مذہبی تعلیمات سے طب و صحت کا رشتہ اور طبِ اسلامی

0
969
All kind of website designing

حکیم فخرعالم

ریجنل ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف یونانی میڈیسن،علی گڑھ
ای میل : [email protected]
موبائل نمبر: 9411653041 / 7078281442

طب اور مذہب کے رشتے

طب نبوی یعنیprophetic medicineکو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اس رشتے کو سمجھ لیاجائے جو علاج و معالجہ کے قدیم طریقوں اور دنیا کے مختلف مذاہب کے درمیان ہر زمانہ میں پایا جاتا رہا ہے۔تاریخ کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیاکی تمام قدیم طبیںمذہب سے رشتہ رکھتی ہیںاور ان کے بانیوں میں مذہبی پیشواؤں یامذہبی شخصیات کا نام ضرور ملتا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ مذہب انسانی روح اور انسانی نفس کے تزکیہ کے ساتھ انسانی جسم کو لاحق ہونے والے صحتی مسئلوںکا حل بھی اپنے پاس رکھتا ہے ،اور امر واقعہ ہے کہ میڈیکل سائنس کے جدید دور (جو سولہویں اور سترہویں صدی عیسوی سے شروع ہوتا ہے) سے پہلے دیگرمذہبی امور کی طرح صحت و مرض کے معاملے بھی زیادہ تر مذہب سے وابستہ لوگ ہی انجام دیتے رہے ہیں۔
ہندوستان میں رائج علاج و معالجہ کے روایتی طریقوں میں یونانی طب کے ساتھ آیوروید اور سدّھا کے نام لیے جاسکتے ہیں جو مذہب کا پس منظر رکھتے ہیں۔آیوروید تو اپنے نام ہی سے اعلان کررہی ہے کہ وہ ویدک دھرم کا حصہ ہے،اسی طرح سدّھا جو تمل ناڈ میں بہت مقبول ہے وہ ایک مذہبی پیشوا سدّھارس سے منسوب ہے اور جو طریقۂ علاج اس و قت یونانی طب کے نام سے موسوم ہے تاریخ کی کتابوں میںاس کے بانی کے طور پر حضرت ادریس علیہ السلام کا نام ملتا ہے جو ایک نبی گزرے ہیں ۔

مذہب سے طب کا تعلق کیوں؟

مذہب کا بنیادی مطلوب صالح معاشرہ(healthy society) کاقیام ہے، مگریہ معاشرہ اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا ہے جب تک کہ سماج کے افراد روحانی تزکیہ کے ساتھ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے بھی بہتر حالت میں نہ ہوں، شایداسی لیے ہردور کی مذہبی تعلیمات کا ایک گوشہ صحتی امور سے متعلق ضرور ملتا ہے۔خود حضور ﷺ کی تعلیمات میں بھی صحت و مرض سے متعلق بہت سی باتیں آئی ہیںاور علاج و معالجہ کی غرض سے بہت سی غذاؤں ،دواؤں اور تدابیرکی ہدایات بیان ہوئی ہیںجنہیں مجموعی طور پرطب نبوی،طب اسلامی یا prophetic medicine کا نام دیاجاتا ہے۔

طبِ نبوی کی حیثیت کا مسئلہ

مقدمہ ابن خلدون میں طب اسلامی کے بارے میں جو باتیں لکھی گئی ہیں اور ابن خلدوں نے اپنی رائے کی حمایت میں جس واقعہ سے استدلال کیا ہے میں اس سے اختلاف رکھتا ہوں ۔میرے خیال میں تلقیح نخل اور تابیر نخل کے جس واقعہ کو بنیاد بنا کرصحت و مرض کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی باتوں پر عمل کو غیر مشروع قرار دیاجاتا ہے،درست نہیں ہے،کیونکہ اوپر جس واقعہ کا ذکر ہواہے وہ کھیتی باڑی سے متعلق ہے،جو خالص دنیاوی امر ہے،جب کہ طب و صحت کا معاملہ healthy societyکے قیام ا ور healthy nationکی تعمیر و تشکیل سے ہے اور یہ کام مقاصدِ نبوت کا اہم مطلوب ہیں۔

