مسلم یونیورسٹی سے ’’ مسلم ‘‘ اور ہندو یونیورسٹی سے ’’ ہندو‘‘ لفظ کو نہ ہٹانے پر ایچ آر ڈی وزیر کی ستائش 

0
1431

مرکزی وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کمیٹی کے اراکین کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ

علی گڑھ (نیا سویرا لائیو ڈاٹ کام) فورم فار مسلم اسٹڈیز اینڈ اینالائسس( ایف ایم ایس اے ) نے مرکزی وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل مسٹر پرکاش جاویڈکر اور مرکزی وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود مسٹر مختار عباس نقوی کے اس اعلان کہ’ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’’ مسلم ‘‘ اور بنارس ہندو یونیورسٹی سے ’’ ہندو‘‘ لفظ کو ہٹانے کا حکومت کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔‘ کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کو کمیٹی کے اراکین کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لانی چاہئے۔ایف ایم ایس اے کے ڈائرکٹر ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا ہے کہ وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل نے ملک کی دس یونیورسٹیوں میں بد عنوانیوں کی جانچ کے لئے ایک کمیٹی تشکیل کی تھی جس نے اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جاکر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ’ مسلم ‘ اور بنارس ہندو یونیورسٹی سے ’ ہندو‘ لفظ ہٹائے جانے کی سفارش کی تھی جو اسے نہیں کرنی چاہئے تھی۔ کیونکہ دونوں تاریخی یونیورسٹیوں کا قیام پارلیامنٹ کے قانون کے ذریعہ عمل میں آیا تھا اور صرف پارلیامنٹ ہی ان یونیورسٹیوں کے نام سے لفظ’ مسلم‘ اور’ہندو‘ ہٹانے کا مجاز ہے ۔ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ مرکزی وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل مسٹر پرکاش جاویڈکر نے صاف طور پر کہا ہے کہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے’ مسلم‘ اور بنارس ہندو یونیورسٹی سے’ہندو‘ لفظ ہٹایا جائے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ کمیٹی کو یہ اختیار نہیں دیا گیا تھا اور اسے صرف مالی، تعلیمی، تقرری اور تحقیقی بدعنوانیوں کی جانچ کرنی تھی۔ڈاکٹر جسیم محمد نے بتایا کہ مرکزی وزیر برائے اقلیتی فلاح و بہبود مسٹر مختار عباس نقوی نے بھی یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت کا کوئی بھی ارادہ دونوں یونیورسٹیوں کے نام سے مسلم اور ہندو لفظ ہٹانے کا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دونوں مرکزی وزراء کے بیان کے بعد اب صورتِ حال واضح ہے اور ہندو اور مسلم موقع پرستوں کو اس کا جانائز فائدہ نہیں اٹھانے دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ وزارت برائے فروغِ انسانی وسائل کو کمیٹی کے اراکین کے خلاف کارروائی عمل میں لانی چاہئے کیوں کہ انہوں نے اپنے دائرۂ اختیار سے باہر جاکر ملک کے سماجی اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کی ہے اور صرف یہی نہیں بلکہ کمیٹی نے مرکزی حکومت کی شبیہ کو بھی خراب کرنے کی کوشش کی ہے۔
ڈاکٹر جسیم محمدنے کہا کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر طارق منصور نے بھی کہا ہے کہ کمیٹی کا دائرۂ اختیار محض مالی بدعنوانیوں کی جانچ کرنے کا تھا۔ اے ایم یو میں ’ مسلم ‘ لفظ سے ہمارے سیکولر ازم پر کوئی اثر نہیں ہے اور اسی لئے خود عدالتِ عظمیٰ نے بھی اس سلسلہ میں دائر کیس کو خارج کردیا تھا۔ڈاکٹر جسیم محمدنے کہا کہ مرکزی حکومت اے ایم یو اور بی ایچ یو کے فروغ کے لئے بھی سنجیدہ ہے اس لئے اب مذکورہ موضوع پر کسی ردِّ عمل کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here