مودی کی انانیت اور جارحیت بھاجپا اور حکومت کے لئے زوا ل کا پیش خیمہ

0
1124
All kind of website designing

’’ہم تو ڈوبے ہیں صنم تم کو بھی لے ڈوبیں گے‘‘

عبدالعزیز

یہ مثل مشہور ہے کہ جب گیڈر کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگنا ہے۔ اس وقت نریندر مودی جس انانیت کے شکار ہیں اور جس بربریت اور جارحیت کا بے شرمی کے ساتھ مظاہرہ کر رہے ہیں اس سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ اپنے اور اپنی فرقہ پرست پارٹی کے زوال کی دعوت دے رہے ہیں۔ حقیقت حال کو کھلے عام جھٹلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی خوشامد ی ٹیم میں جو لوگ ہیں وہ سب کے سب مودی کی خوشنودی میں ایک دوسرے سے بازی لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں ۔ اس کے لیے بڑے بڑے جھوٹ بولنے میں بھی ایک دوسرے سے سبقت لے کرہے ہیں۔ وزیر زراعت مسٹر ٹومر نے لو ک سبھا میں بیان دیا ہے کہ زرعی قوانین کا ایشو صرف ایک ریاست کا مسئلہ ہے۔وزیر خارجہ کا بیان ہے کہ بہت قلیل لوگوں کی تعداد زرعی قوانین کے خلاف ہے۔ اتر پردیش کے ایک اہم ایل اے نند کشور گجر نے وزیر اعظم کو جو خط لکھا ہے اور سوشل میڈیا میں جو موصوف کا بیان آیا ہے اس میں انہوں نے اخلاق اور دیانت کی ساری حدیں تو ڑ دی ہیں وہ سب کسانوں کو جو احتجاج پر بیٹھے ہوئے ہیں ان کو دہشت گرد اور غدار بتارہے ہیں۔ وزیر اعظم سے اجازت طلب کر رہے ہیں کہ اگر انہیں اندولن کاریوں کو احتجاج کی جگہوں سے ہٹانے میں کوئی تکنیکی رکاوٹ ہے تو وہ چند گھنٹوں میں انہیں ٹھکانے لگا دیں گے۔ موصوف اپنے ایک اور پارٹی ایم ایل اے سنیل شرما کے ساتھ ڈیڑھ دوسو غنڈوں کے ساتھ 28 جنوری کی شام کو غازی پور سرحد پر کسانوں کو ہٹانے کے لئے آئے تھے ۔ان کا ظالم گروہ آگے آگے تھا اور دوہزار پولیس اور پیراملٹری فورس پیچھے پیچھے تھی نعرہ لگ رہا تھا کہ ’’دہلی پولیس لٹھ چلائو ہم تمہارے ساتھ ہیں‘‘ یہی وہ منظر تھا جو کسان لیڈر راکیش ٹکیت کے جذبات کو برانگیختہ کردیا۔انہوں نے فساد یوں کو چیلنج کر دیا کہ وہ اپنی جگہ سے نہیں ہٹیں گے چا ہے ان کی جان چلی جائے وہ گرفتار ی بھی نہیں دیں گے وہ اپنے لوگوں کو چھوڑ کر کسی حال میں نہیں جائیں گے خواہ کچھ بھی وہ ہو جائے پانی بند کر دیا گیا تھا، بجلی کاٹ دی گئی تھی‘ انٹر نیٹ کنکشن ختم کر دیا گیا تھا۔ الغرض پولیس اور فساد ی ہٹانے کے درپے تھے لیکن جب راکیش ٹکیت نے چیلنج کیا اور جذبات میں آکر روپڑے کہ بھاجپا کے غنڈے بدمعاش کسانوں کی عزت اور آبرو سے کھیلنے کے لئے تیار ہیں وہ کسانوں کی بے عزتی ہرگز برداشت نہیں کر یں گے ۔پانی اس وقت پیئں گے جب ان کے گائوں سے آئے گا۔ اس کے بعد چاروں طرف کہرام مچ گیا اور لوگوں کا غازی پور آنے کا تانتا لگ گیا پھر پولیس فورس نے ہٹنا شروع کیا پولیس فورس کے ہٹتے دیکھ کر غنڈوں اور بدمعاشوں کے حواس باختہ ہو گئے آناً فاناً سب کی بولتی بند ہوگئی اور سب ایک ایک کر کے چلے گئے۔ اس سے تو اس بات کا بھی اندازہ ہوتا ہے کہ گجر کو اندولن کرنے والوں کو مار دھاڑ کر بھگانے یا ہٹانے کی اجازت مل گئی تھی۔ ایسی حرکت مودی حکومت کے اشارے کے بغیر نہیں ہوسکتی تھی۔ اس وقت تحریک اس قدر زور دار ہوگئی ہے کہ پوری دنیا میں اس کی گونج سنائی دے رہی ہے ۔