اس سلسلے میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ مسلمانوں کا ایک بڑا طبقہprophetic medicineپر اعتقاد رکھتا ہے اور رسالت مآب ﷺکے ذریعہ بیان کردہ ادویہ، اغذیہ اور تدابیرکا علاج و معالجہ کے سلسلے میں عقیدت کے جذبہ کے ساتھ استعمال کرتا ہے،وہیں مسلمانوں کا ایک طبقہ ایسا بھی ہے جو طب نبوی یعنی prophetic medicineکی حیثیت کا منکر ہے۔طب نبوی کا انکار کرنے والوں میں سب سے بڑا نام ابن خلدون کا ہے،مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ابن خلدون نے طب نبوی کے انکار کے سلسلے میں جو باتیں کہی ہیںان کا ایک سرسری جائزہ لے لیا جائے اور یہ بھی دیکھ لیا جائے کہ اس کے دعوے اوراس سلسلے میں پیش کی جانے والی دلیلوں میں کتنی صداقت اور واقعیت ہے۔

حکیم فخر عالم صاحب

یہ جائزہ اس لیے ضروری ہے کہ اگر طبِ نبوی کوئی چیز نہیں ہے تواس کے معتقدین کویہ بات مان لینی چاہیے،لیکن اگر طبِ نبوی واقعی اپنا وجود رکھتی ہے تواس سے نہ صرف استفادہ ہونا چاہیے بلکہ اس کے مطالعہ و تحقیق کے کام کو بھی آگے بڑھانا چاہیے۔
طبِ نبوی کے بارے میں ابن خلدون کے خیالات کا جائزہ
ابن خلدون(پیدائش:1332 م۔وفات:1406 م) کا شمار عالمِ اسلام کی معروف شخصیات میں ہے جو ماہر عمرانیات اور فلسفۂ تاریخ کے بانی کے طور پرشہرت رکھتا ہے ۔ مقدمۂ ابن خلدون اس کی مشہور تصنیف ہے،یہ کتاب تاریخ، سیاسیات،عمرانیات،اقتصادیات اور ادبیات کا بیش قدر سرمایہ تصور کی جاتی ہے، اس میں وہ طب نبوی کے بارے میں لکھتا ہے کہ نبی ﷺ کے احوال و آثار میں طب سے متعلق جو باتیں منقول ہیں وہ دراصل عربوں میں رائج دیہی اور قبائلی طب کا حصہ ہیں،لہٰذا ان پر عمل مشروع نہیں ہے،اس لیے کہ نبی ﷺ کی بعثت شریعت کی تعلیم کے لیے ہوئی تھی نہ کہ طب اور عادات سے متعلق باتیں سکھانے کے لیے۔ابن خلدون نے اپنے اس خیال کی تائید کے لیے’ تلقیح نخل‘ کے واقعہ سے استدلا ل کیا ہے،جس میں آپ نے فرمایا تھاکہ دنیاوی امور کے بارے میں تم بہتر جانتے ہو ۔(۱)

تلقیحِ نخل کا واقعہ

حضرت رافع بن خدیج اس واقعہ کے راوی ہیں وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلعم جب ہجرت کرکے مدینہ تشریف لائے تودیکھا کہ لوگ اچھی پیداوار کے لیے تابیر کا عمل کرتے ہیں،اس میں نر کھجور کے درخت کاشگوفہ مادہ کھجور کے درخت میں ڈالتے ہیں،اسے دیکھ کر آپ ﷺ نے پوچھا کہ ایسا کیوں کرتے ہو؟تو لوگوں نے جواب دیا کہ ہم ایک زمانے سے یہ کرتے آرہے ہیں،اس پر آپ نے فرمایا کہ ایسا نہ کرو توبہتر ہے،چنانچہ آپ کے کہنے پر تابیر کاعمل نہیں کیا گیاتو اگلے سال کھجوروں میں کم پھل آئے،صحابہ نے رسول اللہ سے اس کا تذکرہ کیا توآپ نے اپنی بات سے رجوع کرتے ہوئے فرمایاکہ جب میں تمہیں کسی دینی مسئلے کا حکم دو ں تو اسے اختیا کرو ،لیکن جب اپنی رائے سے کوئی بات کہوں تو اس سلسلے میں مجھے ایک انسان جانو۔(2)

طبِ نبوی کے بارے میں ابن خلدون کے خیالات کا جائزہ

ابن خلدون کے اس بیان نے لوگوں کے ذہنوں کو بڑے پیمانے پر متأثر کرنے کا کام کیا ہے اور اس بیان کی وجہ سے طبِ اسلامی کے تشخص کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ہندوستان کے بھی کئی علماء ابن خلدون کے اس بیان کی تشہیر کرتے نظرآتے ہیں۔جاوید احمد غامدی پاکستان کے جدت پسند عالمِ دین ہیں،تعلیم یافتہ لوگوں کے ایک بڑے حلقے میں ان کی باتیں سنی جاتی ہیں،وہ طب اسلامی کے سلسلے میں ابن خلدون کی رائے کے حامیوں میں ہیں اور اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعہ وہ بھی طب اسلامی کی حیثیت کا انکار کرتے رہتے ہیں۔

