اللہ کے نزدیک حسن اخلاق کی اہمیت اور خلیق مسلمان کی پہچان

0
2167
All kind of website designing

ڈاکٹر میم ضاد فضلی

ہادی عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بڑے دل نشیں اور مؤثر اسلوب میں اخلاق حسنہ کو اپنانے کی تلقین کی ہے چند احادیث ملاحظہ ہوں۔
اکمل المؤمنین ایمانا احسنھم خلقا
کامل مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔(ابوداؤد ٤٦٨٦، ترمذی ١١٦٢)
ان المؤمن لیدرک بحسن خلقہ درجہ الصائم القائم۔
مومن اپنے حسن اخلاق سے دن میں روزہ رکھنے والے اور رات میں عبادت کرنے والے کا درجہ پالیتا ہے۔(ابوداؤد ٤٧٩٨)
یہاں یہ بات کسی سچے مسلمان کو لمحہ بھر کے لیے بھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہہمارے اخلاق ہمارے خالق و مالک کے ساتھ بھی اچھے ہونے چاہئیں اور بندوں کے ساتھ بھی۔ خالق و مالک کے ساتھ اچھے اخلاق کا مطلب یہ ہے کہ اسے ایک جانیں، اس کا ہمسر یا شریک کسی کو نہ بنائیں، جو مال اس نے دیا ہے اس میں سے اس کی راہ میں خرچ کریں، نماز کی پابندی کریں، یوم آخرت پر ایمان رکھیں، قرآن پاک اور دیگر آسمانی کتابوں پر ایمان رکھیں، اس کی حلال کردہ چیزوں کو حلال اور حرام کردہ چیزوں کو حرام جانیں، ہمیشہ اپنے خالق و مالک کا شکر ادا کرتے رہیں اور تکلیف پہنچنے پر صبر کریں۔ اچھے اخلاق والوں کے یہ اوصاف اپنے رب کے ساتھ لازماً ہونے چاہئیں۔ مگر مسلم معاشرہ کا المیہ یہ ہے کہ اللہ کی جانب سے اس پر دولت کا در کھلتے ہی وہ خود کو خدا سمجھنے لگتا ہے ،کمزور وں، غریبوں اور بوسیدہ حال و محنت کش مزدور مسلمانوں کے وجود سے ہی اس کو گھن آنے لگتی ہے۔قرآن کریم نے ان کی خصلت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ اِنَّ الْاِنْسَانَ خُلِقَ ھَلُوْعًاخ اِذَا مَسّہ ُ الشّرُّ جَزُوْعًا خ وَّ اِذَا مَسّہُ الْخَیْرُ مَنُوْعًاخ (المعارج)تر جمہ : بے شک انسان بڑ بے صبرا اور لالچی پیدا کیا گیا ہے، جب اسےسختی یا برائی پہنچے تو یکدم گھبرانے والا،اور جب اسےخیر (بھلائی) پہنچے تو بخیل اور کنجوسی کرنے والا۔
یہاں بھلائی سے مراد دنیوی اور اخروی دونوں طرح کے انعامات ہیں۔ دنیوی بھلائی جو ظاہر سی بات ہے مادی ترقی اور برتری ہی ہوسکتی ہے، بھلائی حاصل ہونے کا مطلب اللہ کی نعمتوں کے خزانے کھل جانااور دولت کی ریل پیل ہوجانا ہے۔
آج ہم اپنے معاشرے کی طرف دیکھیں اور جائزہ لیں تو خود بخود مذکورہ بالات آیات کی عملی تفسیر ہماری آ نکھوں کے سامنے واضح ہوکر سامنے آ جائے گی۔ جب ہم مادی اعتبار سے کم زور ہوتے ہیں اور پیدل چلنا یا پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنا ہماری مجبوری ہواکرتی ہے تو ہر ضرورت مند ، بھوکا اور بھکاری ہمارے سامنے آسانی دست سوال دراز کرلیتا ہے اور اللہ کی بخشی ہوئی توفیق کے مطابق ہم اپنی جیبوں میں پڑی تھوڑی بہت رقم میں سے بھی دس پانچ روپے اس ضرورت مند کی طرف بڑھادیتے ہیں۔مگر جیسے ہی اللہ کی جانب سے نعمتوں کی بارش ہونے لگتی ہے، ہم بخل کی ساری تر کیبیں ازخود سیکھ لیتے ہیں ، اب ہمارا سفر اپنی ذاتی ایئر کنڈیشنڈ گاڑیوں میں ہونے لگتا ہے، جس پر ہمیشہ غریبوں، محتاجوں اور ضرورتمندوں کے جسم اور وجود کی بو سے محفوظ رہنے کے کی غرض سے دبیز شیشے چڑھے ہوتے ہیں۔ ظاہر سی ایسی گاڑیوں کی طرف کوئی بدنصیب یا مصیبت زدہ ہاتھ بھی کیسے بڑھاسکتا ہے اور کچھ حوصلہ بھی کرے تو ہماری بگڑی ہوئی شکلیں اور تنی ہوئی بھنویں دیکھ کربے چارا بھکاری آگے بڑھ جاتا ہے۔ اسی طرح ہمارا سفر زمین سے آسمان کے ذریعے ہونے لگتا ہے، جہاں سے ہم خلا کا سینہ چیر کر ہزار

