آزادی ہند میں جمعیۃ علماء ہند اور مسلمانوں کی جدوجہد محمد یاسین قاسمی جہازی جمعیۃ علماء ہند

0
1353
All kind of website designing

آزادی ہند میں جمعیۃ علماء ہند اور مسلمانوں کی جدوجہد
محمد یاسین قاسمی جہازی
جمعیۃ علماء ہند

چھبیس جنوری یعنی جشن جمہوریہ کی مناسبت سے ایک خصوصی تحریر
حقیقت یہ ہے کہ ہندستان کے تمام برادران وطن کی مشترکہ کوششوں سے ہندستان آزاد ہوا ہے۔ ہم اس تحریرمیں فی الحال جمعیۃ علماء ہند،علمائے کرام اور مسلمانوں کی جدوجہد کی ایک مختصر تاریخ پیش کر رہے ہیں۔
۱۔ ۲۳؍ جون ۱۷۵۷ میں سراج الدولہ نے پلاسی میں آزادی کی پہلی لڑائی لڑی۔
۲۔ ۱۷۸۳ میں ٹیپو سلطان نے انگریزوں کو شکست فاش دی۔
۳۔ ۱۸۰۳ میں شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ کے فرزند شاہ عبدالعزیز رحمۃ اللہ علیہ نے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتوی دیا۔
۴۔ ۱۸۵۷ میں شاملی کے میدان میں سرخیل علمائے دیوبند نے انگریزوں سے جنگ کی۔
۵۔ حریت وطن کے جاں نثار پیدا کرنے کے لیے ۳۰؍ مئی ۱۸۶۶ میں دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی۔
۶۔ ۱۸۸۵ میں حصول آزادی کے لیے ہندو مسلم کا مشترکہ پلیٹ فارم آل انڈیا کانگریس بنائی گئی۔
۷۔ مسلمانوں کی سیاسی نمائندگی کے لیے ۱۹۰۵ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی نیو رکھی گئی۔
۸۔ آزادی ہند کے لیے ۱۹۱۲ میں شیخ الہندمولانا محمود حسن دیوبندی رحمۃ اللہ علیہ نے ریشمی رومال کی تحریک چلائی۔
۹۔ ۲۳؍ نومبر ۱۹۱۹ میں سبھی علمائے کرام نے ایک متحدہ پلیٹ فارم بنام ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کی داغ بیل ڈالی۔
۱۰۔ ۱۹۲۰ میں گاندھی جی کی تحریک ’’ ترک موالات‘‘ کو جمعیۃ علماء ہند نے ملک گیر پیمانے پر چلایا۔اور فرقہ پرستی کی ذہنیت کو پنپتے دیکھ کر اس پر
قدغن لگانے کے لیے برادران وطن کے ساتھ مل کر آزادی کی لڑائی لڑنے کے لیے کانگریس سے اتحاد کیا۔
۱۱۔ ۱۹۲۱ میں حصول آزادی کی تحریک چلانے پر شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ و دیگر ذمہ داران جمعیۃ کو گرفتار کر لیا گیا۔
۱۲۔ ۱۹۲۲ میں کونسلوں سے بائکاٹ کی تحریک چلائی۔
۱۳۔ ۱۹۲۳ میں ہندو مسلم اتحاد کو توڑنے والی تحریک شدھی سنگھٹن کا مقابلہ کیا۔
۱۴۔ ۱۹۲۴ میں انگریزوں کے مذہبی منافرت پھیلانے کی کوششوں کو ناکام بنادیا۔
۱۵۔ ۱۹۲۵ میں فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے انتھک اور لازوال جدوجہد کی۔
۱۶۔ ۱۹۲۶ میں گورنمنٹ برطانیہ کی طرف سے آرڈی نینس اور ریگولیوشن نمبر ۳۔ ۱۸۱۸ء کے نفاذ کو جبرو تشدد قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی۔
۱۷۔ ۱۹۲۷ میں ہندو مسلم کی مشترکہ جدوجہد کو سرد کرنے والی برطانیہ کی سازش سائیمن کمیشن کا مکمل بائکاٹ کیا۔
۱۸۔ ۱۹۲۸ میں مکمل آزادی کے بجائے برطانوی حکومت کے تحت مراعاتی حکومت کی وکالت کرنے والی ’’نہرو رپورٹ‘‘ کی شدید مخالفت کی۔
۱۹۔ ۱۹۲۹ میں گاندھی جی کی تحریک ’’نمک سازی ‘‘ میں اپنا تعاون پیش کیا۔
۲۰۔ ۱۹۳۰ میں تحریک سول نافرمانی کو جنگی پیمانے پر ہندستان کے کونے کونے میں چلایا۔
۲۱۔ ۱۹۳۱ میں آزاد ہندستان کے لیے دستوری خاکہ پیش کیا، جو تاریخ میں مدنی فارمولہ کے نام سے مشہور ہے۔
