اسرائیلی وزیر اعظم کی آمد کے خلاف احمد آباد میں جمعیۃ علماء ہند کااحتجاجی مظاہرہ  

0
655
All kind of website designing

جمعیۃ علماء ہند کے زیر اہتمام احمد آباد میں احتجاجی مظاہرے پر پولس نے روک لگائی ، جاری پریس کانفرنس روکنے کی کوشش ، میڈیا کے لوگوں کو آنے سے روکا، دفتر جمعےۃ کے باہر پولس کا پہرہ، ضلع جمعیۃ جنرل سکریٹری کو پولس اسٹیشن پر بندی بنایا گیا 

نئی د ہلی؍ احمد آباد ،نیا سیرا لائیو: اسرائیلی وزیر اعظم کے احمد آباد پہنچنے پر آج جمعےۃ علماء ہند نے سابر متی آشرم اور یہودی معبد خانہ کے پاس احتجاج کرنے کی تیاری کررکھی تھی ، لیکن عین وقت پر احمد آباد پولس انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ اس کے بعد خان پور میں واقع جمعیۃدفتر میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کو طاقت کے بل پر روکنے کی کوشش کی، نہ صرف ریاستی جمعےۃ دفتر کے باہر پولس کا پہرہ بیٹھایا دیا گیا ، بلکہ پریس کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے میڈیا کو پولس کی جانب سے گمراہ کیا گیا اور ضلع جمعےۃجنرل سکریٹری مفتی ارشد کو صبح سے گائیکواڈ حویلی پولس اسٹیشن میں بندی بنا کر رکھا گیا ۔

ان تمام دباؤ کے باوجود جمعیۃعلماء ہند کے قومی جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی ہدایت پرجمعےۃ علماء گجرات کے دفتر میں تنظیم کارکنان احتجاجی بینر اور پلے کارڈ اٹھائے جمع ہوئے اور دوپہربارہ بجے پریس کانفرنس شروع ہوئی ۔ پریس کانفرنس میں جمعےۃ علماء ہند کے سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی ، پروفیسر نثار احمد انصاری ناظم اعلی جمعےۃ علماء گجرات،مفتی محمد اسجد قاسمی نائب صدر جمعےۃ علماء گجرات، انل بھائی مہیریا بامسیف راشٹریہ آل ماناریٹی مورچہ ، جیتندر بالاویا وغیرہ نے شرکت کی ۔ پریس کانفرنس میں احمد آباد پولس انتظامیہ کے رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایمرجنسی جیسے حالات سے تعبیر کیا گیا ۔ شرکاء نے پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعیۃعلماء ہند کی جیسی امن پسند تنظیم کو آج سرکاری انتظامیہ نے احتجاج کی اجازت نہیں دی ، اس لیے اس پریس کانفرنس کے ذریعہ ہم اپنا احتجاج درج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔حالاں کہ دہلی اور ممبئی میں احتجا ج میں کوئی رکاوٹ نہیں تھی، آخر احمد آباد میں ایسا کیوں کیا گیا؟ پریس کانفرنس میں انتظامیہ کے اس استدلال کو غلط قراردیا گیا کہ وہ ہمارے مہمان ہیں ۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ جمہوریت میں سرکار ی موقف ک عوام پر نہیں تھوپا جاسکتا اور دوسری صاف بات یہ ہے کہ ہم ظالم و جابر کا استقبال نہیں کرسکتے ، چاہے ہمیں اس کی سزا بھگتنی پڑے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے برطانیہ کے حکمرانوں کا بھی استقبال نہیں کیا جب کہ وہ یہاں کے خود ساختہ ان داتا بنے ہوئے تھے ، آج اسرائیل اسی قدیم برطانوی استعماری سوچ کا علم بردار ہے ، اس لیے اس کے استقبال کا کوئی سوال قائم نہیں ہوتا ۔ بھلا ہم گاندھی کی دھرتی اور ان کے آشرم میں ایک ایسے شخص کا کیسے استقبال کرسکتے ہیں جس کے ملک کے قیام او راس کی پالیسی کی گاندھی جی نے ز ندگی بھر مخالفت کی ۔

