آپ بھی بانٹنے والوں میں شامل ہو جائیے!

0
797
All kind of website designing

میم ضاد فضلی

حدیث نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یارومددگا ر چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے ،اللہ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی سترپوشی کرتا ہے اللہ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔ ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ و سلم ہے کہ اللہ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا )رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے خادم (محتاج )تمہارے بھائی ہیں، اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ماتحت کردیا ہے۔پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو جو کھانا خودکھائے اس میں سے اسے کھلائے اور جو کپڑا خود پہنے وہی اسے پہنائے اور اس سے ایسی مشقت نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو اوراگر اس کی طاقت سے بڑھ کر کوئی کام اس کے سپر د کر ے تو خود بھی اس کی مدد کر ے۔ (بخاری ومسلم)
ایک دوسری روایت میں جسے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، محسن انسانیت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ :’’جو شخص کسی مسلمان کی کوئی دنیاوی تکالیف میں سے کوئی تکلیف دور کرے گا، اللہ تعالیٰ اس کی قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کو ئی مصیبت دور فر مائے گا، جو شخص کسی تنگ دست کے لئے آسانی پیدا کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کے لئے آسانی پیدا فر مائے گا اور جو شخص دنیا میں کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے، اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی فر مائے گا۔اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی مدد کرتا رہتا ہے، جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے‘‘۔( صحیح مسلم، كتاب الذِّكْرِ وَالدُّعَاءِ وَالتَّوْبَةِ وَالِاسْتِغْفَارِ)
اس موقع پر تاریخ اسلام کے دو عظیم بزرگوں کا عبرت انگیز قصہ یادآتا ہے، جس معلوم ہوتا ہے کہ دوسروں کے لیے جینے والا ہی در حقیقت اللہ کا پسندیدہ بندہ ہے ، جس سے وہ راضی ہوتا ہے، اس کو اپنے بندوں کی خدمت کے لیے منتخب کرلیتا ہے۔ کسی حالات کے مارے ستم رسیدہ و مصیبت زدہ شخص کی مدد کرنا اللہ کی توفیق کے بغیر ناممکن ہے۔ مگر یہ توفیق تب ملتی ہے جب انسان کے اندر اللہ کے بندوں کے لیے جینے مرنے کا جذبہ ہو، اس کے بعد اللہ تبارک و تعالیٰ ازخود اس بندے سے کام لے لیتا ہے۔شیخ سعدی نے بجا فرمایا ہے۔ ؎
ایں سعادت بزور بازو نیست
تانہ بخشدخدائے بخشندہ
یعنی کسی انسان کے ہاتھوں کوئی عظیم نیک کام انجام پائے تو اسے اللہ تعالیٰ کی عنایت وکرم سمجھنا چاہیے اور اپنے بازؤوں کے زور پر فخر نہیں کرنا چاہیے۔ دنیا میں بڑے بڑے کام افراد ہی کے ہاتھوں انجام پذیر ہوتے ہیں تو یہ محض اللہ کا کرم ہے کہ کوئی شخص کسی کام کیلئے منتخب ہوا، حالانکہ اس کی طرح بلکہ اُس سے بہتر اور بھی انسان اُسی دور میں موجود ہوتے ہیں، اس لئے انسان کو اللہ کی رحمت اور عنایت کا ممنون ہونا چاہیے۔بہر حال آئیے! اس سبق آموز قصہ کی طرف لوٹ چلتے ہیں ۔
