روحانی علاج بھی ، جسمانی علاج بھی

0
555
فائل فوٹو
All kind of website designing

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

مسجد اللہ کی عبادت کا مقام ہے _ اس میں اس کا ذکر کیا جاتا ہے _ اللہ کی عبادت اور ذکر سے دلوں کو سکون و اطمینان حاصل ہوتا ہے اور ان کو لاحق ہونے والے امراض سے شفا ملتی ہے _ یہ انسانوں کے روحانی علاج کا ذریعہ ہے _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم کا اسوہ بتاتا ہے کہ مسجد کو وقتِ ضرورت انسانوں کے جسمانی علاج کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے _۔
غزوۂ خندق میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ زخمی ہوگئے تھے _ ان کی ‘’اکحل‘ نامی رگ میں ایک مشرک کا تیر لگ گیا تھا ، جس سے خون بہنے لگا تھا، _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ان کے لیے مسجدِ نبوی میں خیمہ لگوایا ، تاکہ ان کو قریب رکھ کر برابر ان کا حال جان سکیں ، چنانچہ آپ روزانہ صبح و شام ان کی خیریت معلوم کرنے کے لیے ان کے پاس تشریف لے جاتے تھے _ ( بخاری :463 ، 4122 ، مسلم : 1769 ، ابوداؤد :3101 ، نسائی :710 ، احمد: 24294)
قبیلۂ اسلم کی ایک خاتون ، جن کا نام ‘رُفَیدہؓ تھا ، علاج معالجہ میں مہارت رکھتی تھیں _ ،انہیں خاص طور پر زخموں کا علاج کرنے کے معاملے میں اختصاص حاصل تھا _ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم نے ان کا خیمہ بھی مسجد میں حضرت سعد کے خیمے کے برابر لگوایا اور ان کی ڈیوٹی لگائی کہ وہ ان کے علاج میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھیں _ (الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ابن حجر العسقلانی :302/4)
مذکورہ بالا روایات میں مزید ہے کہ ایک دن اچانک حضرت سعد کا زخم کھل گیا اور اس سے خون فوّارہ کی طرح بہنے لگا _ ،دوسرے خیمہ والوں نے خیمے کے باہر تک بہتا ہوا خون دیکھا تو پکار اٹھے _ ،چنانچہ بہت زیادہ

ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی
ڈاکٹر رضی الاسلام ندوی

خون بہہ جانے کی وجہ سے حضرت سعد ؓجاں بر نہ ہوسکے اور ان کا انتقال ہوگیا ۔ _
اس تفصیل سے درج ذیل باتیں معلوم ہوتی ہیں :
(1) مسجدوں کی تعمیر کا مقصد اگرچہ نماز باجماعت کا قیام ہے ، لیکن وقتِ ضرورت ان کے بعض حصوں کو بہ طور اسپتال استعمال کیا جاسکتا ہے _
(2) مسجدوں میں اگر عارضی طور پر مریضوں کو ٹھہرایا جاسکتا ہے تو ان کا علاج کرنے والے ڈاکٹروں ، نرسوں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے قیام کا بھی نظم کیا جاسکتا ہے اور علاج معالجہ میں کام آنے والی چیزوں کا اسٹاک بھی رکھا جاسکتا ہے _
(3) علاج معالجہ کے لیے کسی جگہ کو استعمال کرنے پر وہاں کچھ گندگی ہوسکتی ہے _ مسجدوں کو اس مقصد سے استعمال کرنے پر وہاں ہونے والی گندگی سے ان کا تقدّس پامال نہیں ہوتا _
(4) معالجاتی خدمات انجام دینے کے لیے مسجدوں میں خواتین جاسکتی ہیں _
(5) علاج معالجہ کی خدمت ایک ناگزیر ضرورت ہے _ اس کے لیے عام حالات میں نافذ ہونے والے پردہ کے احکام میں رعایت ہوجاتی ہے _ چنانچہ اجنبی عورت اجنبی مردوں کا علاج کرسکتی ہے _
(6) سیرت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں غیر مسلم کا داخلہ جائز ہے _ ثمامہ بن اثال کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ و سلم نے حالتِ کفر میں مسجد نبوی میں بندھوایا تھا _ اسی طرح نجران سے آنے والے عیسائیوں کے وفد کو مسجد میں ٹھہرایا تھا _ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کے کسی حصے میں بنائے گئے عارضی اسپتال میں غیر مسلموں کا بھی علاج کیا جاسکتا ہے _۔

مساجد کے کچھ حصوں کو عارضی اسپتالوں میں تبدیل کیا جاسکتا ہے :علی قرّہ داغی

کورونا کی وبا پوری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے اور گزشتہ دنوں میں اس کی شدت میں اضافہ ہوا ہے _ اس صورت حال میں کیا کورونا کے متاثرین کا علاج کرنے کے لیے مسجدوں میں انتظام کیا جا سکتا ہے؟ اور ان کے کچھ حصوں میں بیڈ لگائے جا سکتے ہیں اور ان کے لیے آکسیجن سلنڈروں کی سپلائی کی جاسکتی ہے؟
عالم اسلام کے مشہور فقیہ شیخ علی قرّہ داغی نے اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے _ موصوف مسلم علماء کی عالمی تنظیم ‘الاتحاد العالمی لعلماء المسلمین کے جنرل سیکرٹری ہیں، _ انہوں نے کہا ہے کہ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد نبوی میں حضرت سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کے علاج کے لیے خیمہ لگوایا تھا اور ان کی تیمارداری کے لیے ایک صحابیہ کو مقرر کیا تھا ، جن کا نام رُفَیدہ تھا _ حضرت رفیدہ کا خیمہ مسجد کے اندر تھا ، جس میں رہ کر وہ مریضوں کا علاج کرتی تھیں _
شیخ قرّہ داغی نے کہا کہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد میں اہل کتاب اور مشرکین جاسکتے ہیں ، چنانچہ مسجدوں میں علاج معالجہ کے لیے خاص کیے گئے ان حصوں میں غیر مسلموں کے داخلہ کی اجازت ہوگی _
شیخ داغی نے کہا کہ ایسا کرنے سے کئی فائدے حاصل ہوں گے : کورونا کی وجہ سے بہت سی مساجد بند کردی گئی ہیں وہ کھل جائیں گی ، ان سے کورونا کے مریضوں کی پریشانیوں کو ہلکا کرنے میں مدد ملے گی اور عالم اسلام اور دیگر ممالک میں یہ پیغام جائے گا مساجد انسانی المیہ کے ازالہ کی کوششوں میں شریک ہیں ، البتہ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ کام مساجد کمیٹیوں کے ذمے داروں ، محکمۂ صحت کے اہل کاروں اور ہاسپٹل اٹھاریٹیز کے ساتھ مکمل ہم آہنگی سے انجام پانا چاہیے _۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here