طبِ اسلامی کے بارے میں میرا موقف

میں زمانۂ طالب علمی سے مقدمۂ ابن خلدون سے متأثر ہوں،اس کتاب کی وجہ سے میں ابن خلدون کا مداح بھی ہوں،لیکن اس میں طب اسلامی کے بارے میں جو باتیں لکھی گئی ہیں اور ابن خلدوں نے اپنی رائے کی حمایت میں جس واقعہ سے استدلال کیا ہے میں اس سے اختلاف رکھتا ہوں ۔میرے خیال میں تلقیح نخل اور تابیر نخل کے جس واقعہ کو بنیاد بنا کرصحت و مرض کے سلسلے میں رسول اللہ ﷺ کی باتوں پر عمل کو غیر مشروع قرار دیاجاتا ہے،درست نہیں ہے،کیونکہ اوپر جس واقعہ کا ذکر ہواہے وہ کھیتی باڑی سے متعلق ہے،جو خالص دنیاوی امر ہے،جب کہ طب و صحت کا معاملہ healthy societyکے قیام ا ور healthy nationکی تعمیر و تشکیل سے ہے اور یہ کام مقاصدِ نبوت کا اہم مطلوب ہیں،اسی لیے اسلام اور دیگر مذاہب کی تعلیم میں جسمانی صحت سے جڑے امور کوکافی اہمیت دی گئی ہے۔اسلام کے سلسلے میں قرآن و حدیث سے اس کی متعدد مثالیں پیش کی جا سکتی ہیں۔

غارِ ثور میں حضرت ابو بکرؓ کو کسی جانور کے ڈسنے پرحضور ﷺ کا لعابِ دہن لگاناعربوں کا روایتی طریقۂ علاج نہیں تھا

یہاں اس واقعہ کا ذکر بر محل معلوم ہوتا ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ مدینہ ہجرت فرما رہے تھے تو کفارِ مکہ کی نگاہوں سے بچنے کے لیے حضرت ابو بکر ؓکے ساتھ غارِ ثور میں روپوش ہوگیے تھے۔یہ واقعہ کتبِ سیرت میں بکثرت منقول ہے ۔روپوشی کے وقت جب رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر ؓکے آغوش میں سر رکھ کر سورہے تھے تواس وقت یہ حادثہ پیش آیا کہ حضرت ابو بکرؓ کے پاؤں میں کسی چیز نے ڈس لیا،مگر وہ اس ڈر سے ہلے نہیں کہ مبادا رسول اللہ جو محوِ استراحت ہیں ،ان کی نیند میں خلل پڑ جائے،لیکن شدتِ درد سے ان کے آنسو نکل کر رسول اللہ کے چہرۂ مبارک پر ٹپک گیے،اس سے آپ کی نیند کھل گئی تو حضرت ابو بکرؓ کو دیکھ کر فرمایا کہ تمہیں کیا ہوا!،حضرت ابو بکر ؓنے عرض کیاکہ میرے ماں باپ آپ پر قربان! مجھے کسی چیز نے ڈس لیا ہے،رسول ﷺ نے اس جگہ اپنا لعاب دہن لگادیا اور تکلیف جاتی رہی۔(3)

مذکورہ واقعہ کے نتائج

اس واقعے میں کئی ایسے پہلو ہیں جو غور و خوض کی دعوت دے رہے ہیں۔جس جانور نے حضرت ابو بکرؓ کو ڈسا تھاوہ اتنا زہریلا تھا کہ حضرت ابو بکر صدیقؓ جیسا قوی اعصاب کا مالک شخص بھی تکلیف کی شدت کو برداشت نہیں کرپاتا ہے اور ضبط کی تمام کوششوں کے باوجودان کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑتے ہیں،لیکن رسول اللہ پر اپنے یارِ غار کی تکلیف کوسننے کے بعداضطراب یا پریشانی کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے،بلکہ و ہ ڈسے ہوئے مقام پربڑے اعتماد سے لعاب دہن لگاتے ہیں اور درد کی تکلیف رفع ہوجاتی ہے۔کسی جانور کے ڈسنے میں زہر کے اثر کو دور کرنے کے لیے لعاب کے استعمال کی عر بوں کی دیہی اور قبائلی روایت میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے،اگر ان حالات میں عربوں کے یہاں ایسا کوئی طریقۂ علاج ہوتا تووہ حضرت ابو بکرؓ کے علم میں بھی ہوتا جسے وہ کرکے ڈسنے کی تکلیف سے نجات پالیتے۔
جن لوگوں نے غارِ ثور کے واقعے کو پڑھا ہے انہیں معلوم ہے کہ اس موقع پر کئی ایسے واقعے پیش آئے جو غیبی نوعیت کے تھے،پھر اس طریقۂ علاج کو جو رسول اللہ ﷺنے حضرت ابوبکرؓ کے علاج کے لیے اختیار کیاتھا،اسے بھی ایسا ہی ماننا چاہیے۔جولوگ طب نبوی کی حیثیت کا انکار کرکے اس پر عمل کو غیر مشروع بتاتے ہیں انہیں غارِ ثور کے اس واقعے پر غور کرنا چاہیے۔

