مولانا حیا ت اللہ کی وفات جمعیۃ علماء کا ذاتی خسارہ: محمود مدنی 

0
1266

نئی دہلی ، نیا سو یرا لائیو: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے حضرت مولاناحیات اللہ قاسمی مہتمم مدرسہ نورالعلوم بہرائچ و سابق صدر جمعےۃ علماء اترپردیش کے سانحہ ارتحال پر گہر ے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ مولانا مرحوم جمعےۃ علماء کے نہایت ہی فعال اور مخلص خادم تھے اور تنظیم کی ہر تحریک میں ہمیشہ پیش پیش رہتے ۔ مولانا مرحوم۲۰۰۱ء سے ۲۰۱۵ء تک جمعےۃ علماء اترپردیش کے صدر او رتادم واپسیں جمعےۃ علماء ہند کی مجلس عاملہ کے موقر رکن رہے ۔مرحوم ذاتی زندگی میں بھی محبت، تقوی،انابت الی اللہ اور زہد و اخلاص کے پیکر اور ایک صائب رائے انسان تھے ۔ تقریبا تین دہائی تک جامعہ مسعودیہ نورالعلوم بہرائچ کے نائب مہتمم اور مہتمم کے عہدے پر فائز رہے او رشبانہ روز انتھک محنت سے ادارہ کے تعلیمی سفر کو پروان چڑھایا۔مولانا مرحوم دارالعلوم دیوبند سے فاضل تھے، جمعےۃ علماء ، دارالعلوم دیوبند اور خاندان مدنی سے گہرا تعلق رکھتے تھے، ۔ تقریبا ایک سال سے وہ سخت بیمار تھے ، شوگر کی زد میں آکر آنکھ کی بینائی چلی گئی ، دماغ پر بھی گہرا اثر پڑا تھا ، مگر ان حالات میں بھی جمعےۃ علماء ہند کے پروگراموں اور ان کے اکابر کے احوال دریافت کرتے رہتے ۔۱۴؍جنوری کی صبح جیسے ہی کے انتقال کی خبر ملی ، مولانا محمود مدنی ان کے اہل خانہ سے تعزیت کرنے بہرائچ پہنچے ، جہاں انھوں نے نماز جنازہ بھی پڑھائی اور تدفین میں شریک ہوئے ۔صدر جمعےۃ علماء ہند نے مولانا مرحوم کے لواحقین اور اہل خانہ کو صبر کی تلقین کرتے ہوئے تمام جماعتی احباب اور اربا ب مدارس اسلامیہ سے اپیل کی ہے کہ مولانا مرحوم کے لیے دعائے مغفرت اور ایصال ثواب کا اہتمام کریں ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here