کرناٹک اسمبلی الیکشن میں مسلمان جوش سے نہیں ہوش سے کام لیں

0
1036
کرناٹک اسمبلی
All kind of website designing

سمیع احمد قریشی، ممبئی ۔ 9323986725

آج دنیا میں حکومتیں بہت سی طرز کی ہیں۔ ان میں جمہوری طرزحکومت،آج کی دنیا میں سب سے عمدہ ، بہترین اور معیاری مانا جاتا ہے۔برصغیر کے علمائے کرام کا تقریباً اجماع ہو چکا ہے کہ فی زمانہ نظام جمہوریت ہی قابل عمل نظام حکومت ہے۔ تمام مسلم ممالک میں زیادہ تر دینی جماعتیں بھی شریعت کے نفاذ کے لئے جمہوریت کا راستہ اپنانے کے لئے متفق ہیں۔

جمہوری حکومت ، یعنی عوام کی حکومت عوام کے لئے اور عوام کے ذریعہ مانی جاتی ہے۔ ہمارے ملک کی 15؍اگست 1947 ء کو آزادی کے بعد26؍ جنوری 1950 ء کو ملک کا انتظام حکومت یعنی ملک کا نظام حکومت طے کرنے کیلئے ایک آئین،دستور نافذ کیا گیا۔ یہ دستور کئی مہینوں کے بعد سخت مشقت ومحنت کے ساتھ انتہائی غور وخوض کے بعد نافذ کیا گیا۔ نمایاں ماہر قانون اور ملک کی نمایاں سماجی شخصیت ڈاکٹر بابا صاحب بھیم راؤ امبیڈ کر کی سربراہی میں ایک دستور ساز کمیٹی نے بنایا۔ جس میں متعدد مذاہب اور سماج کے متعدد طبقات کے سرکردہ افراد شامل تھے۔ ملک کا نظام حکومت چلانے کے لئے جمہوری طرز کو اپنایا گیا۔ آگے چل کردستور ہند میں سیکولرازم کو شامل کیا گیا۔ یوں سیکولر ازم کو بنیادی حیثیت دے کر ملک کے دستور میں واضح پہچان دی گئی۔ ہمارے ملک بھارت میں کثرت میں وحدت ہے۔ متعدد مذاہب ،زبانوں، تہذیب وکلچرل کو ماننے والوں کا ملک سینکڑوں سالوں سے ہے۔ اس بات کا دستور بنانے اور اسے نافذ کرنے میں پورا مکمل خیال کیاگیا۔ نیز دنیا میں متعدد حکومتوں کے دستور کا مطالعہ کیاگیا۔ ہمارے ملک کا دستور بنانے میں ، دینا کے متعدد دستوروں کی بھی اچھی باتوں کو شامل کیاگیا۔ مختصراً یہ کہ ا نتہائی عمیق مطالعہ اورمشقت کے بعد ہی ملک کے دستور میں انسانی اقدار کو بے پناہ شامل کیاگیا۔ ہمارے ملک کو ،دستوری لحاظ سے جمہوری حیثیت دینے کاملک کے عوام نے بناء کسی امتیاز مذہب وزبان اور کسی بھی بھید بھاؤ کے اسے سراہا اور پسند کیا۔ ہمارے ملک کا دستور، آئین دنیا کی حکومتوں کے متعدد دستور اور آئین سے امتیاز رکھتا ہے۔ اعلیٰ اوصاف اور بے پناہ اقدار میں انتہائی اعلی اور منفرد ہے۔ملک کے مجاہدین آزادی اور اعلیٰ اخلاقی اقدار رکھنے والوں کی حیات میں1950ء میں ان تمام کی مرضی اور خوشی کے ساتھ نافذ ہوا۔

