شہید ٹیپو سلطان کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر ہے 

0
3219

عبدالعزیز

فلمی اداکار سنجے خان نے ٹیپو سلطان کی تلوار (The Sword of Tipu Sultan) کے عنوان سے ایک ٹی وی سیریل بنائی تھی، اس وقت بھی ٹیپو کے دشمنوں نے واویلا مچایا تھا کہ اسے بند کر دیا جائے لیکن انھیں کامیابی نہیں ملی۔ آٹھ ایپی سوڈ (Episodes) بی جے پی کے اس وقت کے نائب صدر کے آر ملکانی کو بھیجا گیا کہ اس کا گہرائی سے جائزہ لیں۔ آر ایس ایس کے لیڈر دیشمکھ جی نے سنجے خان کو بلایا اور کہا ’’میں نے آپ کی پکچر دیکھی، لوگ اسے ہندو مخالف سیریل کہتے ہیں مگر یہ مکمل طور پر قومیت کا مظہر ہے(Nationalistic)۔ ’ٹائمز آف انڈیا‘ کے نامہ نگار روہت ای ڈیویڈ نے آج کے حالات کے پیش نظر کئی چبھتے ہوئے سوالات کئے ہیں۔ مسٹر سنجے خان نے ان کے جوابات بھی مدلل طریقے سے دیئے ہیں۔ جوابات ٹیپو سلطان کے دشمنوں کو خاموش اور لاجواب کر دینے کے لائق ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں سنجے خان نے مشہور تاریخ داں ویلیم ڈالریمبل اور ویلزلی کے ساتھ ایسٹ انڈیا کمپنی ہینری ڈنڈاس کے بارے میں کہا ہے کہ ان لوگوں نے ٹیپو سلطان کی تصویر کو مسخ کرنے کی زبردست تحریک شروع کی تھی کہ ٹیپو سلطان ایک جارح قسم کے بادشاہ ہیں جو اپنی رعیت کو دو حصوں میں تقسیم کر رہے ہیں اور برٹش کو سمندر میں پھینک دینے کی دھمکی دے رہے ہیں۔
یہ لوگ حیدر علی ٹیپو سلطان سے بیحد خوف زدہ تھے۔ ٹیپو سلطان ہندستان کے بادشاہوں اور راجاؤں میں آخری بادشاہ تھے جو برطانیہ کی حکومت سے دلیری اور بہادری کے ساتھ لڑ رہے تھے تاکہ ان کی حکومت جو ہندستان کی سر زمین کا ایک حصہ تھا وہ انگریزوں کی ماتحتی اور غلامی سے بچ جائے۔ ٹیپو کی شہادت کے بعد برٹش فوج انھیں کتا کہہ کر پکارتی تھی۔ برٹش آرمی کے گزٹ میں یہ باتیں چھائی رہتی تھیں۔ اصل میں یہ لوگ چاہتے تھے کہ ہندو اور مسلمانوں کا اتحاد انتشار اور افتراق میں بدل جائے۔ اس کیلئے کسی بڑی دلیل یا بڑے ثبوت کی ضرورت نہیں ہے کیونکہ وہ ہندو اور مسلمانوں میں زندگی بھر پھوٹ ڈال کر حکمرانی کرتے رہے جس کے اثرات آج بھی موجود ہیں۔ انھوں نے یہ بات از خود گڑھی کہ ٹیپو سلطان نے ہندوؤں کو ہلاک کیا یا موت کے گھاٹ اتارا۔
سنجے خان نے کہاکہ ان کی سیریل کے مصنف بھگوان گدوانی ہیں جن کے والد ہندو مہا سبھا کے لیڈر تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب کئی سال کی تحقیق کے بعد لکھی۔ جسے پڑھنا ہو وہ آج بھی پڑھ سکتا ہے۔ آر ایس ایس کے لوگوں کو تو خاص طور پر پڑھنا چاہئے۔ ہندو مہا سبھا، آر ایس ایس کی مدر باڈی تھی۔ ٹیپو سلطان سیکولر تھے۔ اس وقت کے شنکر اچاریہ سے خط و کتابت ہوتی تھی۔ وہ خطوط آج بھی سرینگر مٹھ میں محفوظ ہیں۔
