انسانیت اور ہمدردی کی شاندار مثال: 5 کلومیٹر پیدل چل کر مسلم پڑوسی کندھے پر لائے کشمیری پنڈت بھائی کی لاش

0
804
File Phot
All kind of website designing

برفباری کی وجہ سے ایمبولینس گاوں سے پانچ کلو میٹر پہلے ہی راستے میں پھنس گئی ۔ اس بات کی جانکاری جیسے ہی مسلم پڑوسیوں کو ہوئی تو وہ ایمبولینس تک پہنچے اور پیدل ہی کندھے پر لاش لے کر گاوں آئے ۔

شوپیاں( ایجنسی)کہتے ہیں کہ انسانیت سے بڑا کوئی مذہب نہیں ہوتا ہے ۔ جموں و کشمیر میں پیش آئے ایک واقعہ نے اس بات کو ایک مرتبہ پھر ثابت کردیا ہے ۔ دراصل جموں و کشمیر میں ان دنوں بھاری برفباری ہورہی ہے ۔ برفباری کے درمیان مسلم پڑوسی ایک کمشیری پنڈت کی لاش اپنے کندھے پر اٹھا کر لائے اور اس کی آخری رسومات میں بھی شامل ہوئے ۔
دراصل شوپیاں میں بھاری برفباری ہورہی ہے ۔ اس درمیان شوپیاں میں رہنے والے ایک کشمیری پنڈت کنبہ کے سن رسیدہ شخص کی اسپتال میں موت ہوگئی ۔ موت کے بعد لاش لے کر ایمبولینس جب گاوں آرہی تھی تبھی وہ برف میں پھنس گئی ۔ اس وقت کسی کو بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا کریں ، ایسے غمگین وقت میں کشمیری پنڈت کے مسلم پڑوسی اپنے کندھے پر کشمیری پنڈت کی لاش اٹھا کر لے آئے ۔بتادیں کہ 60 سال کے کشمیری پنڈت بھاسکر ناتھ کو کچھ دن پہلے طبیعت خراب ہونے بعد اسپتال میں بھرتی کرانا پڑا تھا ۔ اسپتال میں علاج کے دوران بھاسکر کی موت ہوگئی ۔ بھاسکر پنڈت کی لاش ایمبولینس سے گاوں لائی جارہی تھی ، لیکن برفباری کی وجہ سے گاڑی گاوں سے پانچ کلو میٹر پہلے راستے میں ہی پھنس گئی ۔ اس بات کی جانکاری جیسے ہی مسلم پڑوسیوں کو ملی ، وہ گھر سے نکلے اور پیدل ہی ایمبولینس کی طرف چل پڑے ۔ پانچ کلو میٹر دور سے انہوں نے لاش کو اپنے کندھے پر رکھا اور پیدل ہی گاوں میں لے آئے ۔ اتنا ہی نہیں ، مسلم سماج کے لوگ بھاسکر ناتھ کی آخری روسومات میں بھی شامل ہوئے ۔مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شوپیاں میں اب کچھ ہی کشمیری پنڈت کنبے رہ گئے ہیں ۔ یہاں پر ہرکوئی ایک کبنہ کی طرح ہی رہ رہا ہے ۔ بھاسکر پنڈت کی موت سے پورے گاوں میں دکھ کا ماحول ہے ۔ ہم سب ایک ہی کنبہ کا حصہ ہیں اور ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے ہیں ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here