یہ الگ بات ہے کہ چند مٹھی بھر ہندوتواوادی عناصر ہمارے پیارے اور مقدس دستور کی اس کے قیام روز سے سخت مخالفت کرتے آئے ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ دستور ہندمیں اپنا کچھ بھی نہیں ہے۔ اس میں مغربی ممالک کا ہے۔ان مخالفت کرنے والوں کا اصرار ہمیشہ سے یہ رہا ہے کہ یہ ملک ہندوؤں کا ہے۔ہندو مذہب کی مذہبی کتابوں کے پیش نظر ملک کے دستور کو نافذ کیا جانا ضروری ہے۔ ان عناصر کو ملک کے ترنگے پرچم سے ہی نفرت ہے۔ ہندوؤں کی مذہبی کتاب منو سمرتھی کے مطابق دستور ہونا چاہیئے اس کے لئے وے کوشاں ہے۔آر ایس ایس ایک ہندوتواوادی تنظیم ہے،اس کا قیام1924ء کو ہمارے ملک بھارت میں ہوا۔ اس کا مقصد ملک میں ہندو راشٹر کا قیام کرنا ہے۔ انسانی،اخلاقی اقدار سے ہندوتواوادیوں کو بلا کی نفرت و عداوت ہے۔ اسی کے ساتھ اخلاقی شخصیتوں کے ساتھ بھی ان کا رویہ یہی ہے۔ با بائے قوم مہاتما گاندھی سے ہندتواوادیوں کو انتہائی عداوت رہی۔ جس کی خاص وجہ مہاتماگاندھی کا اعلیٰ اخلاقی کردار بالخصوص، قومی یک جہتی اور دلتوں کی فلاح بہبودی اور ہندو مسلم اتحاد تھا۔ تمام مذہبی، نسلی ودیگر عصبیت کو ڈھا دینے والا تھا۔ مہاتما گاندھی کو جان سے مار دینے والا قاتل نتھو رام گوڈسے کا تعلق ہندوتواوادی پارٹی آر ایس ایس سے تھا۔ قتل کرنے کے جرم میں جسے پھانسی کی سزا ہوئی۔ ہندوتواوادی آر ایس ایس کی قیادت میں ملک میں متعدد ہندوتواوادی ذیلی شاخیں وجود میں آچکی ہیں۔ یہ سماجیات کے نام پر ملک میں متعدد شعبۂ حیات میں نفرتوں کا زہر گھول رہی ہیں۔ کانگریس سمیت انسانیت کو ماننے والی متعدد سیکولر پارٹیاں ان شر پسند ہندوتواوادی پارٹیوں کو لگام دینے میں ناکام رہی ہیں۔ پہلے جن سنگھ اور اب بھارتیہ جنتا پارٹی،آر ایس ایس ہی کا ایک بازو ہیں۔ برسہابرس کی محنت مشقت اور عیاری وچالاکی کے ساتھ ہی گذشتہ پارلیمانی الیکشن میں محض تقریباً31؍فیصد ووٹ لیکرآج مرکز میں ہندوتواوادی بی جے پی کی حکومت ہے۔ جس کے سربراہ آر ایس ایس کے سابق پرچارک مودی جی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے متعدد صوبوں میں ہندوتواوادی بی جے پی کی سرکاریں ہیں۔ان ہندوتواوادی سرکاروں ہی کی بنا پر ہمارا ملک بھارت ایک انتہائی پر آشوب دور سے گذر رہاہے۔ تمام پسماندہ طبقات، دلت، آدیواسیوں، اقلیتوں، کسانوں، مزدوروں اور سب سے زیادہ برا حال مسلمانوں کا ہے۔ جس پر تمام مظلوم طبقات ہی پرزور مذمت واحتجاج کررہے ہیں جن میں تمام طبقات کے سابق اور موجودہ جج حضرات، صحافی، وکلاء، سماجی حضرات، سابق اعلیٰ سرکاری افسرا ن اور سا بق اعلیٰ فوجی افسران بھی شامل ہیں۔

