القابات کے استعمال میں اعتدال ضروری!

1
2107
All kind of website designing

محمد اعظم ندوی
استاذ : المعہد العالی الاسلامی، حیدرآباد

انسان کی شخصیت صرف اس کے خاص نام سے ہی نہیں اسکی کنیت،لقب، تخلص اور خطاب سے بھی پہچانی جاتی ہے،اس وقت مجھے بطور خاص القاب اور ضمناًکسی نام کے دیگر متعلقات کا ایک غیر مربوط تذکرہ کرنا ہے ،ابن الجوزی (م:۵۹۷ھ)کہتے ہیں:’’ألقاب جمع لقب:وہواسم یدعی بہ الانسان سوی الاسم الذي سمّي بہ(زاد المسیر،المکتب الاسلامی،بیروت،۷؍۴۶۷)[القاب لقب کی جمع ہے:یہ اس نام کو کہتے ہیں جس سے کسی شخص کوپکارا جاتا ہے،اوریہ اس کے اصل نام کے علاوہ ہوتاہے] ،القاب کا استعمال ہر دور میں کثرت سے ہوتا آیا ہے، جاہلی دور میں القاب زیادہ تر خطر پسندی،شجاعت، مہارت یا کسی جسمانی وصف یا عیب کی بنیاد پر دیے جاتے تھے۔چنانچہ جاہلی شاعرثابت بن جابر(م:۸۵ق ھ) کو ’’تأبط شرًّا‘‘ (خطرات کو گلے لگانے والا)کا خطاب دیا گیا، زمانۂ ما بعدمیں بھی اس کا اثر باقی رہا،مخضرمی شاعر میمون بن قیس(م:۷ھ) کو اسکے ضعف بصارت کی وجہ سے ’’الاعشی‘‘ کہاگیا اور چونکہ وہ اپنے اشعار زیادہ تر ترنّم سے پڑھتا تھا اس لیے اسے ’’صَنّاجۃ العرب‘‘ کا بھی خطاب ملا، عہد عباسی میں عبد السلام بن رغبان(م:۲۳۵ھ) کو ’’دیک الجن‘‘ کا خطاب دیا گیا،چونکہ اسکی آنکھوں کا رنگ عام انسانوں سے بہت مختلف تھا،حضور اکرم ﷺ نے صحابہ کو جو القاب دیے وہ ان کے ذاتی اوصاف وکمالات کو بیان کرتے ہیں،فاروق وصدیق،ذو النورین، اسد اﷲ، امین ہذہ الامۃ،ذو الیدین، ذو الاذنین، ذو الشہادتین وغیرہ اسی قسم کے القاب ہیں،عہد عباسی سے یہ مزاج پروان چڑھا کہ ہر خلیفہ خود اپنا لقب اختیار کرنے لگا،یہ القاب ہادی ،مہدی،ناصر لِدین اﷲ،حاکم بامراﷲسے شروع ہوکر سیف الدولۃ، عضد الدولۃ،رکن الدین، معزالدین والدنیا تک پہنچے، اندلس میں یہ ذوق ایک دوسرے رنگ میں ابھرا ، یہاں کے القاب میں کامیاب وظفرمنداور بلند اقبال ہونے کی طرف اشارے ہوتے تھے، ظافرومنصور اور ذو الوزارتین وغیرہ اسکے نمونے ہیں،بعض علاقوں میں عربی القاب کو ترک کرکے فارسی وترکی القاب کو رواج دیا گیا،بیگ،پاشا اور آفندی وغیرہ اسی دور کی یادگار ہیں،دوسری طرف علماء ومشائخ کو شیخ الاسلام،حجۃ الاسلام اورناصر السنۃمحی السنہ ، حضرت اقدس وغیرہ کے القاب سے یاد کیا گیا ،ہندوستان میں ان القاب کے ساتھ ساتھ شمس العلماء، حکیم الامت، حکیم الاسلام اور مفکر اسلام وغیرہ کے القاب بجا اور بے جا شرعی احکامات و فرامین سے بالاتر ہوکر استعما کیے جانے لگے۔اور سچ مچ وہ عربی شاعر کے اس شعر کے مصداق تھے ؂
وقلّماأبصرتْ عیناک ذا لقبٍ
إلا ومعناہ إن فَتّشتَ في لقبہِ
[تم نے کسی صاحب لقب کو نہیں دیکھا ہوگا مگر ذرا تلاش کرنے پر اس کے اوصاف اسکے لقب میں مل سکتے ہیں]
