وہ ایک داستان زخم وکراہ جو کورونا کے شور میں دب گئی۔۔۔۔۔

0
949
All kind of website designing

مفتی احمدنادر القاسمی
اسلامک فقہ اکیڈمی، انڈیا

وہ دہلی کے چاند باغ کی جلتی ہوئی دکانیں ،وہ مسجدوں کے میناروں سے اٹھتے ہوئے آگ کے شعلے ،دہلی پولیس کی موجود گی اور اس کی مددسےوہ غریبوں اور ریڑھی پٹری پر ساگ سبزی ،کیلے اورپھلوں کی پھیریاں کرکے اپنے بچوں کا پیٹ پالنے والےسماج کے پسماندہ لوگوں کے دھودھو کرتےجلتے ہوئے مکان،جان اور عزت آبرو کے خوف سے اپنے گھروں میں گھٹ گھٹ کر جان جاں آفریں کے حوالے کردینے والی بد نصیب مائیں ،وہ کردم پوری،نور الہی،سیلم پور اور مصطفے آبادکے معصوم اور شیر خوار بچوں کی درد اور زخموں سے نڈھال چیخیں ،مسلسل تین دنوں تک آسمان کو خون کے آنسو رلادےنے والے انسانیت کے دشمن درندوں کی دہشت وبربریت کے نتیجے میں چھلنی چھلنی ہوئے مسلم نوجوانوں کے جسم بکھرے ہوئے بے ترتیب ٹکڑے اور انکے زخموں کی کراہ۔یہ سب آخر کیوں کوروناکے کے شور میں دبادی گئی وہ زخمی اور لہو لہان بدن اور زخم خوردہ نوجوان جو دہلی کے اسپتالوں میں زیر علاج تھے وہ کہاں گئے ۔وہ لاشیں جو پوسٹ مارٹم کے انتظار میں مردہ خانوں میں تھیں، وہ لاشیں آخر کہاں دفنا دی گئیں، ان کوجنازے بھی نصیب ہوئے یا نہیں۔ ۔۔اللہ ان بے کس لاشوں شہادت کا درجہ عطافرمائے۔آمین
وہ فیملیاں جن کے چولہوں آگ بجھادی گئی، وہ بے سہارا کہاں چلے گئے ۔آخربھارت کے سیاسی لوگ اور ارباب حل وعقد نے کیوں انھیں فراموش کردیا ۔ان کا قصور کیاتھا ،آخر ہندوستان کے ذی ہوش لوگوں نے کیوں نہیں سوچا کہ دہلی میں کورونا کاوئرس کا ٹھیکراتبلیغی جماعت کے سر کیوں پھوڑ دیاگیا ۔اسی لیے نہ تاکہ گجرات مسلم نسل کشی جیسے قتل عام کی طرح دہلی میں انجام دی گئی ہندوتوا دہشت گردی کی طرف سے لوگوں کا ذہن ڈائیورٹ ہوجائے ۔لوگ مصطفے آباد،چاند باغ اور نور الہی کی لہولہان داستان کو بھول جائیں ۔اور کورونا کے نام پرنہتے اور بے بس لوگوں پولیس کےذریعہ پیٹ پیٹ کر خاموش کردیا جائے اور گھروں میں بند کردیا جائے ۔یہ لاک ڈاؤن کی ٹھیک ویسی ہی کہانی ہے جیسے ماں اپنے بچوں کو گھرآجانے اور سونے کے لئے کہتی ہے ۔باہر مت بھاگو باہر میں بھوت ہے ۔بچے بھی بھوت ہے بھوت ہے کہ کر گھر

مفتی احمد نادر القاسمی
مفتی احمد نادر القاسمی

میں جلدی سے بستر پہ آکر دبک جاتے تھے ۔ایسے ہی بھوت کی طرح کورونا ہے، کوروناہے، بھاگو گھر بند کرو، دکان بند کرو ،مسجد بند کرو، اسکول بند کرو،مگر سادہ لوح مسلم عوام نے شاطر مودی اور انسانیت دشمن بی جے پی کے مرتب کردہ پس پردہ مقاصد اور عزائم پر کبھی دھیان ہی نہیں دیا۔ یہ بھوت ہے بھوت ہے کی مشق کروائی جارہی ہے اور کن کن چیزوں سے اس کے بہانے دھیان ہٹایا جارہا ہے ۔ آپ اگر اس کا تجربہ کرناچاہتے ہیں تو کرلیں کہ کوئی الکٹرانک ،پرنٹ اورسوشل کوئی بھی میڈیا چاند باغ،مصطفے آباد اوردہلی کے آرایس ایس کے دہشت گردوں ذریعہ منظم طریقے سےکی مسلم نسل کشی اور پولیس کے الٹا بے گناہ مسلما نوجوانوں کی ناجائز گرفتاری چیخ چیخ کر دنیا کو اپنی سچائی بتارہے ہیں، جس کی گونج کبھی خلیجی ممالک میں اٹھتی ہے تو کبھی امریکہ کے انصاف پسند ادارے بھی سنگھ کے اشارے ناچنے والی مسلم دشمن مودی حکومت کی سخت لہجے مسلسل تنقیدیں کرتے رہتے ہیں۔ کیا دنیا کی تاریخ میں ظلم و بربریت کی کسی مذموم کارروائی کو اتنی آسانی سے اور اتنی جلدی بھلادیا گیا، ہرگز نہیں ۔ظلم کی کوئی بھی واردات ایسے نہیں بھلائی جاتی ۔مگردہلی میںلاک ڈاؤن جتنا لمباچلے گا اتناہی مودی اور کجریوال سرکار کی بلے بلےہوگی، لہذ ا یہ لوگ اس خوف سے بھی نہیں چاہتے کہ لاک ڈاؤن کھول دیا جائے اور آرایس ایس کیڈروں کی طرح کام کرنے والی دلی پولیس کے ذریعہ ناجائز طریقے سے بے بنیاد الزامات پھنساکر گرفتار کیے گئے مسلمانوں کوعدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے کا موقع مل سکے ۔مگر یا د رکھو!ملت کے غیور نوجوانو تمہیں ڈرایاجارہاہے ۔گھروں سے گرفتار کیاجارہا ہے ۔تاکہ تم ڈر جاؤ اوراپنے حق کی بات نہ کرو ۔۔اپنے اوپر ہونے والے مظالم پر زبان مت کھولو ۔اب دیکھنا ہے کہ دیش کاجوان ہندو مسلم سکھ عیسائی گرفتاری اور جیل کی سلا خوں اور حکومت کی ظالمانہ کاروائیوں سے ڈر جاتا ہے یا اپنے دیش کے فیوچر کو صحیح اور بھائی چارے والے رخ پر لانے کے لیے ہرستم برداشت کرنے کو پروانہ وارتیار رہتاہے ۔اے دہلی !تھجے ظالموں نے داغدار کیاہے، معصوموں کی چیخ اور دردوکراہ کاقرض تمہارے سینے میں دفن ہے یاد رکھنا۔اگر تونے چاند باغ، کردم پوری،مصطفےآباد، نور الہی اور شیووہار کے مظلوموں کے ساتھ انصاف نہیں کیا تویادرکھو کہ کوئی بھی میرے رب کی پکڑ سے باہر نہیں ہے ۔کچھ کام نہیں آئےگا ۔یاد رکھنا ۔۔ظلم پھر ظلم ہے بڑھتاہے تو مٹ جاتا ہے۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here