پریس کانفرنس میں مزید کہا گیا کہ ہم ظالم و جابر ملک اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہوکی ہندستان آمد او راس سے مختلف میدانوں میں تعلقات وسیع کرنے کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔ہندستان کے عوام نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے ، نیز اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کے متاثرین تباہ حال فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ دہائیوں سے ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی امن کی حمایت میں رہی ہے ، مگر ان دنوں اس سے انحراف کی راہ اختیار کی جارہی ہے ۔ہم ہندستان کے عوام اسے بالکلیہ طور سے غلط اور ملک کی قدیم تہذیب وروایت کے منافی تصور کرتے ہوئے مسترد کرتے ہیں ۔یہ حیرت کی بات ہے کہ ہندستان جو خود دو صدی تک امپریلز م اور توسیع پسند طاقتوں کے ہاتھوں غلام رہا اور جس کے خلاف تمام ہندستانیوں نے مشترکہ طور سے طویل عرصے سے جنگ لڑکر آزادی حاصل کی ، آج سترسال بعد ہماری حکومت اسی طرح کی سوچ او رفکر والی طاقت سے ہا تھ ملانے کو باعث اعزاز سمجھ رہی ہے ، جو درحقیقت یہاں کی تہذیب اور قدیم کلچر کے ساتھ دھوکہ اور مذاق ہے ۔ہم جب کہ اگلے سال (۲۰۱۹ء ) جلیانوالہ باغ میں ہندستان کے مظلوم شہریوں پر ظالم انگریز فوج کے ذریعہ قتل عام کی صدی منارہے ہیں، اس موقع پر اُسی طرح کی حکومت اور سوچ رکھنے والے اسرائیل کے ساتھ ہاتھ ملار ہے ہیں، جس نے غازہ پٹی اور یروشلم میں بے شمار معصوموں اور بچوں کا بے دریغ قتل کیا اور اس کا سلسلہ جاری ہے ۔

اس لیے ہم اسرائیل کے وزیر اعظم کی آمد اور دونوں ملکو ں کے مابین تعلقات مسترد کرتے ہیں کیو ں کہ یہ اسرائیل کے ذریعے مسلسل بین الاقوامی قوانین کی مخالفت اور حقوق انسانی کی پامالی کی پشت پناہی کے مترادف اور اسے جواز فراہم کرنا ہے۔ہم اسرائیل کی مخالفت محض اس لیے بھی نہیں کررہے ہیں کہ وہ’ اسرائیل‘ہے بلکہ اس لیے بھی ہم آج افسوس ظاہر کررہے ہیں کہ ہم ہندستانی ہیں، جس کی ایک تہذیب ہے، جس کی ایک تاریخ ہے ، ہماری تاریخ ظالموں سے لڑنے کی ہے نہ کہ اس سے گلا ملنے کی ۔ہم ایک ہندستانی کی حیثیت سے اپنی تاریخ اور کلچر کو خود سے جدا کرکے آگے نہیں بڑھ سکتے ۔

آج کے مظاہرے او رپریس کانفرنس میں مختلف علاقوں سے آئے جمعےۃ علماء ہند کے ذمہ داران شریک تھے۔ درج بالا شرکاء کے علاوہ یہ نام بھی خاص طو ر سے قابل ذکر ہیں : مولانا محبوب الرحمن، حافظ بشیر احمد آرگنائز ر جمعےۃ علماء ہند، اسلم بھائی قریشی سکریٹری جمعےۃ علماء احمد آباد، ابرار احمد ، معین الدین احمد ( رکھیال ) مولانا محمد عارف صدیقی کالوپور،انیس بھائی قریشی رانب، الیاس شاہی چٹنی والے کالوپور، حافظ محسن کالوپور، قاری عبدالباسط وٹوا اور قاری محمد راغب،،

 

 

 

 

 

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here