(مگ اس وقت ہم اپنے سر کی آنکھوں اور اپنے کانوں اہل و ناہل تمام صاحبان جبہ و دستار کے لیے ایسے ایسے القابات کا مشاہدہ کررہے ہیں، کہ بعض القاب میں تو اپنے مرشد و قائد کو خدااور رسول تک قرار دینے کا شبہ پیدا ہونے لگتا ہے، اعاذناللہ منہا: مدیر)
مغربی ممالک القاب سے ہمیشہ دور رہے،انہوں نے Sirاور Mister پراکتفاکیا،اور آخر الذکر کے لیے تو صاحب رتبہ ہونا بھی شرط نہیں،البتہ عالم عرب میں شاہان مملکت کے لیے انگریزی کی طرح صرف Princeکے ہم معنی کسی لفظ مثلا ’’الامیر ‘‘یا’’الملک ‘‘کو کافی نہیں سمجھا گیا،بلکہ ’’ فخامۃ الرئیس‘‘،’’جلالۃ الملک‘‘، ’’معالی الامیر‘‘اور ’’سموّ الامیر‘‘وغیرہ کے زوردار القاب استعمال کئے گئے۔اپنے شاہوں کوالقابات دینے کے معاملے میں عرب فرماں رواؤں کے حاشیہ برداروں اسلامی تعلیمات کی دھجیاں بکھیردیں۔
اسماء رجال اور اصول حدیث کی کتابیں ہمیں بتاتی ہیں کہ ایک ہی محدث کو اسکے نام،لقب اور کنیت تینوں سے ذکر کیا جاتا تھا،اور ایک ہی نہیں کئی کئی کنیتیں بھی ہوتی تھیں، اپنی روایت کے عیب اور نقص کو چھپانے کے لیے بعض رواۃ شیوخ کے معروف نام کے بجائے ان کے غیر معروف نام یا کنیت ذکر کرتے تھے ،تاکہ لوگ یہ نہ سمجھ سکیں کہ یہ شیخ وہی صاحب ہیں جن کا ضعف جگ ظاہر ہے،اس حیلہ سازی کو اصول حدیث کے ماہرین’’تدلیس الشیوخ‘‘ کہتے ہیں، فن حدیث میں القاب پر باضابطہ کتابیں لکھی گئیں،امام ذہبی(م:۸۴۷ھ) کی کتاب ’’ذات النقاب فی الالقاب‘‘اور حافظ ابن حجر(م:۸۵۲ھ) کی ’’نزہۃ الالباب فی الالقاب‘‘وغیر اسی سلسلہ کی کتابیں ہیں،یہ تو رہی بات فن حدیث میں کنیت یا لقب وغیرہ کے استعمال کی بات، ایک ہی شخص یا شخصیت کے لیے دودو چار چار مفرد ومرکب القاب کے استعمال میں ہمارا’’مدرسائی ذوق ‘‘بھی کچھ کم نہیں،مثالیں دیکھنی ہوں تو مدارس کے سالانہ جلسوں کے اشتہارات جمع کرلیجئے، اس وقت تو میرے پاس ان میں سے ایک نمونہ بھی نہیں لیکن جو القاب بار بار دیکھنے کی وجہ سے میرے کمزور حافظہ میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں، ان میں سے چند یہ ہیں:نمونۂ سلف ،مقرر شعلہ بیاں، خطیب دوراں،سحبان اللسان،مناظر اسلام،مفکر اسلام،عارف باﷲ ،بلبل باغ مدینہ وغیرہ،یہ اور ان جیسے القاب ناموں سے پہلے حضرت مولانا، اور ناموں کے بعد مُدّظلہ العا لی، حفظہ اﷲ ،دامت برکاتہم اورقبلہ وغیرہ کے علاوہ ہیں، استادامام بخش ناسخ(م:۱۸۳۸ء) نے تو ’’قاتل کی آستیں‘‘ کو بھی لقب سے نواز دیا:
یہ اسکے ہے ساعدوں کا عالم کہ جس نے دیکھا ہوا وہ بیدم
’’نیامِ تیغِ قضائے مبرم‘‘ لقب ہے قاتل کی آستیں کا