ڈاکٹر میم ضاد فضلی
ڈاکٹر میم ضاد فضلی

وں میل کا سفر گھنٹوں میں کرتے ہیں، ہوائی جہاز کے اندر یا ایئر پورٹ کے باہر کوئی بوڑھا ،بے بس ، مجبور اور حالات کا ماراہوا اپنا دامن پھیلا کر کھڑا ہوسکے ،اس کا تو تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ہوائی جہاز سے تھوڑ ا نیچے اتریں اور ٹرینوں کے عالی شان اے سی کوچوں میں سفر کرنے والوں کی فیاضی کا جائزہ لیں ، کیا یہ سوچا بھی جاسکتا ہے کہ کوئی منگتا یا بھوک سے تڑپتی اسٹیشنوں پر پلنے والی اللہ کی مخلوق ان اے سی کوچوں کے بابوؤں سےپوری سبزی کھلادینے کی گہار بھی لگا سکے گی ؟
اس کے برعکس آپ جنرل کوچیز، سلیپر کلاسز اور پبلک ٹرانسپورٹ میں نظر ڈالیں تو وہاں ہمیں درجنوں مانگنے والے نشان عبرت لیے ریل کے ڈبوں میں ہاتھ پھیلاتے ہوئے مل جائیں گے۔ مگر مالداروں نے تواپنی کوٹھی سے لے کر عالیشان گاڑی اور فرسٹ کلاس جرنی فقط اسی مقصد سے اختیار کی ہے کہ کسی مانگنے والے، محتاج یا ستم رسیدہ انسان کا سایہ ان پر نہ پڑ سکے۔میرے مخاطب براہ راست مسلمان سرمایہ دار ہیں، لہذا گفتگو کا روئے سخن اپنے انہیں امیر بھائیوں کی طرف ہے۔ میں نے دارالحکومت دہلی جیسے بڑے بڑے شہروں کی پاش کالونیوں میں رہنے والی جنس کو شب وروز دیکھا ہے، ان کی کوٹھی کے قریب جائیں تو پہلے ہی معلوم ہوجائے گا کہ یہاں انسان نہیں بستے ، بلکہ عموما ایک تختی لٹکی ہوئی ملے گی جس پر لکھا ہوگا۔’’ کتوں سے ہوشیار رہیں‘‘۔
سورۂ اعراف میں رب کریم و رحیم نے کچھ مخصوص لوگوں کو جانور قرار دیتے ہوئے فرمایا ہے۔
وَ لَقَدْ ذَرَاْنَا لِجہَنَّمَ كکَثِیْرًا مِّنَ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ۔ لہُمْ قُلُوْبٌ لَّا یَفْقہُوْنَ بہَا ۔ ٘ وَ لہُمْ اَعْیُنٌ لَّا یُبْصِرُوْنَ بِہَا۔ ٘ وَ لَہُمْ اٰذَانٌ لَّا یَسْمَعُوْنَ بِہَا۔ اُولٰٓئکَ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ۔ اُولٰٓئک َہُمُ الْغٰفِلُوْنَ۔ ترجمہ :’’ اور ہم نے بہت سے جن اور انسان دوزخ کے لیے پیدا کیے ہیں۔ ان کے دل ہیں لیکن ان سے سمجھتے نہیں اور ان کی آنکھیں ہیں مگر ان سے دیکھتے نہیں اور ان کے کان ہیں پر ان سے سنتے نہیں۔ یہ لوگ بالکل جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ ان سے بھی بھٹکے ہوئے۔ یہی وہ ہیں جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔
دل رہتے ہوئے کسی محتاج و بے بس کی تڑپ کا احساس مرجانا،آنکھوں میں بینائی رہتے ہوئے کسی کی سسکتی اور قابل رحم حالت نہیں دیکھ پانا، کانوں میں ان کی فریاد اور پکار سنائی نہ دینا ان آیات کے زمرے میں نہیں آسکتا۔اگر خیر کا یہ عمل یعنی غربا پروری بھی عبادت ہے تو پھر اس سے اعراض کرنے والے کو اللہ کی زبان میں جانور کہنا مناسب حال ہے۔بہر حال مندرجہ بالا سطور میں خالق کے ساتھ ہمارے اخلاق کی قدرے تفصیل پیش کی جاچکی ہے۔
