راہل کی تقریرکا پس منظر۔۔۔

0
1020
file photo
All kind of website designing

 

کانگریس ہی نہیں،ملک کے میڈیاکو بھی مارچکا ہے لقوہ
ڈاکٹراسلم جاوید
کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی گزشتہ 11ستمبر2017کوکیلی فورنیا یونیورسٹی میں اپنے خصوصی خطاب میں ملک کے اندر جاری افراتفری ،نفرت اور ہجومی دہشت گردی کے علاوہ مہنگائی جیسے سلگتے ہوئے ایشوز پرمودی حکومت کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت حکومت ہند کی عوام مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ساراہندوستان نت نئے مسائل سے دوچار ہے اور المیہ یہ ہے اس کے خلاف آواز اٹھانے والوں کی زبان پر لگام ڈالنے کیلئے غنڈہ گردی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے۔ انہوں نے ملک میں رونما ہونے والے تشدد کا نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ آج ہندوستان میں نفرت اور تشدد کی سیاست چل رہی ہے۔ راہل نے کہا کہ ملک کا ماحول حددرجہ خراب کیا جارہاہے۔ صحافیوں کے ساتھ مارپیٹ ہی نہیں کی جا رہی ہے،بلکہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اب ملک میں ان کی جانیں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ بیف کے نام پر ملک کی مختلف ریاستوں میں مسلمانوں اور دلتو ں پر ظلم کیا جا رہا ہے اورحکومت مجرمانہ خاموشی اختیار کئے ہوئی ہے،اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ ہجومی دہشت گردی ،قتل و غارت گری اور نفرت کا زہر پھیلانے والوں کو حکومت کی سرپرستی حاصل ہے۔ راہل نے گا ندھی نے کہا کہ وہ حالیہ قتل و قتال اور خونریزی کا درد اچھی طرح محسوس کرتے ہیں، کیونکہ اسی تشدد کے نتیجے میں وہ اپنی دادی اوروالد کو کھو چکے ہیں۔ انہوں نے پوری متانت کے ساتھ یہ بات کہی کہ عدم تشدد ہی ایک ایسی راہ ہے جو تمام اہل وطن کو ایک ساتھ ہندوستان میں رہنے کی اجازت دیتااورسلامتی فراہم کرتا ہے۔جسے فرقہ پرست پالیسی نے اب ڈسنا اور ملک سے ہمیشہ کیلئے فنا کرنا شروع کردیا ہے۔اپنی شکست کی وجہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 2014میں ہار کی اہم وجہ یہ تھی کہ یوپی اے کے اندر خاص طور پر کانگریس میں حد سے زیادہ خوداعتمادی آ گئی تھی اور احساس برتری کی وجہ سے پارٹی کے سینئر لیڈروں کا عوام سے رابطہ برقرار نہیں رہ سکا تھا۔ پارٹی کا عوام کے ساتھ کمیونی کیشن ختم ہوچکا تھا، لہذا کا نگریس2014 کے عام انتخابات میں عوامی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں رہ سکی۔برکلے کی یو نیورسٹی آف کیلی فورنیا میں خطاب کرتے ہو ئے راہل گاندھی نے موجودہ حکومت کی خار جہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان اپنے چاروں سمت موجود پڑوسیوں سے کٹتا جارہا ہے،اس کے بر عکس ہمارا دیرینہ حریف چین پاکستان،نیپال ،برما ،مالدیپ،بنگلہ دیش اورسری لنکا تک میں اپنی موجودگی بنایے ہوا ہے ،جبکہ ہم ان سبھی پڑوسیوں کو نظر انداز کرکے امریکہ اور اسرائیل کے سا تھ جگل بندی میں مصروف ہیں ۔ آ نے والے وقت میں اس کے کیا نتائج ہوں گے اس کے تصور سے ہی روح کانپ جاتی ہے ، اس قسم کی پا لیسی ملک کیلئے اچھے اور سازگار مستقبل کی ضمانت نہیں ہوسکتی۔