ہماری جمہوریت میں ووٹ ہی کے ذریعہ نظام حکومت سنبھالنے کے لئے حکومتیں بنتی ہیں۔ ووٹ انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ ووٹ گواہی کی مانند ہے۔ہم جس پارٹی یا فرد کو ووٹ دے رہے ہیں ،اس کے ایماندار ومعیاری ہونے کی گواہی یا شہادت دے رہے ہیں۔ ووٹ کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر کرنا اشد ضروری ہے۔ چاہے امیدوار اپنا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔ فرقہ پرست عناصر، انسانیت دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم کی خاطر ووٹ کی اہمیت وافادیت کو بہ خوبی سمجھتے آئے ہیں۔ہندوتواوادی عناصر میں ووٹنگ کا رجحان بہت ہی شدت کے ساتھ ہے۔ان میں ووٹنگ کا فیصد سالہ سال سے انتہائی خوب ہوا کرتا ہے۔ وہ افراد جو مستند طور پر ہندو نہیں ہیں، ان کے دماغوں کو گمراہ کرکے سالہ سال سے ہندوواوادی پارٹی اور امیدوار کو سیٹ دلانے میں استادی کرتے آئے ہیں ۔ نیز مسلم اور سیکولر ووٹوں کی تقسیم اور ان میں کم ووٹنگ کروانے میں ، ہندوتواوادی انتہائی عیاری کے ساتھ آگے آگئے ہیں۔ ہم مسلمانوں کی حالت ووٹنگ کے معاملہ میں انتہائی خستہ ہے۔ واضح فکر وعمل سے پیدل ہیں۔ جس کا خمیازہ بھی ہمیں زیادہ تر بھگتنا پڑتا ہے۔ ہم سیاست اور ووٹ پر انتہائی کچے ہیں کہ واضح طور پر حلقہ انتخاب میں ہماری واضح اکثریت ہونے کے باوجود ایک سے زائد مسلم امیدوار ہونے کی بنا پرہندوتواوادی پارٹی کا امیدوارکامیاب ہوجاتا ہے۔پانچ سال تک کامیاب امیدوار کی مدت ہوتی ہے، وہ ہمارے لئے عزیمت کا باعث ہو جاتا ہے۔ اسے ہی کہتے ہیں۔

لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی 

اللہ کا شکر ہے آج مسلمانوں میں ووٹ اور دستور ہند پر بیداری آ رہی ہے۔ جہاں وہ ہندوتواوادیوں کے خلاف اور مظلوموں کے ساتھ ہاتھ ملاتا نظر آرہا ہے ۔ وہیں وہ اپنے ووٹوں کے استعمال میں بھی دانش مندی دکھلاتا نظر آرہاہے۔ وہ مسلم ’’ووٹ کٹوا ‘‘ امیدوار اور پارٹی کو بھی جاننے لگا ہے ۔ جس کا نظارہ،مشاہدہ ،ہم نے گذشتہ گجرات اسمبلی الیکشن اور ماضی قریب میں مغربی بنگال اور راجستھان کے پارلیمانی اور اسمبلی کے ضمنی الیکشن میں دیکھا۔ گجرات اسمبلی الیکشن میں ہندوتواوادی مشن150 ؍یعنی اسمبلی کی کل 182 ؍سیٹوں میں 150 سیٹوں پر کامیابی کامنصوبہ لے کر انتہائی کروفر کے ساتھ انتخابی اکھاڑے میں اترے مگر صرف 99 ؍سیٹوں پر ہی کامیابی ہوئی۔ دلت،پسماندہ، پاٹیدار کے ساتھ ساتھ مسلم رائے دہندگا وں نے گجرات اسمبلی الیکشن میں بڑی کامیابی کا ہندتواوادیوں کا سپنا چور چور کردیا۔یہ کام اکیلے کانگریس کے بس کا نہ تھا۔ مغربی بنگال اور راجستھان کے ضمنی انتخابات میں،مسلمانوں نے عمدہ حکمت عملی سے کام لیتے ہوئے ،جہاں مغربی بنگال میں ترنمول کانگریس اور دوسری طرف راجستھان میں کانگریس کو کامیاب بنایا۔ کہیں بھی بی جے پی کو دیگر رائے دہند گاوں کی مدد سے اسمبلی اور پارلیمنٹ کے ضمنی انتخابات میں اک بھی سیٹ پر کامیاب ہونے نہیں دیا۔ حالانکہ اک سے زیادہ سیاسی پارٹیوں کے امیدوار مسلم تھے۔نیز کئی مسلم آزاد امیدوار بھی ایک دوسرے کے سامنے کھڑے تھے۔ مسلم رائے دہندگاوں کے درمیان تذبذ ب و انتشاراوربڑے پیمانے پر انتشار کے خدشات تھے۔