ایسے وقت میں جس فنکار یا گلو کار کے کروڑوں فلورزہوں خواہ ریحانہ ہو یا نائب صدر امریکہ کملا ہارس کی بھانجی ہو ان کے علاوہ بھی کئی عالمی درجے کے فنکاروں نے کسانوں کی تحریک کی حمایت کی حکومت کی انسانی حقوق سلبی پر سخت تنقیدیں کیں ۔بھاجپا کی آئی ٹی سیل سے جب جواب نہیں بن پڑا ہمارے ملک کے فنکار بھی حکومت کے اشارے پر جواب دینے لگے یہ بھی کارگر نہ ہو ا تو حکومت دفاع میں آگئی جس سے حکومت کی کمزوری کھل کر سامنے آگئی۔ ایک بے حیا فنکار ہ اپنے ہی ملک کے بہت ہی نامور کرکٹر روہت شرما کو دھوبی کا کتا تک کہہ ڈالا وہ صاحبہ گالی گلوج دینے میں اپنا جواب نہیں رکھتی ہیں ۔بھاجپا کے لوگ ان کی حوصلہ افزائی میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتے ‘ان کو زیڈ سیکورٹی تک ملی ہوئی ہے وہ ایک بے حیا ٹی وی اینکر کی بہن معلوم ہوتی ہیں جو بدنام زمانہ ہوچکا ہے بدعنوانی کی وجہ سے جیل کی ہوا تک کھا چکا ہے ۔اگر یہ اندولن چند لوگوں کا ہے یا ایک ریاست کا جیسے کہ وزیر خارجہ اور وزیر زراعت فرما رہے ہیں تو پھرحواس باختہ ہو نے کی کیا ضرورت ہے جو لوگ دہشت گرد ہیں ان سے بار بار گفتگو کرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اب بھی گفتگو کرنے کی تمنا دل میں کیوں ہے؟ اگر اندولن اتنا معمولی درجے کا ہی ہے تو کالے قوانین کو ڈیڑھ دو سال معطل کرنے کی پیشکش کیوں ہے؟۔ کسانوں کے ایک سوال کا جواب کیوں دینے سے قاصر ہیں کہ پورے طور پر قوانین کو ختم کرنے کی مجبور ی کیا ہے ؟کیا امبانی اور اڈانی ناخوش اور ناراض ہوجائیں گے؟
کسانوں کی تحریک کو پہلے بدنام کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی۔ اس میں ذرا بھی کامیابی نہیں ہوئی۔ پھر حکومت نے اپنے لوگوں سے لال قلعہ پر جھنڈا لہرایا پولیس نے تشدد کرنے والوں کو 26جنوری کو لال قلعہ کے سامنے کھلی چھوٹ دے دی جو چاہو کرو۔ پھر ہنگامہ اور غنڈہ گردی سے ہٹانے کی کوشش کی۔ اس کے بعد سیسہ پلائی دیوار بنائی گئی اور نکیلے تار احتجاجیوں کے قریب لگا ئے ۔تمام سہولیات سے محروم کردیا گیا پھر بھی تحریک مضبوط سے مضبوط تر ہو رہی ہے۔ حکومت اور بھاجپا کی کوئی تدبیر کارگر ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ سب تدبیریں الٹی ثابت ہورہی ہیں اسے کم تر اور چھوٹے درجے کی تحریک بتا کر نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اب سوال ہے کہ کیا اس کا اثر حکومت اور بھاجپا پر پڑے گا۔ ایک خیال ہے کہ الیکشن کے وقت ہندو مسلمان اور پاکستان ، خالصتان یا مندر مسجد کہہ کر الیکشن میں مودی کامیاب ہو جائیں گے ۔دوسری بات یہ کہی جا رہی ہے کہ نوٹ بندی یا جی ایس ٹی سے بھی اثرات نہیں پڑے کمیونل ایجنڈا یا پولرائیزیش نے انہیں جیت دلا دی۔ یہ سب اس لیے ہو ا کہ کسان اندولن جیسا کوئی اندولن نہیں تھا یہ اندولن ایک تاریخی اندولن ثابت ہورہا ہے اس کے دور رس نتائج ہوںگے پولرائیزیش بھی کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہو گی۔ چار ریاستوں کے نتائج کا مودی اور ان کی جماعت انتظار کر رہی ہے حالانکہ کہ ہونے والی ریاستوں میں کسان اندولن کا بہت اثر نہیں ہے پھر بھی جتنا بھی ہے وہ اثر انداز ہوگا دوسری چیز یں بھی اپنا اثر دکھا ئیں گی اور مودی انانیت اور جارحیت مودی کے لیے زوال کا پیش خیمہ ثابت ہوگی خود تو ڈوبیں گے اور بھاجپا کو بھی لے ڈوبائیں گے۔

E-mail: [email protected]

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here