ہمارا روزہ تین تبدیلیوں کے ذریعہ آسان کردیا گیا ہے 

0
1169
All kind of website designing

ہمارا روزہ تین تبدیلیوں کے ذریعہ آسان کردیا گیا ہے 

محمد یاسین قاسمی جہازی
واٹس ایپ: 9871552408

روزہ کی تاریخ بہت قدیم ہے۔ گذشتہ امتوں میں بھی روزہ فرض کیا گیا تھا، البتہ اس کی صورت اور وقت بدلتا رہا ہے۔ انبیائے کرام علیہم السلام کا طرز عمل بھی روزہ کے حوالے سے مختلف رہا ہے۔ چنانچہ(۱) حضرت نوح علیہ السلام: صوم دھر یعنی ہمیشہ روزہ رکھا کرتے تھے۔(۲) حضرت داود علیہ السلام:ایک دن روزہ ایک دن افطار کیا کرتے تھے۔(۳) حضرت عیسی علیہ السلام:ایک دن روزہ اور ایک دن یا کئی دن افطار کیا کرتے تھے۔(۴) خاتم المرسلین صلیٰ اللہ علیہ وسلم:کبھی روزہ رکھا کرتے تھے اور کبھی افطار کیا کرتے تھے۔
آج جو ہم روزہ رکھتے ہیں، اس میں تین تبدیلیوں کے بعد اسے آسان بنایا گیا ہے ، جس کی تفصیل تفسیر ابن کثیرجلد ۲؍ میں آیت نمبر ۱۸۲ کے تحتبیان کی گئی ہے کہ نماز کی طرح روزہ میں بھی تین تبدیلیاں ہوئی ہیں:
اول یہ کہ جب نبی اکرم ﷺ مدینہ تشریف لائے تو ہر مہینہ میں تین دن اور یوم عاشورہ کا روزہ رکھا کرتے تھے۔ پھر جب کتب علیکم الصیام کی آیت نازل ہوئی اور رمضان کا روزہ فرض ہوا تو ابتدائی حکم یہ تھا کہ جو چاہے روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے اور فدیہ دیدے۔پھر یہ آیت اتری کہ فمن شھد منکم الشھر، فلیصمہ ۔ اس آیت سے من چاہا روزہ کی اجازت ختم ہوگئی اور بغیر شرعی عذر کے روزہ رکھنا ضروری ہوگیا ۔ یہ دوسری تبدیلی تھی اور تیسری تبدیلی یہ ہوئی کہ ابتدا میں کھانا پینا اور عورتوں کے پاس آنا سونے سے پہلے پہلے جائز تھا، لیکن سونے کے بعد جائز نہیں تھا۔ حضرت صرمہؓ دن بھر کام کرکے تھکے ہارے گھر آئے اور عشا کی نماز ادا کی اور نیند آگئی، کچھ کھانے پینے کا موقع نہیں ملا۔ دوسرے دن بغیر کھائے پیے روزہ رکھا تو حالت بہت زیادہ خراب ہوگئی۔ ایک دوسرا واقعہ یہ ہوا کہ حضرت عمرؓ نے سونے کے بعد اپنی بیوی سے ہمبستری کرلی اور پھر حضور ﷺ کے پاس حسرت و افسوس کے ساتھ اپنے قصور کا اظہار کیا۔ ان حالات کے پیش نظر یہ آیت اتری کہ احل لکم لیلۃ الصیام الرفث الیٰ نسائکم ۔ اس آیت میں افطار کے وقت سے سحری ختم ہونے تک کھانے پینے اور جماع کی اجازت دی گئی ۔ اس طرح روزہ میں تین تبدیلیاں ہوئی ہیں۔
محترم بزرگو!
یہ روزہ ہمارے لیے ابتدائی حکم کے مقابلے میں کئی سہولتوں کے ساتھ فرض کیا گیا ہے ۔ یہ روزہ سہولت سے لبریز ہے ۔ تصور کیجیے کہ اگر دوسری تبدیلی نہیں ہوئی ہوتی، تو روزہ کتنا پرمشقت ہوتا۔ اب جب کہ ان تین تبدیلیوں کے بعد روزہ آسان کردیا گیا ہے، اس لیے کوشش یہ ہونی چاہیے کہ ہم پورا روزہ رکھیں اور ہمارا ایک روزہ بھی چھوٹنے نہ پائے ، کیوں کہ رمضان کے ایک دن کے چھٹے ہوئے روزہ کی قضا میں پوری زندگی بھی روزہ رکھا جائے تو بھی رمضان کی خصوصیات و کیفیات اس میں پیدا نہیں ہوں گی۔ اللہ پاک پروردگار ہمیں رمضان کے پورے روزہ رکھنے کی توفیق بخشے ، آمین۔

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here