ہماری مرضی سے تیل بیچو ورنہ تمہارا تیل نکال دیں گے، سعودی عرب کوٹرمپ کی دھمکی

0
936
All kind of website designing

انگریزی سے ترجمہ: محمد ابراہیم خان

امریکا نے تیل کی عالمی منڈی پر اپنی اجارہ داری برقرار رکھنے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں دھمکیاں بھی شامل کرلی ہیں۔ ۱۲؍اپریل کو سعودی عرب، تیل برآمد کرنے والے ممالک کی تنظیم اوپیک اور روس کی قیادت میں فعال تیل برآمد کرنے والے ممالک نے پیداوار میں یومیہ کم و بیش ۹۷ لاکھ بیرل کے مساوی کٹوتی کا اعلان کیا۔
سعودی عرب اور روس کے درمیان مارچ کے دوران تیل کی قیمت کے حوالے سے جو کشیدگی پیدا ہوئی اُس نے امریکا کو مداخلت پر مجبور کردیا۔ ۲؍اپریل کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو فون کیا، جس میں اُنہیں واضح دھمکی دی کہ اگر سعودی عرب نے تیل کی پیداوار کم کرکے تیل کی قیمتیں مستحکم کرنے میں کلیدی کردار ادا نہ کیا تو امریکی قیادت سعودی سرزمین کے دفاع کی ذمہ داری سے دست کش ہوتے ہوئے وہاں سے افواج، پیٹریاٹ میزائل اور میزائل ڈیفنس سسٹم ہٹالے گی۔ یہ دھمکی اس قدر ہمہ گیر نوعیت کی تھی کہ محمد بن سلمان حیران رہ گئے اور انہوں نے اپنے تمام معاونین کو فوری طور پر کمرے سے نکال دیا تاکہ مزید توجہ اور رازداری سے بات کرسکیں۔
اگلے ہی دن یعنی ۳؍اپریل کو امریکی صدر نے چند سینیٹرز اور امریکا میں تیل کی صنعت کی نمایاں شخصیات کو وائٹ ہاؤس مدعو کرکے تیل کے بحران سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا۔ اس ملاقات کا بنیادی مقصد امریکا میں تیل کی صنعت کو مکمل تباہی سے بچانا اور سعودی عرب سمیت تیل کے تمام بڑے برآمد کنندگان کو پیغام دینا تھا کہ امریکی قیادت یہ معاملہ پوری سنجیدگی سے لے رہی ہے۔
سعودی عرب، روس اور دیگر ممالک کی طرف سے پیداوار میں کی جانے والی کمی کو امریکی ایوانِ صدر کی بہت بڑی کامیابی کے روپ میں دیکھا جارہا ہے۔ امریکا اور سعودی عرب کی اسٹریٹجک پارٹنرشپ ۷۵ برس پر محیط ہے۔ ۱۹۴۵ء میں امریکی صدر روزویلٹ نے سعودی عرب کے سربراہ شاہ عبدالعزیز بن سعود سے ملاقات کی تھی۔ امریکی بحریہ کے ایک جہاز پر ہونے والی اس ملاقات میں طے پایا تھا کہ سعودی عرب اپنے تیل کے ذخائر تک امریکا کو رسائی دے گا اور اس کے عوض امریکا سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات کا تحفظ یقینی بنائے گا۔ سعودی عرب میں ساڑھے تین ہزار امریکی فوجی تعینات ہیں۔ سعودی عرب سے تیل کی برآمدات کی نگرانی کی ذمہ داری بھی امریکا کی ہے۔
امریکی صدر نے سعودی ولی عہد کو بتایا کہ اگر تیل کی پیداوار میں کٹوتی کرکے امریکا کی تیل کی صنعت کو بچانے کی کوشش نہ کی گئی تو کانگریس میں اُس مسودۂ قانون کو منظور ہونے سے روکا نہ جاسکے گا جس کا مقصد سعودی سرزمین سے امریکی فوجی اور دفاعی ساز و سامان ہٹانا ہے۔ وائٹ ہاؤس میں بریفنگ کے دوران جب میڈیا کے نمائندوں نے صدر ٹرمپ سے ولی عہد محمد بن سلمان کو دی جانے والی مبینہ دھمکی کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے کی ضرورت ہی نہیں پڑی! امریکی صدر روسی ہم منصب سے بھی خفا ہیں کیونکہ ولادیمیر پیوٹن نے معاملات کو بگڑنے سے نہیں روکا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب اور روس کے درمیان معاملہ طُول پکڑ رہا تھا۔ ایسے میں کسی ڈیل کے لیے مداخلت لازم تھی، سو اُنہوں نے مداخلت کی۔
