ٹیکنالوجی کا استعمال کرکے علماء بھی میڈیا میں نمایاں کردار ادا کرسکتے ہیں

0
849
مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی)،ممبئی کے زیر اہتمام منعقدہ انٹر نیشنل ویبنار کا منظر
مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی)،ممبئی کے زیر اہتمام منعقدہ انٹر نیشنل ویبنار کا منظر
All kind of website designing

مرکز المعارف کے زیرِ اہتمام انٹرنیشنل ویبنار کا انعقاد

ممبئی : بدلتے حالات اور تقاضے کے پیش نظر مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر (ایم ایم ای آر سی)،ممبئی نے علماء کو جدید چیلنجز اور ذمہ داریوں سے آگاہ کرانے کے لئے ایک ’’انٹر نیشنل ویبینار ‘کمیونٹی میڈیا کا مثبت استعمال اور علما ء‘‘ کے عنوان سے منعقدکیا۔اس میں ہندوستان سمیت دنیا بھر کے مختلف ممالک سے مرکزالمعارف اور اس سے ملحق اداروں کے فضلاء شریک ہوئے۔ اس آن لائن سمینار کے کنوینر مولانا محمد برہان الدین قاسمی، ڈائریکٹر مرکز المعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹرنے استقبالیہ کلمات پیش کرتے ہوئے نئے زمانے کے تقاضے کے مطابق اور وقت کی رفتار کے اعتبار سے نئی ٹکنالوجی سے ہم آہنگ ہو کر کام کرنے کو علمائے کرام کی اہم ذمہ داری بتلایا اور اس سمت میں تاخیر کو ناقابل تلافی نقصان گردانا۔
انگلینڈ سے ویبینار کی نظامت کرتے ہوئے مولانا محمد افضل قاسمی نے بتلایا کہ نئی ٹکنالوجی سے کم وقت میں زیادہ اور مفید کام بآسانی انجام دیا جاسکتا ہے، جس کو میں یہاں عملاً اپنے ارد گرد دیکھ رہا ہوں۔ ویبینار کے بنیادی عنوان’کمیونٹی میڈیا کا مثبت استعمال اور علماء ‘پر اپنی بات رکھتے ہوئے ملت ٹائمز کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی نے سوشل میڈیا کی طاقت کو دلائل سے ثابت کرتے ہوئے بتلایا کہ اگر آپ کو لمبی تحریر کو زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہونچانا ہے تو آپ فیس بک کا استعمال کیجئے، اگر آپ کو مختصر پیغام ذمہ داروں تک مؤ ثر انداز میں پہونچا نا ہے تو آپ ٹوئٹر کا استعمال کیجیے،اگر آپ کو ویڈیو میسج بڑے پیمانے پر پھیلانا ہے تو آپ یوٹیوب کا استعمال کیجئے اور اگر آپ کو فوٹو کے ذریعے پیغام وائرل کرنا ہے تو آپ انسٹا گرام کا استعمال کیجئے۔
ویبینار میں پر یزینٹیشن کے دوران بصریت آن لائن کے ایڈیٹر مولانا محمد غفران ساجد قاسمی نے بتلایا کہ میڈیا دو دھاری تلوار کی مانند ہے، لہذا اس کا استعمال بہت سوچ سمجھ کر اور ذمے داری سے کرنا ہے، یقیناً علما ء اس میدان میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں اور انہیں ضرور کرنا چاہئے۔مولانا شمس الہدیٰ قاسمی، استاد شعبہ انگریزی جامعہ اشاعت العلوم اکل کوا ں نے ویبینار کے شرکا ء کے سامنے سوشل میڈیا کی اثر انگیزی کو اعداد و شمار کے اعتبار سے پیش کرتے ہوئے بتلایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ ٹیم بنا کر سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں کا منظم استعمال کیا جائے۔ آپ نے سوشل میڈیا پر بچوں کے لئے اخلاقیات پر مبنی اسلامی مواد پیش کرنے پر زور دیا۔دہلی میں مقیم صحافی و ریسرچ اسکالر مولانا منظر امام قاسمی نے بتلایا کہ پرانے طرز کے میڈیا پر سوشل میڈیا مکمل طور پر حاوی ہوچکا ہے، اس لئے سوشل میڈیا پر مواد ڈالتے وقت اسے ہر زاویے سے پرکھنا ضروری ہیکہ کہیں قانونی یا میڈیا ٹرائل کا نہ سامنا کرنا پڑجائے۔اپنے طرز کے اس پہلے ویبینار کے مباحثے میں مولانا پرویز عالم قاسمی (آسام)، مولانا مدثر احمد قاسمی (بہار)،مولانا محمداکرم قاسمی (گجرات)، مولانا خورشید عالم داؤد قاسمی (افریقہ)، مولانا سکندر اعظم قاسمی(مہارشٹر)، مولانا عمیر قاسمی (اتر پردیش)،مولانا عبد العلیم قاسمی (قطر) وغیرہ نے حصہ لیا۔ اخیر میں کنوینر مولانا محمد برہان الدین قاسمی نے ویبینار کے مقالوں اور مباحثوں کا خلاصہ بیان کر تے ہوئے مرکزالمعارف کے بانی مولانا بدر الدین اجمل القاسمی، ممبر پارلیمنٹ (لوک سبھا) و رکن شوری دارالعلوم دیوبند کا پیغام شرکا ء کو سنایا اور ساتھ ہی سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارموں کے لئے الگ الگ ٹیم بنانے کا اعلان بھی کیا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here