لکھنؤ میں مجھ سے ایک پوسٹ ماسٹر نے کہا کہ ڈاکٹر کے نام سے پہلے سر (sir) یا آنریبل (Honourable) وغیرہ لکھنے کا معمول نہیں، لیکن علماء کے خطوط میں ’’مولانا‘‘ کے علاوہ نام سے پہلے اور اس کے بعد اتنے اضافوں کی ضرورت کیوں پڑتی ہے، ہم نے کہا کہ انگریزی اور اردو کامذاق اس سلسلے میں مختلف ہے، چنانچہ ہم اردو میں بسا اوقات یہی حسن سلوک ڈاکٹروں کے ساتھ بھی کرتے ہیں اور بلا تکلف ’’جناب ڈاکٹر۔۔۔صاحب‘‘ اور’’عزت مآب منسٹر۔۔۔صاحب ‘‘ وغیرہ کی ’’ترکیبیں‘‘ استعمال کرتے ہیں،یہ تو تھا صحیح یا غلط استدلال صرف اس مقصد سے کہ اپنی بات اونچی رہے، لیکن سچ یہ ہے کہ ہمارا یہ ذوق اس قدر غالب ہوجاتا ہے کہ جب ہم رومن خط میں اردو لکھ رہے ہوتے ہیں تو بھی رعایت انگریزی کے بجائے اردو کے لسانی آداب کی ہی کی جاتی ہے، مدارس کے داخلہ فارم جب طلبہ سے پُر کرائے جاتے ہیں تو ولدیت کے خانہ میں کم ایسے طلبہ ہیں جو اپنے والد کے نام کے ساتھ جناب،حضرت،مولانا اور صاحب وغیرہ کا اضافہ نہ کرتے ہوں، احترام مانع ہوتا ہے کہ والد محترم کا نام قلم پہ آئے اور عزت وشرف کے مخصوص الفاظ کے بغیر لکھا جائے، اب مشکل اس وقت پیش آتی ہے جب انھیں کوئی سرکاری فارم پر کرنا ہوتاہے، وہاں مولانا کے لیے ML اور صاحب کے لیے SBکے شارٹ کٹس استعمال کئے جاتے ہیں، میرے ایک دوست کو اسیSB کے چکر میں ایک سال تک پاسپورٹ آفس کے چکر کاٹنے پڑے کہ اس اختصارکاFull Form بتائیں کیاہے؟ اس سلسلے میں بڑے مزے کی حکایتیں ہیں،ہم ندوۃ العلماء میں زیر تعلیم تھے،دارالعلوم دیوبند سے فارغ ہوکر میرے ایک شناسا نے ندوہ کے شعبۂ ادب میں داخلہ لیا،آئی کارڈ بنا تو انھوں نے اپنے نام کے ساتھ F.D. لکھا،میں نے پوچھا :آپ توکیرالا یا تملناڈو کے نہیں جہاں اس طرح کے انگریزی شارٹ کٹس مثلاP.K. اور U.P.وغیرہ ناموں کے ساتھ استعمال کئے جاتے ہیں!وہ کہنے لگے:حیرت ہے آپ اتنی بات نہیں سمجھتے،F.D. کا فل فورم ہے’’فاضل دیوبند‘‘،مجھے اس پر بے ساختہ ہنسی آگئی،وہ پھر گویا ہوئے: آپ بھی عجیب آدمی ہیں،دیکھئے ہم علماء کو انگریزی والوں سے مرعوب نہیں ہونا چاہئے، کچھ ایسے شارٹ کٹس رکھئے ،جنکی تہجی سے آگے وہ کچھ سوچ بھی نہ سکیں،ابھی چند دنوں پہلے ایک صاحب کہہ رہے تھے کہ اسی طرز پہ اگر ’’فاضل مظاہر علوم‘‘ کا شارٹ کٹ بنانا ہوتوF.M. بنا سکتے ہیں!!! ۔
القابات شخصیتوں کو عزت دیتے ہیں،شخصیتیں القاب کی وجہ سے نااہل ہونے کے باوجودسے قابل احترام بن جاتی ہیں ۔
خلیل مطران(م:۱۹۴۹ء) نے کہا ہے ؂
لہ من الشِّیَم الغرّاء مملکۃٌ
إن کان ذا لقبٍ أو غیرَ ذي لقبِ
’’دلوں پراس کے اخلاق کریمانہ کی حکومت ہے،وہ صاحب لقب ہو یا نہ ہو‘‘