۲؍اپریل کو ٹرمپ کی طرف سے سعودی ولی عہد کو ٹیلی فون کال سے دو ہفتے قبل ری پبلکن سینیٹرز کیون کریمر اور ڈین سلیون نے کانگریس میں وہ مسودۂ قانون متعارف کرایا تھا، جس کا بنیادی مقصد تیل کی پیداوار نہ گھٹائے جانے پر سعودی سرزمین سے امریکی فوجیوں اور دفاعی ساز و سامان کو ہٹانا تھا۔ تیل کی قیمت کے حوالے سے سعودی عرب اور روس کی جنگ نے امریکی کانگریس میں شدید اشتعال پیدا کردیا تھا کیونکہ امریکا میں تیل کی صنعت کو اس جنگ کے ہاتھوں شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ جب روس نے پیداوار میں کٹوتی سے انکار کیا تو سعودی عرب نے بھی ’’نل‘‘ کھول دیا، یعنی مارکیٹ میں اتنا تیل ڈال دیا کہ قیمت کو گرنے سے روکنا کسی بھی طور ممکن نہ رہا۔ کورونا وائرس کی روک تھام کے لیے کیے جانے والے لاک ڈاؤن کے باعث دنیا بھر میں تیل کی کھپت بہت کم ہوگئی۔ رسد میں کمی نہ لائے جانے سے امریکا میں تیل کی منڈی بالکل بیٹھ گئی، قیمت صفر تک آگئی۔
تیل کی یومیہ پیداوار میں ۹۷ لاکھ بیرل کی جو کمی کی گئی ہے، اس میں سعودی عرب اور روس کا حصہ پچیس پچیس لاکھ ہے۔ دونوں ممالک کی معیشت کا مدار تیل اور گیس کی آمدن پر ہے۔
۳۰ مارچ کو سینیٹر کیون کریمر نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات کی تاکہ سعودی عرب کے حوالے سے معاملات طے کرنے کے بارے میں کوئی لائحۂ عمل تیار کیا جاسکے۔ امریکی وزیر توانائی ڈین برولیٹ کا کہنا تھا کہ امریکی صدر قومی مفادات کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے کوئی بھی اقدام کرسکتے ہیں یعنی سعودی عرب سے اسٹریٹجک پارٹنرشپ بھی ختم کی جاسکتی ہے۔ اُسی دن صدر ٹرمپ نے کیون کریمر کو جوابی فون کال کی۔ وزیر توانائی ڈین برولیٹ، سینئر اکنامک ایڈوائزر لیری کڈلو اور تجارتی نمائندے رابرٹ لائتھیزر بھی لائن پر تھے۔ کیون کریمر نے شکوہ کیا کہ وزیر دفاع مارک ایسپر کو بھی لائن پر ہونا چاہیے تھا۔
۱۶؍ مارچ کو کیون کریمر سمیت ۱۳؍ سینیٹرز نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کو خط لکھا، جس میں ان پر واضح کردیا گیا کہ امریکا میں تیل کی صنعت کو تباہی سے بچانے کے لیے سعودی عرب کو تیل کی پیداوار نیچے لانا ہوگی۔ عالمی منڈی میں تیل ضرورت سے بہت زیادہ آجانے سے صورتِ حال بگڑی اور تیل کی قیمت بالکل گرگئی۔ ساتھ ہی ساتھ امریکی وزیر تجارت ولبر راس پر سینیٹرز نے زور دیا کہ وہ اس امر کی تحقیقات کریں کہ عالمی منڈی میں بہت زیادہ تیل پہنچاکر سعودی عرب اور روس نے بین الاقوامی تجارتی قانون کی خلاف ورزی تو نہیں کی۔
۱۸ مارچ کو ڈین سلیون اور ٹیڈ کروز سمیت امریکی سینیٹروں کے ایک وفد نے امریکا میں سعودی سفیر شہزادی ریما بن بندر بن سلطان سے ملاقات کی اور ان پر زور دیا کہ وہ امریکا میں تیل کی صنعت سے متعلق قانون سازوں کی تشویش سے سعودی قیادت کو آگاہ کردیں۔ امریکی سینیٹرز نے سعودی سفیر کو یہ بھی بتایا کہ یمن میں سعودی عرب کی قیادت میں جو اتحادی جنگ میں مصروف ہیں، اُس کے حوالے سے کانگریس میں شدید اشتعال پایا جاتا ہے کیونکہ یمن میں انسانی المیے نے جنم لیا ہے۔ بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں اور ملک کا بنیادی ڈھانچا مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here