کورونا کی نئی قسم بتائے گی آپ کا ہمدرد کون ہے؟

0
805
A Covid-19 genotyping test can monitor strains P.1 (Manaus) and P.2 (Rio de Janeiro) in addition to the B.1.1.7 (British) and the B.1.351 (South African). (AFP)
A Covid-19 genotyping test can monitor strains P.1 (Manaus) and P.2 (Rio de Janeiro) in addition to the B.1.1.7 (British) and the B.1.351 (South African). (AFP)
All kind of website designing

حکیم نازش احتشام اعظمی

دوبرس پہلے چین کے ووہان شہر سے انسانی آبادی کو تباہ کرنےوالی موذی وبا کورونا وائرس عالمی سطح پر تمام احتیاطی تدابیر اور پروٹوکول پر عمل کے باوجود ابھی تک قابو میں نہیں آرہی ہے۔ پتہ نہیں وطن عزیز کو کب تک اس کی مار جھیلنی پڑے گی۔
معاملے کا سنگین پہلو یہ ہے کہ ابھی تک ہم کووڈ 19-کے سابقہ اسٹرین کی روک تھام میں ہی سرگرداں تھے کہ 22دسمبر2020کو برطانیہ میں اس کی دوسری قسم نمودار ہوگئی۔اس نئے اسٹرین کے متعلق محققین کی رائے ہے کہ یہ پہلے والے کووڈ19- سے زیادہ خطرناک اور تیزی سےپھیلنے والا ورژن ہے۔ گزشتہ برس 23 دسمبر2020 کو ہیلتھ میگزین میں شائع ہونے والی خبر کے مطابق ” کورونا وائرس کی نئی قسم تیزی سے پھیل رہی ہے” اور اس کے باعث انگلینڈ، اسکاٹ لینڈ اور ویلز میں رہنے والے لاکھوں افراد کے لیے چوتھے درجے کی سخت پابندیاں نافذ کی گئی ہیں،
حکیم نازش احتشام اعظمی
متعدد یورپی ممالک نے برطانیہ کے ساتھ سفری پابندیاں بھی عائد کردی ہیں۔
کورونا پر ہونے والی حالیہ تحقیق کے مطابق وائرس کی یہ نئی قسم اب پوری دنیا میں تشویش کا سبب بنتی جا ر ہی ہے جس کے باعث برطانیہ کے مختلف حصوں میں وائرس کے پھیلاؤ کی شرح میں نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے۔ برطانیہ میں اس نئی دریافت کے بعد لندن سمیت مختلف علاقوں میں سخت پابندیوں کا نفاذ کیا گیا ہے، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور ان کے سائنسی مشیروں نے انہیں آگاہ کیا ہے کہ وائرس کی یہ نئی قسم کوویڈ 19کے پھیلاؤ کی شرح کو 70فیصد تک بڑھا سکتی ہے۔
کورونا وائرس کی نئی قسم میں تین چیزیں ایک ساتھ ہو رہی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ وباکی یہ نئی قسم تیزی سے وائرس کے پرانے ورژن کی جگہ لے رہی ہے، پہلے یہ وائرس کوپیئر مزاج کا تھا، مگر اب اس نے اپنی ہیئت اور مزاج دونوں ہی بدل لی ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ ” ہیئت تبدیل ہونے کی وجہ سے وائرس کے سب سے اہم حصے کو ہی بدل دیتی ہے، جس سے اس کی شناخت کرنا مشکل ہوجاتا ہے، یہ تبدیلی اس لیے ہورہی ہے تاکہ کسی بھی طور پر اس کی شناخت ممکن نہ ہوسکے، ان میں سے کچھ تغیرات کو پہلے ہی لیب میں دکھایا جاچکا ہے جو خلیوں کو متاثر کرکے وائرس کی صلاحیت میں اضافہ کرتے ہیں، ان سب چیزوں سے مل کر ایک ایسا وائرس بنتا ہے جو آسانی سے پھیل سکتا ہے”۔ نئی برطانوی قسم جسے وی یو آئی 202012/01یا لائنیج بی 117کے نام سے جانا جاتا ہے، اس کا پہلی بار اعلان 14 دسمبر 2020 کو برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکوک نے کیا تھا۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ میڈیکل ریسرچ کے شعبے میں وطن عزیز ویسے بھی ترقی یافتہ ممالک کے مقابلے کوسوں پیچھے ہے ، البتہ ہم دوسرے ممالک کی ریسرچ کو اختیار کرتے ہیں اور اس میں تھوڑا بہت تغیرا و ر تبدیلی کرکے اپنی پیٹھ آپ ٹھوک کر اس خوش فہمی کا شکار ہوجاتے ہیں کہ ہم نے بہت بڑا تیر مار لیا ہے اور اپنی صلاحیت و قابلیت کے بوتے وہ کردکھایا ہے، جسے ساری دنیا کے سائنسدان مل کر بھی انجام نہیں دے سکے۔خیال رہے کہ موجودہ ”وزیر اعظم کی بھاشا بھی یہی ہے”،لہذا یہ کہنا مشکل ہے کہ کورونا وائرس کے تازہ اسٹرین کا پتہ لگانے میں ہمارا محکمہ صحت کامیاب ہوپائے گا یا نہیں۔