طبِ اسلامی کے بارے میں متوازن رائے

مولانا سید جلال الدین انصر عمری نے طبِ اسلامی کے بارے میں بڑی متوازن رائے پیش کی ہے،وہ اپنی کتاب ’’صحت و مرض اور اسلامی تعلیمات ‘‘میں لکھتے ہیں:
ــ ’’بعض حضرات کو اس پر حیرت ہوسکتی ہے کہ صحت و مرض کے موضوع کو اسلام یا کسی مذہب سے جوڑ دیا جائے اور اس سلسلے میں اس سے رہنمائی حاصل کی جائے، اس لیے کہ ان کے نزدیک اس کا تعلق طبی علوم یا میڈیکل سائنس سے ہے اور مذہب روح کا معالج اور باطن کا مزکّی ہے،دونوں کے دائرۂ کار ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔یہاں کسی دوسرے مذہب سے بحث نہیں ہے،جہاں تک اسلام کا تعلق ہے وہ مجرد روحانیت کا قائل نہیں ہے، وہ جسم کے تقاضوں کو نظر انداز نہیں کرتا،اس نے انسان کی روحانی ترقی کے ساتھ اس کی جسمانی صحت کو بھی اہمیت دی ہے،وہ اسے اعلیٰ اخلاقی اقدار کا حا مل ہی نہیں صحت مند اور توانا بھی دیکھنا چاہتا ہے،اس لیے کہ ان دونوں میں کوئی تضاد اور تناقض نہیں ہے،بلکہ ایک طرح کا معنوی رشتہ ہے۔صحیح بات یہ ہے کہ سوچنے سمجھنے کا زاویہ درست ہوتوجسمانی صحت و توانائی روحانی ترقی میں معاون ہوتی ہے اور باطن کے جِلا میں اس سے مدد ملتی ہے،اسی طرح اخلاقی اور روحانی اقدار کی پابندی صحت پر خوش گوار اثر ڈالتی ہے‘‘۔(4)

طریقۂ علاج یا system of medicineکا مطلب کیا ہے

طب نبوی کو طریقۂ علاج یعنی ایک system of medicine کہنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ جب علاج و معالجہ کے کسی طریقے کو باضابطہ ایک نظام کا درجہ دیاجاتا ہے تواس کے معیار و میزان یا پیمانے کیا ہوتے ہیں؟یہ سمجھے بغیرطے نہیں ہوسکتا کہ طبِ نبوی یعنی prophetic medicineکو ایک طریقۂ علاج یا system of medicine کہہ سکتے ہیںکہ نہیں۔طریقۂ علاج یا سسٹم آف میڈیسن سے کیا مرادہوتاہے؟ اور کن بنیادوں پرمخصوص معالجاتی طریقوں کوایک معالجاتی نظام یا سسٹم آف میڈیسن کادرجہ دیا جاتاہے؟یعنی جب یہ کہاجاتا ہے کہ یونانی طب ایک طریقۂ علاج یعنی سسٹم آف میڈیسن ہے،یاجب ہم آیوروید،سدّھا اور چینی طب کوایک سسٹم آف میڈیسن کا درجہ دیتے ہیں تو یہ فیصلہ کرتے وقت وہ کون سے پہلو ہوتے ہیں ،جنہیں مد نظر رکھتے ہیں!۔دیگر مذاہب کی طرح اسلامی تعلیمات میں بھی صحت و مرض سے جڑے امور کا تذکرہ ملتاہے،لیکن کیا ان تذکروں کی بنیاد پراسے اسلامک میڈیسن یا prophetic medicine کا نام دے کر ایک مستقل طریقۂ علاج کا درجہ دیا جاسکتا ہے؟،یہ سوال اہم ہے ،جس پر غور کیاجاناچاہیے!۔
میرے خیال میںجب کسی طریقۂ علاج کی بات کی جاتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے اندرجسمانی ،ذہنی اور روحانی امراض کو سمجھنے کا ایک فلسفہ موجودہے،ساتھ ہی ان امراض سے تحفظ،بچاؤ اور معالجہ کے لیے ادویہ،اغذیہ اور تدابیر وغیرہ کی صورت میںاسباب فراہم ہیں یا ان ضرورتوں کے کچھ دوسرے سامان موجود ہیں۔اس تناظر میں prophetic medicineیااسلامک میڈیسن کا جائزہ لیتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کے یہاں صحت و مرض کا ایک نظریہ ہے ،ساتھ ہی یہ اپنے پاس امراض سے تحفظ اور معالجہ کا سامان بھی رکھتی ہے،اس طرح یہ ان تمام معیاروں پر کھری اترتی ہے جس کی بنیاد پر کوئی طریقۂ علاج system of medicine کہے جانے کا مستحق قرار پاتا ہے ،لہٰذا بجا طور پر یہ ایک طریقۂ علاج کہے جانے کی حقدار ہے اوراسلامی تعلیمات میں مذکور صحت و مرض کے نظام کو اسلامی طب یا طب نبوی یا prophetic medicine کا نام دیا جاسکتا ہے۔