خلیق مسلمانوں کی شناخت یہ بھی ہے کہ خالق ہی کی طرح ان کے اخلاق بندوں کے ساتھ بھی اچھے ہونے چاہئیں۔ اچھے اخلاق کے لئے علم کا ہونا ضروری ہے، اس لئے علم نافع حاصل کریں اور اس علم سے لوگوں کو فائدہ پہنچائیں۔علم نافع کون سا علم ہے ،یہ ایک طویل اور وضاحت طلب موضوع ہے،جس کے متعلق محسن انسانیت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی درجنوں ثقہ روایات موجود ہیں، جو بتاتی ہیں کہ کس علم کو علم نافع کہا جائے گا اور کس علم کو عنداللہ مضر اور انسانیت خصوصا مسلمانوں کے لیے حد درجہ نقصاندہ قرار دیا جائے گا۔
چونکہ زیر نظر تحریرمیں ہمارا موضوع حسن اخلاق اور باخلاق مسلمان کی شناخت پر گفتگو کرنا ہے، لہذا ہم پھر نفس موضوع کی طرف لوٹتے ہیں۔بندوں کے ساتھ حسن اخلاق میں اول نمبر پر ماں باپ ہیں ،جن کی فرماں برداری نہ کرنے والا مسلمان کسی بھی قیمت پر بااخلاق نہیں کہلاسکتا، ہمیں تعلیم دی گئی ہے کہ انھیں کبھی جھڑکیں نہیں، ان کے ساتھ نرمی سے بات کریں، انھیں اف تک نہ کہیں، ان کی صحت کا خیال رکھیں، ان کو اپنے ساتھ رکھ کر ان کی خدمت کریں۔ بندوں کے ساتھ اچھے اخلاق میں یہ بھی ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی سے پیش آئیں، رشتوں کو نبھائیں، رشتوں کو جوڑیں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جو تمہیں محروم کرے، تم اسے عطا کرو‘‘۔ ایک اور جگہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ’’لمبی عمر چاہتے ہو تو اپنے رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی کرو‘‘۔
اچھے اخلاق کی ایک علامت یہ بھی ہے کہ ہم سلام میں پہل کریں، سلام کو عام کریں، ہر جاننے والے اور انجان مسلمان کو سلام کریں۔ جب کہ آج یہ بات عام ہوچکی ہے کہ ہم صرف اسی کو سلام کرتے ہیں، جس کو ہم جانتے ہیں۔ یا جنہیں اپنا ہم رتبہ اور اپنے برابر کا سمجھتے ہیں۔میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ دن میں بھر میں کم ازکم سینکڑوں احباب کو میںواٹس ایپ کے ذریعہ سلام و رحمت بھیجتا ہوں۔ ان میں کچھ اہل ثروت اور مالدار ارباب بھی ہوتے ہیں، کوئی بڑی بڑی رفاہی و ملی تنظیموں اور تعلیمی تربیتی اداروں کا وی آئی پی ذمے دار بھی ہوتا ہے۔ مگر وہ غریبوں کےسلام کاجواب دینے کو شاید خلاف شان اور اپنی حیثیت کے لیےذلت تصورکرتے ہیں۔ جب کہ عام مسلمان اورمادیت سے محروم مسلمان بھائی سلام کا جواب دینے اخلاص کے خوشی و مسرت کا احساس بھی کراتے ہیں۔ اجمالی طورپر حسن اخلاق سے مزین مسلمانوں کی علامات یہی سب ہیں اور معیار کو سامنے رکھ کر ہم بآسانی پتہ لگاسکتے ہیں کہ اسلام کو مطلوب اور اللہ اور اس کے رسولﷺ کا پیا را بااخلاق مسلمان کون ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here