الیکشن کمشنر اور انتخابی اصلاحات

0
369
All kind of website designing

عبدالعزیز

ملک میں جمہوریت آہستہ آہستہ دم توڑ رہی ہے۔دستور کی دھجیاں اڑ رہی ہیں عدالت فرائض ادا کرنے سے قاصر ہے۔ تمام سرکاری ادارے دباؤ میں کام کر رہے ہیں۔ جمہوریت کے لیے آزاد اور غیر جانبدار انتخابات بہت ضروری ہیں اس کے بغیر جمہوریت باقی نہیں رہ سکتی الیکشن کمیشن اگر حکومت کی طرفداری کرنے لگے تو پھر منصفانہ اور آزاد چنائو کیسے ہوسکتا ہے؟ چنائو بے معنی ہوکر رہ جائے گا۔ ہندوستان میں الیکشن کمشنر بہت ہوئے چند ہی اچھے ثابت ہوئے۔ مگر سنیل اروڑا جن کی نگرانی میں جتنے بھی الیکشن ہوئے سب ہی غیر منصفانہ اور غیر جانبدارانہ ہوئے ۔حالیہ انتخابات جو چار ریاستوں اور ایک مرکز ماتحت ریاست میں ہوئے وہ انتہائی غیر منصفانہ ہوئے خاص طور پر بنگال میں الیکشن کمشنر نے جانبداری اور بے ایمانی کی حد کر دی۔ بنگال میں مودی- شاہ نے جو چاہا جیسے چاہا الیکشن کمشنر نے ویسا ہی کیا۔ ہر ریاست میں ایک یا دو مرحلوں میں ہوئے مگر بنگال میں آٹھ مرحلوں الیکشن ہوئے ایک ایک ضلع میں چار چار مرحلوں میں الیکشن کئے گئے۔ بی جے پی کے تمام لیڈروں نے مذہب کا خوب خوب استعمال کیا ۔گالی گلوج سے کام لیا بد تہذیبی کی حد کردی مگر الیکشن کمشنر منہ پر پٹی باندھے رہا۔ جیسے اسے سانپ سونگھ گیا ہو۔ الیکشن کمشنر اب ریٹایرڈ ہوچکے ہیں ان کی تمنا ہوگی کہ مودی جی انہیں انعام واکرام سے نوازیں مگر مودی جی کوset backایسا ہوا کہ بولتی بند ہے اس ماحول میں وہ کریں تو کیا کریں ؟ ان کی اور الیکشن کشنر کے چلتے کو رونا بھی پھیلا اس کی وجہ دونوں منہ دکھانے کے لائق نہیں۔ بنگال میں مودی جی اپنی ساری فوج اتارنے کے باوجود ساری غیر مہذب حرکتیں کرنے کرانے کے باوجود بری طرح نا کام رہے او دیدی او دیدی، دو مئی دیدی گئی کہنے والے دادا ہی چلے گئے اور اصلی پریورتن کا ان کا خواب چکنا چور ہو گیا۔ ان کے دست راست دوسو سیٹوں کی تعداد پار کر نے کا نعرہ دے رہے تھے اسے بھی نہیں پار کر سکے۔ دیدی کو وحشت ناک مودی فوج ڈرا کر اور دھمکی اور دھونس دکھا کر سی بی آئی، ای ڈی ، انکم ٹیکس سب کو میدان میں اتار دیا مگر دیدی نے کہا کھیلا ہوبے۔ یہ نعرہ اس قدر ریاست کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک مقبول ہوا کہ اس کھیلا سے سارے ملک سے بلائی گئی فوج کو بنگال کی فوج سے شرمناک شکست کا منہ دیکھنا پڑا اور ان کے دو کمانڈروں کو منہ کی کھانی پڑی۔
جب الیکشن کمشنر کی طرف سے الیکشن کی تاریخ اور شیڈول کا اعلان ہوا تو انڈین ایکسپریس نے لکھا کہ
The ruling TMC Party will receive setback due to prolonged election schedule