اعتقاد کا پہلو

یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہprophetic medicine کو اختیار کرنے والے مذہبی تعلق کی وجہ سے اس کے تئیں اعتقاد کا جذبہ رکھتے ہیں،اس کی وجہ سے معالجاتی اثرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہ بات تحقیق سے پایۂ ثبوت کو پہنچ چکی ہے کہ اگر مریض کو دوا یا طریقۂ علاج سے شفا یابی کا یقین ہوتواس کے اثرات میں اضافہ ہوجاتا ہے ا ور مریضوں کے positive attitude کی وجہ سے معالجاتی اثرات زیادہ نتیجہ خیز ہوجاتے ہیں۔

طبِ نبوی میں lifestyle managementکے طریقے

عہدِ حاضر میں امراض کی ایک بڑی تعداد ایسی ہے جو طرزِ معاشرت کی پیداوار خیال کی جاتی ہے، یعنی یہ بیماریاں زندگی کے معمولات،خورد و نوش کی عادات اور بود و باش کے طور طریقوں سے تعلق رکھتی ہیں،اس لیے انہیں lifestyle disordersکہتے ہیں۔اس ضمن میں cardiovascular diseases جیسےhypertension،heart attackاورstroke،اسی طرح cancer،alzheimers،diabetes،obesity،chronic liver diseases،chronic pulmonary diseasesاورosteoporosisوغیرہ کے نام خاص طور پر لیے جاسکتے ہیں۔آج کل یہ بیماریاںکثرتِ وقوع پذیری اور عسیر العلاجی کی وجہ سے میڈیکل سائنس کے سامنے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہیں۔یہ بیماریاں خورد و نوش کی بے اعتدالیوں ، شب و روز کے غیر متوازن رویوں اور زندگی کے شور شرابوں کا نتیجہ سمجھی جاتی ہیں۔ان امراض کے تناظر میں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ صحت و مرض کے سلسلے میں جو اسلامی تعلیمات قرآن و حدیث میں بیان ہوئی ہیں ان میں طرزِ معاشرت کا بہت ہی جامع اصول ملتا ہے اوراسلامی تعلیمات میں زندگی گزارنے کے بڑے سنہرے اصول پیش ہوئے ہیں مثلاًصالح اور متوازن غذا کی تاکید کے ساتھ،غذا کے استعمال میں افراط و تفریط سے بچنے کی ہدایات ملتی ہیں۔
کسی انسان کے سونے اور جگنے کے معمولات سے ذہنی،دماغی اور جسمانی سکون کا بہت ہی گہرا ربط دیکھا گیا ہے ، اس باب میں اسلامی تعلیمات کو دیکھا جائے تووہ سنہرے اصول فراہم کرتے نظر آتی ہیں،مثلاً قرآن کا یہ کہنا کہ ’’وجعلنا اللیل لباسا و جعلنا النہار معاشا‘‘}ترجمہ:اور رات کو تمہارے لیے پردہ اور دن کو معاش کا وقت بنایا{،اسی طرح دن کو کام کرتے ہوئے جب انسان کے جسم اور دماغ تھکنے لگتے ہیں تو تھوڑی دیر آرام کرکے پھر سے تازہ دم ہونے کے حوالہ سے نبوی معمولات کے ذریعہ قیلولہ کی صورت میں استراحت کا جو تصور پیش ہوا ہے وہ اچھی صحت کے سلسلے میں نیند اور بیداری کے کردار کی اہمیت سے اسلام کی آگاہی کا پتہ دیتا ہے۔
یونانی طب میں اسبابِ ستہ ضروریہ کوصحت کی بقا اور اس کے حصول کے سلسلے میں کلیدی کردار کا حامل سمجھا جاتا ہے،prophetic medicine میںصحت کو قائم رکھنے والے یہ essential factors بڑی اہمیت کے ساتھ بیان ہوئے ہیں۔نظریاتی طور پر طب اسلامی کی اس قدر جامعیت کے باوجود کچھ لوگوں کا اس کی فنی حیثیت سے انکار تعجب خیز معلوم ہوتا ہے۔