ٹیپو سلطان نے بہت سے مندروں کی تعمیر میں حصہ لیا۔ یہ تاریخ میں درج ہے کہ جب وہ میسور کے شنکر اچاریہ کے مندر سے گزر رہے تھے تو وہ اور ان کے رفقاء مندر کے احترام میں گھوڑے سے اتر گئے اور تھوڑی دور تک پیدل چلے۔ اس کا کسی کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے کہ ٹیپو سلطان نے کسی مذہب اور فرقہ کے لوگوں کو اپنا نشانہ بنایا۔ ٹیپو سلطان نے نظام حیدر آباد سے جنگ کی کیونکہ نظام برطانیہ کی حکومت کے حاشیہ بردار تھے۔
سنجے خان نے کہا کہ تاریخ داں رام گوپال یا کوئی یہ کہتا ہے کہ آزادی کے ہیرو یا بادشاہوں کی سالگرہ نہیں منانا چاہئے تو یہ بات صحیح نہیں ہے کیونکہ جن لوگوں نے آزادی کیلئے اپنا سب کچھ نچھاور کر دیا اور برطانیہ حکومت سے لوہا لیا وہ تو ملک کو غلامی سے بچانا چاہتے تھے۔ ان کی یاد ہمارے لئے ایک نصیحت اور مستقبل کیلئے بہتر ہے۔ انھیں فراموش کر دینا احسان فراموشی کے مترادف ہے۔ میرے خیال سے مسلمانوں کی حکمرانی نے ملک کو مضبوط و مستحکم کیا اور اس وقت کا ’سپر پاور‘ بنایا۔
جب ان سے کہا گیا کہ کیا آج بھی ٹیپو سلطان کے سیریل کو دکھانا پسند کریں گے تو انھوں نے کہاکہ اگر آج مٹھی بھر انسانوں کی غلط روی اور غلط پالیسی کی وجہ سے ہم اپنا جمہوری حق چھوڑ دیتے ہیں تو یہ ملک کیلئے سانحہ ہوگا۔ ایسے لوگوں کے خوف سے جمہوری حقوق سے باز آنا جمہوریت اور آزادی کی سراسر توہین ہوگی۔ ٹیپو سلطان دنیا سے چلے گئے مگر انھوں نے آزادی کی جو روح پھونکی تھی وہ آج بھی زندہ ہے۔ کرناٹک حکومت ان کی سالگرہ مناکر ملک اور قوم کی خدمت کا کام انجام دے رہی ہے۔ جنتا دل کی حکومت کے موقع پر بھی دیوے گوڑا جی نے مجھ سے ٹیپو سلطان کے قلعہ کو سجانے اور روشن کرنے کیلئے کہا تھا۔ ٹیپو سلطان اس وقت ثقافتی اور معاشی لحاظ سے کتنے ترقی یافتہ تھے مطالعہ کرنا چاہئے۔ انھوں نے کرناٹک میں صنعتی ترقی کی بنیاد ڈالی۔ ٹیپو پہلے شخص تھے جنھوں نے میسور میں چیمبر آف کامرس کی تشکیل کی۔ ماڈرن بینکنگ کا نظام قائم کرنے والے وہ پہلے شخص ہیں۔ انھوں نے زمین کی اصلاحات شروع کی جس کی وجہ سے امیر اور زمیندار ان کے مخالف ہوگئے کیونکہ وہ حکومت برطانیہ کے دلال اور حاشیہ بردار تھے۔
آخری سوال کے جواب میں سنجے خان نے کہاکہ آج ہمارے ملک میں جمہوریت اور آزادی کو خطرہ لاحق ہے۔ عدم تحمل بڑھتا جارہا ہے۔ نفرت کا پرچار کیا جارہا ہے۔ تشدد کا بیج بویا جارہا ہے۔ ہمارے ملک کے وزیر اعظم ملک کو گاندھی اور گوتم بدھ کی سرزمین قرار دیتے ہیں تو انھیں اس حقیقت کی طرف بھی دھیان دینا چاہئے کہ جو لوگ گاندھی اور گوتم بدھ کے افکار و نظریات کے خلاف ہیں ان کی حوصلہ شکنی ہونی چاہئے۔ ملک میں دستور اور آئین کی حکمرانی ہونی چاہئے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ملک پیچھے کی طرف چلا جائے گا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here