بہرحال یہ امر خصوصاً ہندوستان جیسے ممالک کے لیے جس کا محکمہ صحت ہمیشہ سوالوں کے گھیرے میں رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ یہاں اور ترقی یافتہ ممالک کے سائنس دانوں کے لئے کورونا وائرس کا نیا اسٹرین تشویش کا باعث بنا ہواہے۔ برطانیہ، برازیل اور جنوبی افریقہ کے بعد، فرانس میں پائے جانے والے کورونا وائرس کے اس نئے اسٹرین نے لوگوں کو حیرت میں مبتلا کردیا ہے۔ محققین اور وائرولوجی کے ماہرین کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ کووڈ19- کی سب سے کامیاب جانچ آرٹی۔ پی سی آر جیسے لیب ٹیسٹ سے بھی اس کا پتہ لگانا مشکل ہو رہا ہے۔ ہیلتھ میگزین میں شائع رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فرانس میں ایسے بہت سے کیسز سامنے آئے ہیں، جس میں وائرس سے متاثر ہونے کے باوجود لوگوں کی ٹیسٹ رپورٹس منفی آرہی ہیں۔ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق وائرس کی حالیہ نئی قسم ناک کے ذریعے کئے جانے والے RTPCR ٹیسٹ میں بھی پکڑمیں نہیں آرہا ہے۔
خطرناک صورت حال یہ ہے کہ کورونا وائرس کی جس نئی قسم کا پتہ برطانوی ماہرین صحت نے 14دسمبر2020کو ہی لگا لیا تھا، اس کا ٹھیک ڈھنگ سے پتہ لگانے میں ہم آج چارماہ بعد بھی پوری طرح کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ چناں چہ کورونا کی نئی قسموں وی یو آئی 202012/01یا لائنیج بی 117متاثرہ ممالک کی اطلاعات ملنے کے باوجودہم برطا نیہ اور دیگر متاثرہ ممالک سے آمدورفت پر پابندی عائد کرنے میں لیت و لعل سے کام لیتے رہے اور ہرطرف سے تنقیدوں کا سامنا کرنے کے بعد حکومت ہند نے اس وقت پروازوں پر پابندی لگائی جب پانی سر سے کافی اونچا جاچکا تھا،یعنی ہماری تساہل پسندی اور شعبہ صحت کے لچر رویے کی وجہ سے کافی دیر دیر ہوگئی اور اس دوران برطانیہ سمیت دیگر متاثرہ ممالک سے سینکڑوں نہیں ، بلکہ ہزاروں کی تعداد میں متاثرہ لوگ ہندوستان میں قدم رنجہ ہوچکے تھے۔ نتیجہ یہ ہواکہ ہماری غفلت اور نئے ورژن کی جانچ میں ناکام رہنے کی وجہ سے وبا سے متاثر لوگوں کو بھی عوام سے علیحدہ ‘قرنطینا’ نہیں کرپایے۔
دوروز قبل ہی انگریزی اخبار ”منٹ ”میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ : کورونا وائرس کی نئی قسموں کے آٹھ مریض مغربی بنگال میں پایے گئے ہیں۔اس واقعہ کی اطلاع ریاست مغربی بنگال کے محکمہ صحت کے ایک سینئرافسر نے دی ہے۔ تفصیل بتاتے ہوئے سینئر آفیسر نے کہا ہے کہ جولوگ کورونا وائرس کے نئے اسٹرین میں مبتلا پائے گئےہیں ، ان میں پانچ یوکے اسٹرین کے وائرس ملے ہیں، جب کہ باقیماندہ تین لوگوں میں جنوبی افریقہ والی قسم پائی گئی ہے۔
” Covid-19 new strains detected in 8 people in West Bengal
The eight affected are between 25 and 44 years of age
Out of them, five have been found to be infected by the UK-strain, while the rest with the South African strain
As many as eight people in West Bengal have been infected with the new strains of coronavirus, a senior official of the state health department has said.
Out of them, five have been found to be infected by the UK-strain, while the rest with the South African strain, according to a PTI report.” (Daily Mint, 25 March 2021)
ہندوستان کا المیہ یہ بھی ہے کہ یہاں وبا ہو یا کوئی اور قومی آفت اس کے اندر بھی عوامی مفادات کو طاق پر رکھ کر حکومتیں اپنے سیاسی اہداف کوہی سب سے اوپر رکھتی ہیں۔سوال یہ ہے کہ ایسے وقت جب کورونا جیسی مہلک وبا ایک بار پھر تباہی مچانے میں سرگرم ہوگئی ہے اور یکے بعد دیگرے کم ازکم 6 ریاستوں میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی جارہی ہے ۔غور کیجئے ! ایسے وقت میں سیاسی مفاد حاصل کرنے کے لیے متاثرہ ریاستوں سے ٹرینوں ، بسوں اور ہوائی جہازوں میں بھربھر کر پارٹی کیڈروں اور دوروپے فی ٹوئٹ کی مزدوری کرنے والے ٹرولس کو زیر انتخاب ریاستوں میں لے جانا کون سی ”دیش بھکتی” حب الوطنی ہے؟
سیاسی جماعتوں کے اس قدم سے نہ صرف ان پانچوں ریاستوں کوجہاں اسمبلی انتخابات ہورہے ہیں اور وہاں کے عوام کو ہم جان بوجھ کر تباہی کے کھنڈر میں دھکیل رہے ہیں، بلکہ سیاسی پارٹیاں اپنے لیڈروں، کیڈروں اور ٹرول آرمی کو بھی موت کا نوالہ بننے پر مجبور کررہی رہی ہیں۔ یہ ملک اور ملک کے عوام کے ساتھ سچی محبت نہیں ہے ، یہ ”آپدا میں اوسر” تلاش کرنے کا مرکزی حکومت کا فارمولہ ہے، جس کے بعد یہ کہنا غلط نہیں ہونا چاہئے کہ کورونا پھیلانے کی اصل ذمے دار سینٹرل گورنمنٹ اور انتخابی کمیشن ہے۔اب یہ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ وہ طے کریں کہ ان کا سچا ہمدرد اور ملک کا واقعی خیر خواہ کو نسی پارٹی اور کون سا لیڈر ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here