مفتی سعید احمد کا انتقال ایک ادارے کا نہیں بلکہ پوری امت مسلمہ کا ناقابل تلافی نقصان ہے۔ مولانا عرفی قاسمی

0
1255
All kind of website designing

نئی دہلی، : ہندستان کے مؤقر عالم دین،دار العلوم دیوبند کے صدر المدرسین اور شیخ الحدیث مفتی سعید احمد پالن پوری کے سانحہئ ارتحال پرقلبی رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے آل انڈیا تنظیم علماء حق کے قومی صدر مولانا محمد اعجاز عرفی قاسمی نے کہا کہ موجودہ عہد کے معتبر اور مشہور محدث تھے، ان کا انتقال صرف ایک ادارے کا خسارہ نہیں، بلکہ یہ بلاشبہ پوری امت مسلمہ کا نا قابل تلافی خسارہ ہے۔ انہوں نے آج یہاں جاری ایک تعزیتی بیان میں کہا کہ اس عہدقحط الرجال میں مفتی صاحب مرحوم اکابر و اسلاف کے کردار اور ان کی رفتار و گفتار کی ایک متحرک اور جیتی جاگتی تصویر تھے، جنھوں نے اپنی نشست و برخاست اور اخلاق و کردار کی خوش بو سے پیش رووں کی تابندہ روایات کو زندہ رکھا۔ انھوں نے کہا کہ مرحوم ایک جید عالم دین، نام ورشارح حدیث، پر گو خطیب،کام یاب مصنف و مؤلف اور متقی و پرہیز گاراور صاحب نسبت شخص تھے۔ انھوں نے طویل عمر پائی اور ایک طویل عرصے تک ایشیا کی عظیم اسلامی درس گاہ میں درس و تدریس کے منصب کو وقار و احترام بخشا،منطق و فلسفہ، فقہ و حدیث، تفسیر و تاریخ کی ابتدائی درجات سے لے کر علیا درجات تک کی کتابیں ان کے زیر درس رہیں، اور اپنے منفرد انداز فہم اوردلچسپ طرز تخاطب سے طلبہ کے درمیان ایک محبوب اور مقبول استاد بن کر اپنی شناخت قائم کی۔
انھوں نے کہا کہ ان کاطرز درس اور طرز تخاطب طلبہ میں بہت مقبول تھا، ام المدارس دار العلوم دیوبند کے وقیع تدریسی پلیٹ فارم سے نو نہالان اسلام کی تعلیم و تربیت اور قوم و ملت اور عوام الناس کی اصلاح وارشاد اور تزکیہئ نفوس کا جو فریضہ انھوں نے ملک و بیرون ملک میں انجام دیا ہے،وہ انھیں ہندستان ہی نہیں، بلکہ برصغیر کی اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش باب بنا دے گا۔ انھوں نے مفتی صاحب مرحوم کے علمی کارناموں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ صرف کتابی عالم دین نہیں تھے، بلکہ وہ ایک محقق، آشنائے زمانہ اور دیدہ ور عالم دین تھے۔وہ مختلف علم و فن کی قدیم کتابوں کے ساتھ جدید تحقیقی کتابوں کے بھی عاشق تھے اورانتہائی ضعف و نقاہت کے عالم میں بھی شب و روز کتب بینی میں مصروف رہا کر تے تھے، فقہ و حدیث کی ادق عبارتوں کی عقدہ کشائی، رجال حدیث اور اسناد کی جانچ پرکھ ان کا شب و روز کا وظیفہ تھا۔
انھوں نے درس و تدریس کے ساتھ اہم تحقیقی و تالیفی کارنامے بھی انجام دیے ہیں۔عربی اور اردو دونوں زبانوں میں انھوں نے گراں قدر تصنیفی سرمایہ چھوڑا ہے۔تفسیرو حدیث فقہ و فتاوی اور درسیات سے متعلق علوم پر درجن بھر کتابیں ان کی قلمی صلاحیتوں کا بین ثبوت ہیں۔انھوں نے فقہ حنفی کا اہم ماخذ ترمذی شریف کی ضخیم اور مطول شرح لکھ کر طالبان علوم اسلامیہ کے لیے اس کتاب سے استفادے کی راہ ہموار کی، وہیں انھوں نے مسند الہند شاہ ولی اللہ دہلوی کے علوم و افکار کی ترویج و اشاعت میں بھی اہم کردار ادا کیا۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here