موہن بھاگوت اور امت شاہ کا بیان آئین کے خلاف

0
282
مرحوم ملی کاؤنسل
مرحوم ملی کاؤنسل

انہیں اپنے عہدوں اور ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہییے: مرحوم ملی کونسل

نئی دہلی۔3اکتوبر (پریس ریلیز) ہندوستان ایک سیکولر اور جمہوری ملک ہے۔ آئین اور دستور میں تمام شہریوں کو بغیر کسی مذہبی تفریق کے یکساں حقوق دیئے گئے ہیں تاہم کچھ لوگ اقتدار مل جانے کے بعد ہندوستان میں فرقہ پرستی کو فروغ دے رہے ہیں اور آئین کی مسلسل دھجیا ں اڑارہے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا۔
آر ایس ایس سربراہ موہن بھاگوت کے بیان پر اپنے شدید رعمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے، شروع سے یہاں تمام مذاہب اور ذات کے لوگ رہتے ہوئے آرہے ہیں۔ آئین اور دستور میں بھی اسے سیکولر اور جمہوری ملک لکھاگیاہے۔ اس لئے آئین کے خلاف اس طرح کی بیان بازی سے کمیونٹی کے درمیان تفرقہ پیدا ہوگا اور ملک کا ماحول خراب ہوگا۔ڈاکٹر محمد منظور عالم وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کی بھی مذمت کی اور کہاکہ انہیں یہ خیال کرناچاہیئے کہ وہ صرف پارٹی کے لیڈر نہیں بلکہ ملک کے وزیر داخلہ بھی ہیں۔ بنگال میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے شہریت اور این آر سی کے بارے میں جس لب ولہجہ کے ساتھ انہوں نے تقریر کی ہے وہ ہندوستان کی جمہوریت اور دستور کیلئے شرمناک ہے۔ ہندومسلمان،سکھ عیسائی آئینی طور پر یہاں کے شہری ہیں۔ وہ یہیں پیدا ہوئے اور قانون کی مطابق وہ یہاں کے شہری ہیں،کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ کسی سے ثبوت طلب کرکے وہ انڈین ہے یا نہیں۔
ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کہاکہ این آر سی اور دیگر ایشوز پر مسلمانوں کے درمیان خوف کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے۔ شروع میں لو جہاد،اس کے بعد ماب لنچنگ کے نام پر مسلمانوں کو ڈرایاگیا اور اب تازہ شوشہ این آر سی اور شہریت ترمیم بل کا چھیڑا گیاہے جس کا واحد مقصد مسلمانوں کے درمیان خوف کا ماحول پیدا کرناہے۔ آسام این آر سی کا ریزلٹ ہمارے سامنے ہے جس میں کڑور روپے خرچ ہوئے لیکن کوئی حتمی اور درست نتیجہ نہیں سکا۔ موہن بھاگوت آر ایس ایس کے سربراہ اور ایک ذمہ دارشخص ہیں۔ امت شاہ ملک کے وزیر داخلہ ہیں ان دونوں کیلئے ضروری ہے کہ اپنے عہدہ اور ملک کے آئین کو پیش نظر رکھیں اور کمیونٹی کے درمیان اس طرح کی نفرت انگیز باتیں کرنے سے گریز کریں۔فرقہ وارایت کو فروغ نہ دیں۔ آئین اور دستور کی بحالی کو ترجیح دیں۔ آئین ہند سب سے جامع،مستحکم اور مضبوط ہیں اسی میں ہندوستان کی کامیابی،ترقی اور کامرانی مضمر ہے۔نفرت انگیزی ،اشتعال ،اور ملک کی متعدد کمیونٹیز کے درمیان تفریق پیدا کرنا ،ایک دوسرے کے خلاف زہر اگلنا اور ملک میں نفرت کی چنگاری سلگانے ہمیشہ ملک کو نقصان ہوا ہے ۔ ارباب اقتدار اور ملک کے سرکردہ شخصیات کو چاہیئے کہ وہ آئین کے خلاف باتیں کرنے اور نفرت کی چنگاری سلگانے کے بجائے آئین کی بحالی اور دستورپر عمل آوری کو یقینی بنائیں ۔آئین اور دستور کو فروغ دیں ۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here