قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)

0
1552
All kind of website designing

 

محمد یاسین قاسمی جہازی جمعیۃ علماء ہند
قیام اسرائیل اور قرآن (ایک شرعی تجزیہ)
محض لفظ یہود سے ہی ہر تاریخ شناس کا دل یہ سوچنے اور سمجھنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ وہ گروہ جو ہر لمحہ، ہر جگہ اور ہر زمانے میں ذلت و مسکنت کا پیکر رہا ہے اور جو لوگوں اور قوموں؛ حتیٰ کہ انبیائے کرام علیہم السلام کی زبانوں سے مطعون و ملعون اور غیر مصون تھا۔
ادھر چند دہائی پیشتر ۱۹۴۶ء میں برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر بالفورڈ وزیر نے فلسطین کے قریب اور عرب کے سویدائے قلب میں ایک یہودی حکومت (نام نہاد اسرائیل) کی بنیاد ڈالی تھی، جس سے جہاں ایک طرف ہمارے عرب بھائیوں کے جگر کٹ گئے ، تو دوسری طرف ہمارے دینی بھائیوں کے دلوں میں یہ خلجان پیدا ہونے لگا کہ کہ جب قرآن نے انھیں ہمیشہ کے لیے محکوم اور ذلت و رسوائی کا موجب قرار دیا ہے تو اسرائیل میں یہودیوں کی حکومت کیسے قائم ہوگئی ، گویا یہ قرآنی تصریحات اور اسلامی تبشیرات کے خلاف واقعہ پیش آگیا، جب کہ دین اسلام کی ہر بات سچی اور اچھی ہے اور اس کا ہو قول سراسر صداقت و عدالت کا مجسمہ ہے اور دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں ہے ، جو قرآن اور اسلام بڑھ کر صداقت اور سچائی میں ان کا ہم پلہ ہو۔
لیکن یہ بات فہم و تدبرسے بالا تر ہے کہ ہمارے ان اسلامی بھائیوں کو شبہات کہاں سے ، کیسے اور کیوں کر پیدا ہوئے ، جب کہ قرآن اس سلسلے سے بالکل خاموش ہے۔نہ ان کی حکومت کے قیام سے متعلق کچھ کہا ہے اور نہ ہی عدم قیام کی بابت کچھ روشنی ڈالی ہے ؛ بلکہ ان یہودیوں کے متعلق صرف تین چیزوں کی صراحت کی ہے (۱) ذلت و مسکنت (۱) پیہم اضطراب۔ (۳) علم و ہدایت سے محرومی۔
قرآن کا پہلا اعلان
قرآن کریم میں پہلی بات کی صراحت ان الفاظ میں کی ہے
و ضربت علہیم الذلۃ والمسکنۃ و باؤا بغضب من اللہ
ان یہودیوں پر ذلت ومسکنت ڈال دی گئی ہے اور وہ اللہ کا غصہ لے کر لوٹے۔
قوم یہود چوں کہ روز اول سے ہی شرارت پسند قوم تھی ، دغابازی اور دھوکہ دہی اس کی فطرت تھی، وعدہ خلافی اور مکاری و عیاری اس کا شیوہ تھا ، اللہ کے احکام کی مخالفت کو لازم گردانتے تھے ، انبیائے کرام علیہم السلام کا ناحق قتل اس کا خاص پیشہ تھا اور احکام الٰہی سے سرتابی اس کی خاصیت تھی، اس لیے یہ اپنی پشتینی شرارت و خباثت کی وجہ سے عتاب الٰہی کی مستحق ہوئی اور اللہ کے غصے کا نشانہ بنی۔
قرآن کا دوسرا اعلان