ایک غلط فہمی کا ازالہ

طبِ نبوی کے بارے میں عوام و خواص دونوں کے یہاں یہ غلط فہمی عام ہے کہ اسے صرف کچھ دواؤں ،غذاؤں یا تدبیری علاج کا مجموعہ سمجھا جاتا ہے،یہ تصور طبِ نبوی کی جامعیت کو بہت محدود کر دیتا ہے۔بلاشبہ طبِ نبوی میں مذکور ادویہ اور اغذیہ افادیت کا خاص پہلو رکھتی ہیںاور طبِ نبوی میں امراض سے تحفظ اور علاج کے لیے جو تدابیر اور طریقے بیان ہوئے ہیں انہیں آزماکر صدیوں انسانیت نے فائدے حاصل کیے ہیں،لیکن طب نبوی کا تشخص انہیں ہرگز نہیں کہا جاسکتا،بلکہ prophetic medicine یا طبِ اسلامی کا امتیازدراصل وہ پہلوہیں جو health principles سے تعلق رکھتے ہیں۔
ظاہر ہے کہ قرآن و حدیث میں میڈیکل سائنس کی باتیں ضمناً کی گئی ہیں،لہٰذا ان میں جزئیات تلاش کی جائیں گی تو یقیناً مایوسی ہوگی،یہاں میڈیکل سائنس کے مطالعہ کا صحیح طریقہ یہ ہوگا کہ اسلام نے جو health principles بیان کیے ہیں ان سے روشنی کا کام لیتے ہوئے ان کی رہنمائی میںنظام صحت وضع کیا جائے۔
صحت کے بارے میں قرآن و حدیث میں مذکور اسلامی تعلیمات کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں preventive measures پر سب سے زیادہ زور دیا گیا ہے،اسی لیے hygienic امور کی تفصیلات یہاں زیادہ بیان ہوئی ہیں۔اسلام نے حفظانِ صحت کے جن اصولوں کی تعلیم دی ہے جدید سائنسی تحقیقات سے بھی ان کی تصدیق ہوتی ہے،مگر ان کی افادیت کاخاطر خواہ اندازمیں اعتراف نہیں کیا جارہا ہے،اس میں ہماری بھی کمی ہے کہ ہم اسلامی اصولوں کو دنیا کے سامنے صحیح طور پر پیش کرنے میں ناکام رہے ہیں۔

وبائی امراض میںلاک ڈاؤن(lockdown)کا اسلامی نظریہ

جب سے دنیا میں کورونا کی مہاماری پھیلی ہے ،لاک ڈاؤن کا لفظ ایسا زبان زد ہوا ہے کہ کوئی کان ایسا نہیں جواس نام سے آشنا نہ ہو۔کوروناکی حالیہ وبا کے دوران آپ سب نے دیکھا کہ دنیا کی ساری حکومتوں نے اپنے اپنے ملک میںcovid-19کی روک تھام کے لیے آمد و رفت کے ذرائع بند کرکے شہریوں کی نقل و حمل پریکسر پابندی عائد کردی تھی تاکہ متأثرہ مریضوں سے صحت مند افراد کا اختلاط نہ ہونے پائے،مگر یہ بڑی دل چسپ بات ہے کہ لاک ڈاؤن کا سب سے پہلا تذکرہ احادیثِ نبوی میں ملتا ہے۔
ماضی کی تاریخ کو دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ اس وقت طاعون کی وبا بہت زیادہ پھیلا کرتی تھی اور جب یہ وبا آتی تو کثرتِ اموات سے آبادیاں ویران ہوجایا کرتی تھیں ،اسے سمجھنے کے لیے لاشوں کے نکلنے اور جنازوں کے اٹھنے کا وہ منظر کو یاد کر سکتے ہیںجسے کورونا کی دوسری لہر کے دوران ہماری آنکھوں نے دیکھا ہے۔طاعون کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے بخاری کی ایک حدیث جو حضرت اسامہ بن زید سے مروی ہے،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ:
’’اذا سمِعتُم بالطاعونِ بأرضِِ فلا تدخلوھا واِذا وقع بأرضِ ِوأنتم بِہافلا تخرجوا منھا‘‘(5)
یعنی جب کہیں طاعون کے بارے میں تم سنو تو وہاں مت جاؤ اور جب تم ایسی جگہ پر رہو کہ جہاں طاعون پھیلا ہوا ہو تو وہاں سے مت نکلو۔ اس حدیث میں لاک ڈاؤن کی بہترین تعبیر ملتی ہے۔

