جہیز کا لین دین

0
278

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

وہ : مولانا صاحب ! موجودہ دور میں جہیز دینے اور لینے کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟
میں : دینا مجبوری ہوسکتی ہے ، لینا کون سی مجبوری؟ میں نے اپنے لڑکے کی شادی کی ، کوئی جہیز نہیں لیا ، لڑکے کو موٹر سائیکل اور بہو کو زیورات ، ڈبل بیڈ ، سنگھاردان اور دوسری چیزیں خود خرید کردیں _ میری اہلیہ نے اپنی بھتیجی کی شادی کی ،

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

جو ہوسکا دیا ، لیکن لڑکے والوں نے کوئی مطالبہ نہیں کیا _۔
وہ : “جو ہوسکا ، دیا” مطلب ، دے سکتے ہیں؟ میری چھوٹی بہن کے کئی رشتے آئے ، ہم نے جہیز دینے سے انکار کیا تو بات آگے نہ بڑھ سکی _الحمدللہ ہمارے بھائیوں کی شادی بھی ایسے ہی ہوئی ہے ، بغیر کسی لین دین کے ۔ اپنی بہنوں کا نکاح بھی اسی طرح کرنے کا ارادہ ہے ۔ ابو ڈٹے ہوئے ہیں _ کہتے ہیں : ” ہم جہیز میں کچھ نہیں دیں گے _” ۔
میں : جہیز کو وراثت کے ساتھ جوڑ کر دیکھنا چاہیے _ وراثت میں لڑکیوں کا حصہ ہے _ قرآن مجید میں ان کے حصوں کی صراحت کی گئی ہے _ لڑکی ایک ہو یا ایک سے زائد ، کوئی ایسی صورت نہیں جس میں ان کو حصہ نہ ملے _ اگر لڑکیوں کو وراثت میں حصہ دیا جانے لگے تو انہیں جہیز سے محرومی کا احساس نہ ہوگا _ یہ صورت تو سخت ناپسندیدہ ہے کہ انہیں نہ جہیز میں کچھ دیا جائے اور نہ وراثت میں ان کا حصہ لگایا جائے۔
وہ : ہمارے یہاں جماعت کے اکثر افراد نے اپنی بچیوں کو جہیز دیا ۔ ہم سے بھی کہتے ہیں : دینا پڑتا ہے ، جب کہ ہم اس کے سخت خلاف ہیں _۔
میں : پریکٹیکل بننا چاہیے _ سماج بہت گندا ہے _ مسلمانوں کی اکثریت بہت لالچی ہے _ لڑکیوں کی شادی میں کچھ دینے میں حرج نہیں _ جو لڑکے والے صراحتاً یا اشارتاً جہیز مانگتے ہیں ، میں انہیں بہت بے شرم اور بے غیرت سمجھتا ہوں _۔
وہ : تو اب اگر اگلا رشتہ آئے تو ہم جہیز دے سکتے ہیں؟
میں : بالکل _
وہ : جی بہتر ہے _۔
میں : لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں جہیز کا لین دین پسند کرتا ہوں _ میں چاہتا ہوں کہ لڑکیوں کی شادی کسی طرح جلد ہو اور سماج میں جو مصنوعی رکاوٹیں کھڑی کردی گئی ہیں ان کو کسی طرح پار کیا جائے _۔
وہ : مولانا صاحب ! وہ جہیز والی حدیث کون سی ہے؟
میں : جہیز کے بارے میں کوئی حدیث نہیں _ عربی زبان میں ‘جہیز کے لیے کوئی لفظ ہی نہیں ہے _۔
وہ : کہا جاتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو جہیز دیا تھا۔
میں : بالکل غلط بات _ حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بچپن سے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کے ساتھ رہتے تھے _ ہجرتِ مدینہ کے بعد جب آپ نے فاطمہ کا ان سے نکاح کرنا چاہا تو ان سے دریافت کیا : ” تمھارے پاس کچھ ہے؟” انھوں نے جواب دیا :” آپ تو جانتے ہیں ، میرے پاس کچھ نہیں _ ہاں ، ایک زِرہ ہے _” آپ نے فرمایا : “اسی کو فروخت کرلاؤ _” اس سے جو رقم حاصل ہوئی اسی سے آپ نے مہر دلوایا اور گھر گرہستی کا کچھ سامان خریدوایا _ دوسرے الفاظ میں کہا جاسکتا ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنی بیٹی فاطمہ کے نکاح کے موقع پر جو کچھ انہیں دیا تھا وہ ان کے ہونے والے شوہر علی بن ابی طالب ہی کی رقم سے تھا _۔
وہ : جزاک اللہ خیراً ، مولانا صاحب ! بہت شکریہ

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here