دستور الٰہی ہے کہ جب کوئی فلک نیلگوں اور اس سطح نمو پر فرعونیت اور الوہیت وربوبیت کا مدعی ہوتا ہے تو اللہ کسی موسیٰ کو ان کی سرکوبی کے لیے مسلط کردیتا ہے ۔ اور قانون الٰہی ہے کہ جب کوئی شرکشی اور نافرمانی میں تمام حدود پارکرجاتا ہے ، آبادیاں ہلاک اور بستیاں برباد کرنے لگتا ہے ، دوسروں کی عیش حیات چھین کر اپنی نشاط زندگی کا سامان ڈھونڈھتا ہے اور دوسروں کے سرخ لہو سے اپنی سرخ روئی کا طالب ہوتا ہے ، تو قدرت کاملہ ان پر ایسے ہی لوگوں کو مسلط کردیتا ہے، جو ان کے لیے برابر جہنم بھڑکاتا رہے اور ان کے عیش خانہ کو آتش کدہ بنادے۔
و اذ تاذن ربک لیبعثن علیھم الی یوم القیامۃ من یسومھم سوء العذاب
اور وہ لمحہ قابل بیان ہے جب کہ تیرے پروردگار نے یہ خبر دی کہ ان (یہودیوں ) پر تاقیامت ایسے لوگوں کو مسلط کرتا رہے گا، جو انھیں شدید تکلیف سے دوچار کرتے رہے۔
اور ظاہر ہے کہ جو کوئی دوسروں کے درپے آزار ہواور ان کے نشیمن کو نذر آتش کرنے کا خواہاں ہو، تو وہ اپنے لیے نشاط کی کلیاں کیسے چن سکتے ہیں؟ اور چوں کہ ان یہودیوں نے انبیائے کرام علیہم السلام تک کو قتل کیا اور ان مقدس گروہ کو برابر ستاتے رہے، تو اللہ کا یہ دستور ان پر چسپاں ہوگیا۔
قرآن کا تیسرا اعلان
حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے تین وعدے کیے تھے ، جن میں سے تیسرا وعدہ یہ تھا کہ دین کے اعتبار سے متبع عیسیٰ یہودیوں پر ہمیشہ غالب رہیں گے اور یہود ی عیسائی سے ہمیشہ مغلوب رہیں گے۔
و جاعلوا الذین اتبعوک فوق الذین کفروا الیٰ یوم القیامۃ
اور(ائے عیسیٰ) میں تیرے مطیع کو تیرے منکرین (یہود) پر تاقیامت برتر رکھوں گا۔
اور اس لیے بھی کہ یہود اپنی شرارت انگیزی اور فتنہ سازی اور معصوموں کو ناحق قتل کرنے کی وجہ سے اس قابل ہی نہ رہے کہ وہ کسی کار نیک کے متحمل ہواور گناہ کرتے کرتے ان کا دل اس قدر پراگندہ ہوگیا ہے کہ دین اسلام کی کوئی بھی بات اس کے پلے نہیں پڑتی۔ اور ان کے دل اس قدر سخت و کرخت ہوگئے ہیں کہ عذاب ونار کے ہولناک مناظر بھی چنداں مفید نہیں ، حتیٰ کہ پتھر پگھل سکتا ہے، لیکن جب ان کے دل پتھر کے ہوگئے ہیں، تو ممکن نہیں کہ وہ نرمی کو قبول کریں۔ فھی کالحجارۃ او اشد قسوۃ، و ان من الحجارۃ لما یتفجر منہ االانھار۔
پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح فضا میں پرواز کرسکتا ہے، سمندر خشکی میں تبدیل ہوسکتا ہے، آفتاب ومہتاب کی کرنیں بے نور ہوسکتی ہیں اور زمین و آسمان یک قلم پاش پاش ہوسکتے ہیں، لیکن کوئی واقعہ اسلام کی پیشین گوئی کے خلاف ہوجائے، یہ ممکن ہی نہیں ہے ، یہی وجہ ہے کہ جس طرح قرآن کی دگر پیشین گوئیاں آج تک صداقت سے معمور ہیں ، اسی طرح یہودیوں کے متعلق یہ تینوں پیشین گوئیاں آج بھی حقیقت کی شہادت پر قائم ہیں۔
خلفائے راشدین کے زمانے میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان یہودیوں کو جزیرۃ العرب سے جلاوطن کردیا تھا۔ ڈاکٹر گوبلس (وزیر اعظم جرمنی) نے اپنے مقالہ میں کہا تھا کہ ’’ یہود خون چوسنے والی اور دوسروں کے خون سے پیٹ بھرنے والی قوم ہے‘‘۔ کسی زمانے میں جرمنی کے کچھ ہوٹلوں پر یہ بورڈ آویزاں رہتا تھاکہ ’’یہودی اور کتے اس ہوٹل میں داخل نہ ہوں‘‘۔ کیا یہ ثبوت قرآن کی پہلی پیشین گوئی کا مظہر نہیں ہے!۔