۲۲۔ ۱۹۳۲ میں حصول آزادی کی کوشش کو مہمیز کرنے کے لیے ادارہ حربیہ قائم کیا۔
۲۳۔ ۱۹۳۳ میں مکمل آزادی حاصل کرنے کے لیے پورے ہندستان میں مظاہرے اور جلوس نکالے گئے۔
۲۴۔ ۱۹۳۴ میں مظاہرے و جلوس میں گرفتار مجاہدین آزادی کے لیے رہائی کی لازوال کوشش کی۔
۲۵۔ ۱۹۳۵ میں گورنمنٹ آف انڈیاایکٹ ۱۹۳۵ کو پاس کرانے کی بھرپور جدوجہد کی۔
۲۶۔ ۱۹۳۶ میں مطالبہ پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے متحدہ قومیت کا نظریہ پیش کیا۔
۲۷۔ ۱۹۳۷ میں تقسیم ہند کی مخالفت کی وجہ سے اکابرین جمعیۃ کو لوگوں کی ناراضگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔یہاں تک کہ شیخ الاسلام کو شیخ الاصنام کہا گیا۔
۲۸۔ ۱۹۳۸ میں انگریزوں نے تقسیم کے بہانے، مذہبی منافرت پھیلانے کی انتھک کوشش کی، لیکن جمعیۃ نے اس کا بھرپور مقابلہ کیا۔
۲۹۔ ۱۹۳۹ میں گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ میں کامل آزادی کا ذکرنہ ہونے کی وجہ سے اس کی شدید مخالفت کی۔
۳۰۔ ۱۹۴۰ میں مجاہدین آزادی پر عرصہ حیات تنگ کرنے کے خلاف انقلابی لڑائی لڑی۔
۳۱۔ ۱۹۴۱ میں ’’ستیہ گرہ ‘‘ تحریک کو ملک گیر پیمانے پر چلایا۔
۳۲۔ ۱۹۴۲ میں جمعیۃ نے دو ٹوک اعلان کردیا کہ ’’ انگریزو ! ہندستان چھوڑ دو‘‘۔
۳۳۔ ۱۹۴۳ میں تیزی سے پھیلتے فرقہ پرستی کی ذہنیت کو آزادی کی راہ میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے اس کا ہر ممکن مقابلہ کیا۔
۳۴۔ ۱۹۴۴ میں ڈیفینس آف انڈیا رولز کی مخالفت کی اور گرفتار مجاہدین آزادی کی رہائی کے لیے ملک گیرتحریک چلائی۔
۳۵۔ ۱۹۴۵ میں برطانیہ نے مجبور ہوکر ہندستانیوں کی عارضی حکومت کے لیے دیول پلان پیش کیا، جس کا جمعیۃ نے خیر مقدم کیا۔
۳۶۔ ۱۹۴۶ میں مطالبہ تقسیم کی شدت کے باوجود اسے مکمل طور پر مسترد کردیا اور مکمل آزادی کا مطالبہ دہرایا۔
۳۷۔ ۱۹۴۷ میں ۱۴؍ جون کو کانسٹی ٹیوشن ہاوس میں کانگریس کے اجلاس میں تقسیم ہند کی تجویز پر جمعیۃ علماء ہندنے یہ کہتے ہوئے دستخط کرنے سے انکار کردیا کہ تقسیم کے نتیجے میں پیش آنے والے ہولناک خاک وخون کی ہولی میں لاکھوں بے گناہوں کے خون سے اپنا ہاتھ نہیں رنگنا چاہتی۔
۳۸۔ ۱۹۴۷ میں ۱۵؍ اگست کو یوم آزادی کے اعلان پر مسرت کا اظہار کیا، لیکن تقسیم کے نتیجے میں ہولناک تباہی اور خوفناک غارت گری نے ساری خوشیاں خاک میں ملادی، اس لیے جمعیۃ نے اس خونی سیاست سے کنارہ کشی کا فیصلہ کیا۔ اور یہ فیصلہ لیا کہ اب جمعیۃ علماء ہند صرف ملی ، سماجی رفاہی فلاحی، امدادی اور تعلیمی میدان میں کام کرے گی۔جس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۹۔ اوراب یہی جماعت ۔۔۔ ۔۔۔ جمعیۃ علماء ہند ، ہند میں سرمایہ ملت کی نگہبان ہے۔ ہندستانی مسلمانوں کی مسیحا ہے۔ مظلوموں ، بے قصوروں کا سہارا ہے اور ملت اسلامیہ ہند کی ترجمان ہے۔جو زیر صدارت امیر الہند حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیۃ علماء ہند اور قائد جمعیۃ حضرت مولانا سید محمود اسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند کی نظامت میں اپنی منزل کی طر ف کشاں کشاں رواں دواں ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here