حکمراں جماعت ترنمول کانگریس کو ایک لمبی مدت تک بنگال میں الیکشن کرانے سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ ممتا بنرجی کے انتخابی مشیر کار پرشانت کشور نے کہا کہ I have never seen a more partial election commissinerمیں نے ایسا جانبدار الیکشن کمشنر کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ الیکشن کمشنر بی جے پی کے poll panel extension کے طور پر کام کر رہے ہیں ان کے لیڈروں کو مذہب کا بے دریغ استعمال کرنے کی پوری چھوٹ دے رکھی ہے۔ بنگال میں کورونا کی مہا ماری میں مودی جی کو بے حساب ریلیوں کو خطاب کرنے کے لئے پورے ایک مہینے کی مدت دیدی تاکہ وہ بار بار آسکیں بنگلہ دیش جا ئیں تو وہاں سے بھی مہم چلائیں ۔ان سب کے باوجود مودی اور الیکشن کمشنر کی حکمت عملی دھرری کی دھر ی رہ گئی:
الٹی ہوگئیں سب تدبیریں کچھ نہ دوا نے کام کیا
1957 میں پہلے الیکشن کمشنر سیو کمار سین نے کہا تھا ’’ ہم لوگوں نے اپنی آزادی کے دس سال کے اندر ایک ایسا انتخابی نظام دیا جواتنا اچھا اور کارگر ہے کہ ایشیا کے لیے ایک تحفہ سے کم نہیں‘‘ آج انتخابی نظام کی نا کامی ہندوستان کی بدنامی کا سبب بنتا جا رہا ہے مشہور الیکشن کمشنر ٹی این سیشن(T.N.Seshan) کو صاف ستھرا اور منصفانہ الیکشن کے لیے آج بھی یاد کیا جاتا ہے۔ سنیل اروڑاکو بھی بدنام زمانہ کے طور پر یاد کیا جائے گا۔ ایک اپنی نیک نامی کے لئے یا د کیا جائے گا دوسرا اپنی بد نامی کے لیے یاد کیا جائے گا۔ انتخابی اصلاحات کے لیے بہت سفارشات پیش کی گئی ہیں مگر جو بھی حکومت آتی ہے اسے کرنے کیلئے تیار نہیں ہوتی ۔انتخابی نظام کچھ ایسا ہے کہ اچھے اور ایمان دار آدمی الیکشن میں حصہ لینے کی جرات ہی نہیں کر سکتے کیونکہ مجرمانہ صفا ت کے حامل افراد سے کون مقابلہ کر سکتا ہے ؟ گندے لوگ گندے لوگوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں
پہلی چیز کریمنل عناصر کو کسی قیمت پر الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے یہ قانون شکن قانون ساز ادارے یا اسمبلی کے کیسے ممبر ہوسکتے ہیں؟ اس پر قدغن نہ لگنے کی وجہ سے تیس چالیس فیصد پارلیمنٹ اور اسمبلیوں میں قاتل، ڈکیت۔ بدعنوان, چور اور بے ایمان پائے جاتے ہیں۔ دوسری چیز مہم میں روپے پیسے کا بے دریغ استعمال پر پابندی عائد کر نی ہوگی الیکشن کمیشن کو امیدواروں کی تشہیر کی ذمہ داری سونپنی ہوگی اس سے اربوں کی رقم بربا د ہو نے سے بچ جائے گی۔ ایسا ہو تو عام آدمی بھی چنائو لڑنے کی ہمت کر سکیں گے ایسی کچھ انتخابی اصلاحات انتہائی ضرور ی ہیں۔ الیکشن کمیشن کی غیر جانبداری بہت ضروری ہے۔ موجودہ حکومت سے کچھ اچھی امید نہیں کی جا سکتی ہے مگر کوشش کرتے رہنا ہوگا۔
E-mail:[email protected]

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here