فرعون مصر نے انھیں سلاسل غلامی میں جکڑ دیا تھا، ان کے بچوں کا قتل عام کیا، بچیوں کو صرف اس لیے زندہ رکھا کہ فرعونیوں کے لیے باندیوں کے کام آئیں۔ بخت نصر نے ان کے خون سے ہولی کھیلی۔ ان کے گھروں اور عبادت گاہوں کو مسمار کیا۔ ٹیٹس نے ان کے اوپر ظلم و ستم کے وہ پہاڑ توڑے کہ ان کی درندگی کے سامنے حیوانیت بھی پانی پانی ہوگئی۔
کوئی نئی شریعت کے آنے سے قدیم شریعت منسوخ ہوجاتی ہے، لہذا جب اسلام آگیا، تو جس طرح دیگر تمام ادیان منسوخ ہوگئے ، اسی طرح عیسائی مذہب بھی منسوخ ہوگیااور اب حقیقی مذہب صرف اسلام باقی رہا۔ ان الدین عند اللہ الاسلام، لہذا و جاعلوا الذین اتبعوک سے مراد مسلمان ہی ہوں گے۔ اور وہ عیسائی بھی اس دائرے میں آئیں گے جو دائرہ اسلام میں داخل ہوجائے ، لہذا فوقیت سے مراد دین اسلام کی فوقیت ہوگی۔
اور حقیقی عیسائی سے مراد صرف مسلمان اس لیے ہوسکتا ہے کہ عیسائی سے مراد وہ ہے جو انجیل کا پیرو کار ہو اور موجودہ دور میں مسلمانوں سے بڑھ کر انجیل کا کوئی پیروکار نہیں ہوسکتا ، کیوں کہ مسلمانوں کا عقیدہ مصدقا لما بین یدیہ پر ہے۔ کیوں کہ مسلمان سابقہ تمام کتابوں پر ایمان رکھتا ہے۔ اور اگر مان بھی لیا جائے کہ اس سے مراد نام نہاد عیسائی ہی ہیں،تو بھی اس خوشخبری کے مصداق قرار نہیں پائیں گے ، کیوں کہ اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ منزل من اللہ والی انجیل پر ایمان رکھیں ، لیکن ان کا ایمان اس انجیل پر ہے ، جس میں انھوں نے خود تحریف کرکے اسے مکمل طور پر بگاڑ دیا ہے، لہذا ان کا ایمان منزل من اللہ والی انجیل پر نہیں، بلکہ اپنی تحریف شدہ انجیل پر ہے ، جسے کسی بھی طور پر صحیح انجیل نہیں کہاجاسکتا ہے۔لہذا حضرت عیسا علیہ السلام کے حقیقی پیرو مسلمان ہی ہوں گے اور اس بشارت کے مستحق قرار پائیں گے۔
دیکھیے اور چشم حقیقت سے دیکھیے کہ قرآن نے جو پیشین گوئی چودہ سو سال پیشتر کردی تھی، وہ آج اسی طرح صادق و برقرار ہے، جس طرح چودہ سو سال پہلے تھا اور اس میں سر مو بھی فرق و اختلال نہیں آیا۔
قرآن نے صرف یہی تین باتیں یہودیوں کے متعلق کہی ہے۔ اور ظاہر ہے کہ ان تینوں باتوں میں نہ تو ان کی حکومت و سیادت کا انکار کیا ہے اور نہ ہی اقرار کیا ہے، لہذا ان کی حکومت کا عدم قیام قرآن حکیم سے ثابت کرنا اور بصورت قیام قرآنی تصریحات کے خلاف سمجھنا کج فہمی اور غلط اندیشی پر مبنی ثبوت ہوگا۔ اور ایک ایسا مفہوم (جس سے قرآن ساکت و صامت ہے) قرآن سے ملصق کرنا ، قرآن میں معنوی تحریف کے مرادف ہوگا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here