طبِ نبوی اور یونانی طب میں رشتہ

نبی اکرمﷺکی تعلیمات میں صحت و مرض کے سلسلے میں جو باتیں ملتی ہیںانہیں اصول و کلیات کے فریم میں دیکھا جائے تویہاں حفظانِ صحت کا تصور ایک بڑے نظریے کے طور پر ملتا ہے۔اس کے ساتھ دواؤں ،غذاؤں اور تدبیری طریقوں کی صورت میں جو چیزیں ملتی ہیںوہ طبِ یونانی کے اصولِ صحت اور معالجاتی طریقوں سے بہت زیادہ مماثلت رکھتی ہیں۔
دونوں میں مشابہت کی وجہ یہ ہے کہ عہدِ اسلامی میںجب علوم دینیہ سے آگے بڑھ کرمسلمانوں میں معاصر علوم کو حاصل کرنے کا جذبہ پیدا ہواتو انہوں نے یونانیوں کے فلسفہ اور ان کے دوسرے سائنسی اور طبی ۔علوم لے کرکے ان کو عربی میں ترجمے کے بعداپنے مطالعہ و تحقیق کا موضوع بنایا۔جس طرح یونانی فلسفہ کو مسلم ذہنوں نے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مطالعہ کرکے اس کے خد و خال کی اصلاح کی تھی،اسی طرح مسلم طبیبوں نے ایک ایسے ذہن کے ساتھ یونانی طب کا مطالعہ کیاجس کی فکری نشو و نما اور تربیت اسلامی تعلیمات کے زیر اثر ہوئی تھی،یہی وجہ ہے کہ یونانی طب اور اسلامی طب ایک دوسرے سے اتنی قریب ہوگئیں کہ بعد کے زمانہ میں ان دونوں کے نام ایک دوسرے کے مترادف کے طور پر استعمال ہونے لگے،اس کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ ہندوستان میں بیسویں صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی میں اس بات پر علمی مباحثے ہونے لگے کہ کیوں نہ یونانی طب کو طبِ اسلامی کہا جائے،اس بحث کو اس دور کے رسائل و جرائد میں دیکھا جاسکتا ہے۔یونانی طب اور prophetic medicineکے درمیان یہ رشتے آج بھی محسوس کیے جارہے ہیں۔

یونانی طب کو اسلامی طب کیوں نہ کہا جائے!

جب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ traditional medicine کے زمرہ میں شمار ہونے والی کم و بیش ساری ہی طبیں مذہب کا پس منظر رکھتی اور اپنے ناموں سے اپنی مذہبی پہچان کا بلا تردد اظہار بھی کرتی ہیں تویونانی طب کو اپنے اسلامی پس منظر کو ظاہر کرنے میں تکلف کا شکارہونا کیوں پڑ رہا ہے؟ جب کہ ہندوستان کے حوالہ سے یہ بات عرض کی جا چکی ہے کہ یہاں کی دونوں روایتی طبیں یعنی آیورید اور سدّھا اپنے ناموں سے برملا اپنی مذہبی پہچان کا اعلان کررہی ہیں تو یونانی طب کے حاملین کو بھی مصلحت کے خول سے نکل کر باہر آنے میں تذبذب کا شکار نہیں ہونا چاہیے۔
اہلِ نظر سے یہ بات ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ ہندوستان میں آیوروید کے فروغ اور اس کی توسیع کے لیے ہرسطح پر جس طرح کوششیں ہورہی ہیں اس کا بڑا سبب یہی ہے کہ آیوروید کے بڑھاوے کو ہندومذہب کے فروغ سے جوڑ کر دیکھا جارہاہے۔ اس مشاہدے کی روشنی میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اگر یونانی طب کے مذہبی پس منظر کا بھی اظہار کردیا جائے تویہ یونانی طب کے فروغ میں بہر حال اضافہ کاسبب ہوگا۔
اس اقدام کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ ہندوستان کے علاوہ یونانی طب جو دنیا کے دوسرے ملکوں میں بھی استعمال ہورہی ،مگر کہیں طبِ عربی کے نام سے جانی جاتی ہے تو کہیں طبِ سنتی اور طبِ گیاہی کے نام سے اور کہیں کسی اور نام سے ،جب کہ طب ِ اسلامی کہہ کر ناموں کے اختلاف کے قضیے کو ختم کیا جاسکتا ہے،اس تجویز پر اہلِ فن کو غور کرنے کی ضرورت ہے۔
مجھے یاد ہے کہ ایران کے سابق صدرمحمود احمدی نژاد نے اپنی صدارت کے دوسرے دور میںتمام مسلم ملکوں کے وزرائے صحت کی ایک میٹنگ کی تھی تاکہ یونانی طب کے فروغ کا ایک مشترک لائحۂ عمل وضع کیاجاسکے ۔گرچہ اس وقت یہ کوشش کچھ زیادہ نتیجہ خیز تو نہیں ثابت ہوپائی ،لیکن اس واقعے نے یہ احساس ضرور بیدار کردیا کہ ناموں کا اختلاف اگر یونانی طب کی ترقی کی راہ میں مزاحم ہورہا ہے تو اسے دور کرنے کے طریقوں کے بارے میں ہم سب کو مل کر سوچنا چاہیے۔