شریعت کی نظر میں ذاتی مفاد کے لئے ووٹ دینے والے خائن اور منافق ہیں۔ ووٹنگ ایک طرح سے گویا بیعت کے قائم مقام ہے۔ووٹ دے کر آپ ایسے شخص، پارٹی اور اس کے اتحادکو اقتدار میں لاتے ہیں،جو آپ کے نزدیک دوسروں سے بہتر ہے۔ گویاو وٹ ڈالنا ایک طرح سے رائے و مشورہ دینا ہے۔حدیث میں ہے کہ جب کسی سے مشورہ یا رائے طلب کی جائے تو نہایت ایمانداری سے مشورہ دے اور منافق کی علامت یہ بتلائی گئی ہے کہ امانت میں خیانت کرے۔ پتہ چلا کہ جو لوگ ملک و ملت کے خلاف و وٹ دیتے ہیں وہ شریعت کی نظر میں خائن اورمنافق ہیں۔ جو شخص ذاتی مفاد،وقتی مصلحت یا چند پیسوں کی خاطر ووٹ دے اور وہ پارٹی اپنی کامیابی کے بعد اگلے پانچ سالوں تک جن پالیسیوں پر عمل کرے گی۔ ان سے ملک،ملت اور اسلام کو زک ہوگی،اس کا اسلام کے نزدیک حکومت کے جراثیم اور گناہ میں،اس پارٹی یا شخص کو ووٹ دینے والا بھی برابر کاشریک اور گناہ گار ہوگا ۔ ہندوستا ن میں مسلمانوں کے پاس اک ہی طاقت بچی ہے ،وہ ووٹ کی طاقت ہے۔ اگر ووٹ نہ ہوتا تو مسلمانوں کو شاید ہی کوئی پارٹی منہ لگاتی۔

حدیث شریف میں صاف صاف ہے کہ جوشخص مسلمانوں کے معاملات کو اہمیت نہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ یعنی وہ صحیح معنی میں مسلمان نہیں ہے۔

عنقریب کرناٹک اسمبلی کا الیکشن ہے۔ جو انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ووٹ دیتے ہوئے مسلمانوں کو انتہائی دانشمندی کا ثبوت دینا ہے۔ ہندوتواوادی بی جے پی کے ساتھ ساتھ کانگریس کے علاوہ دیگر سیکولر پارٹیاں بھی انتخابی میدان میں نظر آرہی ہیں۔ مسلم آزاد امیدوار بھی ہوں گے۔ ہمارے کئی سالہ تجربہ کی بنیاد پر یہ کہنا آسان ہے کہ یہاں سیکولر کانگریس اور ہندوتواوادی بی جے پی کے درمیان مقابلہ نظر آرہا ہے۔ ہمیں اپنا ووٹ ہندوتواوادی بی جے پی کو شکست دینے کے لئے کانگریس ہی کو وٹ دینا چاہیئے۔ ہمارے سلف اور صالحین کا بھی طریقہ تھا کہ دو برائیوں میں سے اگر کسی برائی کا انتخاب کرنا ہوتا تھا تو کم برائی کا انتخاب کیا کرتے تھے کہ جب تک کوئی معیاری متبادل نکل نہ آئے۔**

 

 

 

 

 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here