی محبت کے دھاگے سے بندھی ہوئی ایک قوم ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ یہ نیشنل یونیٹی کسی حادثہ کی و جہ سے پیدا ہوئی بلکہ سنچریز سے یہ اس راشٹر کی آتما او راس کی مٹی میں رچی بسی ہےہمارے  ملک کی مقدس شخصیتیں شری رام چند ر جی،مہاتما بودھ،

کتاب کی رسم اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولنا محمودنی۔۔۔

،  مہاویر جین اور ان کی انسانیت سے محبت پر مبنی تعلیمات ہندستانیوں کی رگ رگ میں پیوست ہیں ۔ ان کے بعد ہزارہا ہزار صوفیائے کرام نے سرورکائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے اسلام کے پیغام محبت کو اس ملک میں پریزینٹ اور انٹروڈیوس کرایا۔چنانچہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ ،حضرت بابا فرید گنج شکرؒ ،حضرت نظام الدین اولیاءؒ ، خواجہ امیر خسرورحمہم اللہ، گرونانک ، تلسی داس اور کبیر داس جیسے صوفیوں اور سنتوں نے جو محبت کے گیت گائے وہ ہماری اسلامی اور قومی وراثت ( نیشنل ہیریٹیج) کی پہچان ہیں ۔ ہم ہندستانی مہاراجاؤں اور بادشاہوں کے بجائے اپنے زمانے کے ایک فقیر سلطان الہند خواجہ معین الدین اجمیریؒ کو اپنے دل میں بیٹھاتے ہیں جنھوں نے دلوں کو جیتا اور جو دل جیتتا ہے وہی اصلی بادشاہ ہو تاہے۔ مہاتما گاندھی کی کامیابی کا راز ان کا سب کو ایک ساتھ ملا کر چلنا تھااور ان کے ساتھ کندھے سے کندھا ملا کر چلنے والے ہمارے اکابر شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور مولانا ابوالکلام آزادرحمہم اللہ باہمی رواداری اور نیشنل انٹیگریشن کے بڑے پرچارک تھے ۔ مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے مذہب اسلام کی تعلیمات کی بنیاد پر پارٹیشن کا ورودھ کیا اور کمپوزٹ نیشنلزم کا نظریہ پیش کیا جس نے بھارت میں جمہوریت اور سیکولرزم کے قیام میں بڑا رول ادا کیا ہے ۔ لوگوں کا دل جیتنے کے لیے مسلمانوں کے پاس دو ہتھیار ہیں : ایک ایمان اور دوسرا اسلام ہے ، اسلام سے سلامتی اورایمان سے امن کامعنی نکلتا ہے ۔پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مسلمان کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ’’ مومن وہ ہے جس کے ہاتھوں تمام انسانوں کی جانیں اور مال محفوظ رہیں‘‘۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ا یک دوسری جگہ فرمایا کہ’’ مسلمان وہ ہے جس سے کسی انسان کو خطرہ پیدا نہ ہو ‘‘۔ دین اسلام کے اسی ماڈل کو پیش کرتے ہوئے جمعیۃ علماء ہند نے ہمیشہ کمیونلزم اور ٹیررز م کے خلاف جہاد کیا ہے ، ہماری لڑائی پچھلے ایک ڈکیڈ سے جاری ہے ۔ ہم دہشت گردی کے خلاف چھ ہزار مفتیوں اور علماء کی طرف سے فتوی لے کر آئے اور اس کے بعدملک کے کونے کونے میں جاکر ڈھائی سو سے زیادہ کانفرنسیں کیں ۔ہم نے دنیا کو بتایا کہ ٹیررزم کے خاتمے میں اسلام ہی کا سب سے بڑا رول ہو گا۔ میں دنیا کی بڑی طاقتوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے ریزولیشن میں اسلام کے میسیج آف پیس کو شامل کریں ، کیوں کہ ریلیجین دنیا کی میجاریٹی کے لیے مارگ درشک ہے ۔اس لیے نفرت اور برائی کو مٹانے میں مذہب سے بڑا کوئی ہتھیار نہیں ہے ۔ اسلام دیش واسیوں کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ ملک اور سماج میں کمیونلزم اور دہشت گردی کو روکنے کے لیے کسی خاص سیکشن کے انٹریسٹ کے مقابلے میں نیشنل انٹریسٹ کا سپریم ہونا ضروری ہے ۔ ہمارے بڑوں نے مذہبی نقطہ نظر سے راشٹرہت کو بڑی اہمیت دی ہے ۔ ہمارے بڑوں کا فیصلہ ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کا انٹریسٹ اس نیشن کے انٹریسٹ سے الگ نہیں ہو سکتا۔میں کنفیڈینٹ ہوں کہ ان شاء اللہ یہ کتاب دنیا میں پھیلی ہوئی بدامنی اور اسلام کے بارے میں مس کنسیپشن کے ختم کرنے میں بڑا رول پلے کرے گی ۔میں یہ بھی بتانا چاہتا ہوں کہ اس کا ہندی اور گجراتی ٹرانسلیشن بھی بہت جلد آنے والاہے۔ اس موقع اپنے تہنیتی خطاب میں وزیر اعظم نریندرمودی نے کہا کہ ہر مسلم نوجوان کو ایک ہاتھ میں قران مجید اور دوسرے ہاتھ میں کمپیوٹر ہونا چاہئے ۔دہلی کے وگیان بھون میں منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مودی نے کہا کہ کوئی بھی مذہب دھشت گردی کی اجازت نہیں دیتا ۔اور دھشت گردی کے خلاف جنگ کی کوئی بھی مذہب مخالف نہیں کرتا ۔انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں دنیا کے تمام مذاہب کے ماننے والے رہتے بستے ہیں ہندوستان کثرت میں وحدت کی زندہ مثال ہے نریندرمودی نے مسلم نوجوانوں کو مشورہ دیا کہ وہ اپنے مذہبی عقائد پر عمل کرتے ہوئے عصری ٹیکنالوجی سے بھی لیس ہوں ۔ہر مسلم نوجوان کے ایک ہاتھ میں قرآن مجید اور دوسری ہاتھ میں کمپیوٹر ہونا چاہئے ۔کانفرنس میں اردن کے شاہ عبداللہ نے کہا کہ مذہب کے نام تفرقہ پیدا کرنے والوں کی مخالفت کرنے کا مشورہ دیا ۔تمام مذاہب کے افراد کو پیار و محبت کے ساتھ زندگی گزارنے کی تلفیق کی ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here