خلاصۂ کلام

دیگر مذاہب کی طرح اسلامی تعلیمات میں بھی صحت و مرض کی باتوں اور علاج و معالجہ کے بہت سے طریقوں کا تذکرہ ہوا ہے اور یہ تذکرہ اتنا جامع ہے کہ اسے بجا طور پر طبِ نبوی یعنی prophetic medicineکے نام سے مستقل ایک طریقۂ علاج قرار دیاجاسکتا ہے،لہٰذااس کی فنی حیثیت کے بارے میں ابن خلدون اور اس کے مقلدین نے جو شکوک و شبہات پیدا کیے ہیں وہ بے بنیادمعلوم ہوتے ہیں۔
طبِ نبوی( prophetic medicine )میں حفظانِ صحت کے جو اصول پیش ہوئے ہیں، جو غذائی اجناس بیان ہوئی ہیںاور خورد و نوش کے جن آداب اور طور طریقوں کا ذکر ہوا ہے،یہ سب اپنے اندر بڑی معنویت رکھتے ہیں،نیز prophetic medicineمیں جن دواؤں کا تذکرہ ہوا ہے وہ افادیت کا خاص پہلو رکھتی ہیں،اسی طرح طب نبوی میں حجامہ اور فصد جیسے معالجہ کے بے حد مفید طریقوں کے فوائد بیان ہوئے ہیں۔ان تمام چیزوں کو بیمار انسانیت کے سامنے لاناپیشہ ورانہ تقاضاہی نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ بھی ہے ،اس لیے کہ اگر طب نبوی اسلامی تعلیمات کا حصہ ہے،جیساکہ مذکورہ گفتگو سے واضح ہوتا ہے توحاملینِ اسلام کی ذمہ داری ہوگی کہ اسے عام لوگوں تک پہنچائیں،اس لیے کہ نبی آخرالزماں کا حکم ہے کہ’’بلغواعنّی ولو آیۃ‘‘ (6)یعنی اگر ایک آیت بھی تمہیں معلوم ہوتواسے دوسروں تک پہنچاؤ۔
اسلامی تعلیمات کا حصہ ہونے کی وجہ سے prophetic medicine کے ساتھ مسلمانوں کاتہذیبی رشتہ بھی قائم ہوجاتا ہے،اس لحاظ سے بھی طب نبوی کو عام کرنے کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہوتی ہے ،تاکہ ان کے تہذیبی اثرات کا دائرہ وسیع ہوسکے۔

حوالہ جات

1۔مقدمہ ابن خلدون،عبد الرحمان ابن خلدون مغربی،المطبعۃ الازہریہ ،مصر،1348ھ/ 1930م،ص 414
2۔ الصحیح المسلم ،کتاب الفضائل،باب وجوب امتثال ماقالہٗ شرعاً دون ما ذکرہ من معایش الدنیا علیٰ سبیل الرأی ،حدیث نمبر6127
3۔الرحیق المختوم،مولانا صفی الرحمان مبارک پوری،المجلس العلمی،علی گڑھ،1408ھ/ 1988م،ص 258
4۔صحت و مرض کا اسلامی تصور،سید جلال الدین عمری،مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز،نئی دہلی،2007،ص 15-16
5۔الصحیح البخاری،کتاب الطب،باب مایذکر فی الطاعون،حدیث نمبر 5728
6۔الصحیح البخاری،کتاب احادیث الانبیاء، با ب ما ذُکِر عن بنی اسرائیل،حدیث نمبر3461

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here