’آندولن جیوی‘ بتا کر مودی نےکسانوں کی بےعزتی کی: سنیو کت کسان مورچہ

0
668
All kind of website designing

حکومت کسان تنظیموں کو بجلی بل واپس لینے کی یقین دہانی کروانے کے باوجود ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر رہی ہے

نئی دہلی (ایجنسی)وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پیر کے روز راجیہ سبھا میں دئے گئے بیان پر’سنیوکت کسان مورچہ‘ نے کہا ہے کہ انہوں نے ’آندولن جیوی‘ (تحریک کار) بتا کر کسانوں کی بے حرمتی کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت کی ہٹ دھرمی کسانوں کو ’آندولن جیوی‘ بنا رہی ہے۔
سنیوکت کسان مورچہ کی جانب سے ترجمان ڈاکٹر درشن پال نے کل شام کُنڈلی بارڈر پر بات چیت میں کہا کہ باہری حکمرانوں سے ملک کو ان کے بزرگوں نے آزاد کروایا تھا۔ ایسے میں کسان کو ’آندلون جیوی‘ ہونے پر فخر ہے مگر وزیراعظم کا ’آندولن جیوی‘ کہنے کا انداز درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت اب بھی کسانوں کے مطالبات کو مان لیتی ہے تو کسان واپس جا کر پوری محنت سے کھیتی کرنے کے لیے زیادہ خوش ہوں گے۔ یہ حکومت کا اڑیل رویہ ہی ہے جس کی وجہ سے تحریک طول پکڑ رہی ہے جو کہ ’آندولن جیوی‘ پیدا کر رہا ہے۔
ایم ایس پی پر مورچہ نے کہا کہ محض بیانوں سے کسانوں کو کسی طرح سے فائدہ نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے بھی اس طرح کے بے معنیٰ بیانات دیے گئے تھے۔ کسانوں کو حقیقت میں اور یکساں طور پر مستحکم طور پر اسی وقت فائدہ ہوگا جب تمام فصلوں کے لیے مرکزی حکومت ایم ایس پی کو خریداری سمیت قانونی گارنٹی دے۔ مورچہ نے کہا کہ وہ ایف ڈی آئی کی پہلے سے مخالفت کرتے رہے ہیں۔ پی ایم مودی کی ایف ڈی آئی نقطہ نظر سے ملک کے لیے خطرناک ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوس کی بات ہے کہ حکومت کسان تنظیموں کو بجلی بل واپس لینے کی یقین دہانی کروانے کے باوجود ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کر رہی ہے۔
ڈاکٹر درشن پال نے کہا کہ وہ بھی بات چیت کے لیے تیار ہیں لیکن حکومت کی جانب سے اس کے لیے سرکاری طور پر دعوت آنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ وہ اپنے مطالبات حکومت کے پاس پہلے ہی رکھ چکے ہیں اور ان کی جانب سے بات چیت کی تجویز تیار ہے۔ اب حکومت کو بات چیت کے لیے بلانا چاہیے۔ انہوں نے کبھی بات چیت کا راستہ بند نہیں کیا۔ حکومت نے جب بھی بلایا وہ بات چیت کے لیے گئے‘ مستقبل میں جاتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے اہم مطالبات آج بھی وہی ہیں۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here