پڈوچیری میں صدرراج نافذ کرنے کی سفارش!

0
1246
Closing address: Former Chief Minister V. Narayanasamy addressing the Assembly during the floor test on Monday.
Closing address: Former Chief Minister V. Narayanasamy addressing the Assembly during the floor test on Monday.
All kind of website designing

 صدر راج نافذ کرنا جمہوریت کا قتل ہے :وی نارائن سامی

نئی دہلی ، ایجنسی:۔ مرکزی کابینہ نے پدوچیری میں صدرراج کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔ پدوچیری میں کانگریس-ڈی ایم کے کی مخلوط حکومت کے اقلیت میں آجانے سے سیاسی بحران پیدا ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ کسی دوسری پارٹی نے بھی حکومت بنانے کا دعوی نہیں کیا۔ بدھ کو وزیر اعظم نریندر مودی کی زیر صدارت منعقدہ مرکزی کابینہ کی میٹنگ میں اس سے متعلق تجویز کو منظوری دی گئی۔مرکزی وزیر اطلاعات و نشریات پرکاش جاوڈیکر نے پریس کانفرنس میں بتایا کہ پدوچیری میں حکمران جماعت کے کچھ ارکان نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ جس کے بعد وہاں کی حکومت اقلیت میں آگئی اور کسی دوسری فریق نے حکومت بنانے کا دعویٰ نہیں کیا۔ اس وجہ سے لیفٹیننٹ گورنر کی سفارش پر اسمبلی تحلیل کردی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں جاری سیاسی تعطل کے باعث مرکزی کابینہ نے صدر راج کے نفاذ کی سفارش کی ہے۔قابل ذکر ہے کہ پدوچیری میں کانگریس کی زیرقیادت حکومت تھی ، لیکن کچھ ارکان اسمبلی کے استعفیٰ دینے کے بعد وہاں کے وزیر اعلی وی نارائن سامی کی حکومت اقلیت میں آگئی تھی۔ اس کی وجہ سے نارائن سامی کو استعفیٰ دینا پڑا۔ مرکزی کابینہ کی سفارش پر صدر رام ناتھ کووند کی مہر کے بعد پدوچیری میں صدر راج نافذ ہوگا۔دریں اثنا پڈوچیری کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر وی. نارائن سامی نے بدھ کے روز مرکز کے ماتحت اس علاقہ میں صدر راج نافذ کرنے کی خبر پر ناراضگی ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’پڈوچیری میں صدر راج نافذ کرنا جمہوریت کا قتل ہے۔‘‘ قابل ذکر ہے کہ مرکزی کابینہ نے بدھ کو لیفٹیننٹ گورنر کی سفارش پر پڈوچیری اسمبلی کو تحلیل کرنے کی منظوری دے دی ہے۔اس تعلق سے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے سینئر لیڈر نارائن سامی نے مودی حکومت پر الزام عائد کیا کہ اس نے نامزد اراکین اسمبلی کا استعمال پڈوچیری کی منتخب حکومت کو گرانے کے لیے کیا اور پڈوچیری کی عوام آئندہ اسمبلی انتخاب میں بی جے پی کو سبق سکھائے گی۔ نارائن سامی نے بی جے پی پر جمہوریت کے قتل کا الزام عائد کیا۔واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے جنوبی ہند میں کانگریس کی واحد حکومت گر گئی۔ نارائن سامی اور ان کے اراکین اسمبلی کے ذریعہ واک آؤٹ کے بعد اسپیکر وی پی شیوکوجھنڈو نے اعلان کیا تھا کہ حکومت اپنی اکثریت ثابت نہیں کر سکی ہے۔ اس کے بعد پیر کے روز وزیر اعلیٰ وی. نارائن سامی نے لیفٹیننٹ گورنر ٹی. سوندراجن کو اپنا استعفیٰ سونپ دیا تھا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here