لیکن یہ الفاظ کے ساتھ انصاف نہیں کہ ہر کس وناکس کو کوئی بڑا لقب دے کر راتوں رات ہیرو بنانے کی کوشش کی جائے،اس کو ستائش کے خول یا تعریف کے قفس زریں میں بند کردیا جائے،آپ ﷺنا پسند فرماتے تھے کہ بلا وجہ تعریف میں مبالغہ سے کام لیا جائے،وفد بنی عامر نے تعریف پہ تعریف شروع کی تو آپ نے فرمایا:’’قولوا بقولکم أوبعضَ قولکم ،ولا یستجرینّکم الشیطان‘‘(أبوداود:۴۸۰۸،باب في کراہیۃ التمادح)’’بس اپنی اسی بات پریا انھیں میں سے بعض باتوں پر اکتفاکرو،شیطان تم سے دھیرے دھیرے وہ بات نہ کہلوادے جودرست نہ ہو‘‘۔ عبقری اور عظیم شخصیات القاب کی بیساکھیوں پر چل کرترقی کے زینے طے نہیں کرتیں،ان کی تمام تر ترقیات ان کے خلوص ،سعی پیہم اور جانفشانیوں کے نتیجے میں سامنے آتی ہیں،لیکن اب نقل ’’کارناموں‘‘ کی نہیں ’’کار‘‘ اور ’’ناموں‘‘ کی ہونے لگی ہے،پچھلی صدی کی نامور اور عبقری شخصیات میں علامہ محمدانور بن معظم شاہ کشمیری ؒکا نام آتا ہے،ان کو ایک تحریر میں مولانا یوسف بنوریؒ نے ’’الشیخ الحِبر البَحر مولانا محمد أنور شاہ‘‘ لکھا،علامہ نے جب یہ تحریر دیکھی تو جوابی تحریر میں تواضعا اس سے منع فرمادیااور لکھا’’آپ کو صرف مولانا محمد انور شاہ لکھنے کی اجازت ہے‘‘یہ تھاعلماء کاتواضع،اور ان کی ترجیح،اب صورت حال مختلف ہے،القاب میں بیجا بناؤسنگار بھی جاری ہے،اور طرفہ یہ کہ جو حضرات ان سے نوازے جاتے ہیں،وہ واقعی خود کو اس کا مستحق سمجھتے ہیں، ایک جلسے میں شرکت کا موقع ملا،وہاں ایک صاحب تشریف رکھتے تھے جو شہر میں تعلیمی خدمات کے لیے یوں شہرت رکھتے تھے کہ وہ کئی اداروں کی ورکنگ کمیٹی میں دخل رکھتے تھے،ناظم جلسہ نے ان کو دعوت سخن دیتے ہوئے کہا:’’شہرِ۔۔۔کے سرسیدجناب فلاں صاحب۔۔۔۔‘‘جبکہ اداروں سے منسلک ہونا اور بات ہے اور کسی تعلیمی یا اصلاحی نظریہ کا محرک ہونا ایک بالکل دوسری بات،اسی طرح ایک صاحب نے ایک جلسہ میں نظامت کرتے ہوئے مفکر اسلام حضرت مولانا علی میاںؒ کا ایک قول نقل کیا،اورفرطِ محبت یاجوشِ نظامت میں کہہ گئے:’’دنیا کے سب سے بڑے مؤرخ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی حسنی ندویؒ نے فرمایا‘‘ اس جملہ کو ’’بلا تبصرہ ‘‘پڑھئے اور خود نتیجہ نکالئے کہ اس سے حضرت مولانا ؒ کا علمی مقام متعین ہورہا ہے یا محض گرم جوشی کا اظہار، حضرت مولاناخود فرمایاکرتے تھے:موسم کی طرح ہرلفظ کا ایک درجۂ حرارت یا درجۂ برودت ہوتا ہے،’’حضرت‘‘ کا لفظ تو ایسا ’’بے اعتبار‘‘ یا ’’بااعتبار‘‘ ہوگیا کہ واقعی کسی بڑی شخصیت کے لیے صرف حضرت کا لفظ کافی نہیں رہا،چونکہ ’’ملاّ‘‘ بھی حضرت ہوگئے اور ’’جمّن‘‘ بھی حضرت،ضرورت ہے القاب وآداب کے استعمال میں واقعیت اور توازن کی ،دنیاکی قیادت کا منصب حقیقت پسندی کا طالب ہے،بے جا الفاظ سے کھیلنے کانہیں ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

1 تبصرہ

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here