قصہ کچھ یوں ہے کہ حضرت شفیق بلخیؒ اور حضرت ابراہیم ادہمؒ دونوں ہم زمانہ تھے۔ کہا جاتا ہے کہ ایک بار شفیق بلخیؒ اپنے دوست ابراہیم ادہمؒ کے پاس آئے اور کہا کہ میں ایک تجارتی سفر پر جا رہا ہوں۔ سوچا کہ جانے سے پہلے آپ سے ملاقات کر لوں۔ کیونکہ اندازہ ہے کہ سفر میں کئی مہینے لگ جائیں گے۔ اس ملاقات کے چند دن بعد حضرت ابراہیم ادہمؒ نے دیکھا کہ شفیق بلخیؒ دوبارہ مسجد میں موجود ہیں۔ انہوں نے پوچھا تم سفر سے اتنی جلدی کیسے لوٹ آئے؟
شفیق بلخیؒ نے بتایا کہ میں تجارتی سفر پر روانہ ہوکر ایک جگہ پہنچا۔ وہ ایک غیر آباد جگہ تھی، میں نے وہاں پڑاؤ ڈالا۔ میں نے ایک چڑیا دیکھی جو اُڑنے کی طاقت سے محروم تھی۔ مجھے یہ دیکھ کر اس پرترس آیا۔ میں نے سوچا اس ویران جگہ پر یہ چڑیا اپنی خوراک کیسے پاتی ہوگی؟ میں اسی سوچ میں گم تھا کہ اتنے میں ایک اور چڑیا آئی۔ اس نے اپنی چونچ میں کوئی چیز دبا رکھی تھی۔ وہ معذور چڑیا کے پاس اتری تو اس کی چونچ کی چیز اس کے سامنے گر گئی۔ معذور چڑیا نے اس کو اٹھا کر کھالیا۔ اس کے بعد آنے والی طاقتور چڑیا دوبارہ اُڑ گئی۔
یہ منظر دیکھ کر میں نے کہا، سبحان اللہ! خدا جب ایک چڑیا کا رزق اس طرح اس کے پاس پہنچا سکتا ہے تو مجھ کو رزق کیلئے شہر در شہر پھرنے کی کیا ضرورت ہے۔ چنانچہ میں نے آگے جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور وہیں سے واپس چلا آیا۔
یہ سن کر حضرت ابراہیم ادہمؒ نے کہا شفیق! تم نے اپاہج پرندے کی طرح بننا کیوں پسند کیا؟ تم نے یہ کیوں نہیں چاہا کہ تمہاری مثال اس پرندے کی سی ہو جو اپنے قوت بازو سے خود بھی کھاتا ہے اور دوسروںکو بھی کھلاتا ہے۔ شفیق بلخیؒ نے یہ سنا تو ابراہیم ادہمؒ کا ہاتھ چوم لیا اور کہا کہ ابو اسحاق! تم نے میری آنکھ کا پردہ ہٹا دیا۔ وہی بات صحیح ہے جو تم نے کہی۔
اب ذرا سوچیے اس ایک واقعہ سے ایک شخص نے بے ہمتی کا سبق لیا اور دوسرے شخص نے ہمت کا۔ اسی طرح ہر واقعہ میں بیک وقت دو پہلو موجود ہوتے ہیں۔ یہ آدمی کا اپنا امتحان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو کس زاویۂ نگاہ سے دیکھتا ہے۔ ایک زاویئے سے دیکھنے میں ایک چیز بری نظر آتی ہے دوسرے زاوئیے سے دیکھنے میں وہی چیز اچھی بن جاتی ہے۔ ایک رخ سے دیکھنے میں ایک واقعہ میں منفی سبق ہوتا ہے اور دوسرے رخ سے دیکھنے میں مثبت سبق۔ اس مختصر واقعہ سے ایک سبق یہ بھی ملتاہے کہ اپنے لیے ہی نہیں دوسروں کیلئے بھی جینا چاہیے۔ اپنی ضروریات تو ہر کوئی پورا کر لیتا ہے۔ ہاں آپ اس صف میں شامل ہو جائیں جہاں دوسروں کی ضروریات پوری کی جاتی ہیں۔ آپ اپنے لیے تو کماتے ہی ہیں کچھ کوشش ایسی بھی کر لی جائے کہ آپ بانٹنے والوں میں شامل ہوں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here