راہل گاندھی نے اس کے علاوہ کنبہ پروری کی سیاست پر بھی صفائی پیش کی اور کہا کہ یہ الزام صرف مجھ پر ہی رکھنامناسب نہیں ہے،بلکہ ہندوستان میں کنبہ پروری کی سیاست ایک عام بات ہے۔راہل گاندھی کا یہ دعویٰ غلط بھی نہیں ہے۔آپ ملایم سنگھ یادو،لاپرشاد یادو،ہماچل کے پریم کمار دھومل،جھار کھنڈ میں سیبوسورین کے کنبہ اور پنجاب میں بادل خا ندان سے ناواقف نہیں ہوں گے۔المیہ یہ ہے کہ بی جے پی کنبہ پروری کی سیاست کیخلاف آسمان سر پر اٹھالیتی ہے ،مگرجب اقتدار حاصل کرنے کی بات آتی ہے تونہایت ڈھٹائی کے ساتھ بادل خا ندان ہو یا مفتی خاندان ان سبھی کے ساتھ مل کر اقتدار حاصل کرنے میں کسی قسم کی ہچکچاہٹ یا عوام کے سامنے شرمندہ ہونے کی ذرہ برابر پرواہ نہیں کرتی ۔ کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج الزام لگایا کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی قیادت والی مرکزی حکومت نے وادی کشمیر میں امن کا ماحول خراب کردیا ہے، جسے بحال کرنے کیلئے سابقہ کانگریس حکومت نے بہت سے مثبت اقدامات کئے تھے۔مسٹر گاندھی نے بی جے پی کی جانب سے انہیں بار بار کنفیوز سیاسی لیڈر کے طور پر پیش کرنے کے ہتھکنڈے کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ وہ کا نگر یس کو دوبارہ منظم کرنے کے لئے کوشاں ہیں اور کوشش کررہے ہیں کہ نوجوان طبقہ اور سنیئر لیڈران ایک ساتھ مل کر کام کریں۔امریکہ کی اس نامی گرامی یونیورسٹی میں طلباء اور دانشوروں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے جموں کشمیر میں بحالی امن کیلئے نو برسوں تک خاموشی سے کام کیا۔ یو پی اے حکومت کے دوراقتدار میں دہشت گردی کی کمر توڑ دی گئی، لیکن بی جے پی سرکار نے 30 دنوں میں ہی کشمیر میں امن کا ماحول پاش پاش کرکے رکھ دیا۔
موجودہ حکومت کے سلسلے میں راہل گاندھی نے کیلیفورنیا میں دانشوروں کے سامنے جو باتیں کہی ہیں ،جو اشکالات کئے ہیں ،وہ کوئی نئی اور اعجوبہ باتیں نہیں ہیں۔بلکہ ہندوستان میں اقلیتوں کے ساتھ تشدد،انٹالرنس،صحافیوں کے قتل اور حکومت ہند کے ناعاقبت اندیشانہ نوٹ بندی کے نتیجے میں ہونے والی دوسو زائد موات اور اس کے بعدا ژدہے کی مانندعام آدمی کونگلتی جارہی بے لگام مہنگائی ،جی ایس ٹی کی وجہ سے چھوٹے اور منجھولئے کاروبا ریوں کی درگت کی ساری خبریں ساری دنیا تک پہنچ چکی ہیں۔انٹالرنس پر توخود امریکہ کے سابق صدر باراک اوبامہ نے ہندوستان کو واضح لفظوں میں نصیحت بھی دی تھی۔
ملک کوامید تھی کہ راہل گاندھی نے دانشوروں کے سامنے جو باتیں رکھی ہیں، اس پر بی جے پی سنجیدگی سے غور کرے گی اور عوام کی بے قراریوں،بے تابیوں اور بے چینیوں کو سمجھنے اور دوررنے کی فکر کرے گی ۔مگرزعفرانی خیمہ کے لیڈروں نے با لکل اس کے خلاف اپنے رد عمل کا اظہار کیا۔ملک کے مختلف ٹیلی ویژن چینلوں پربی جے پی کے لگ بھگ 26لیڈران پہنچ گئے اور وہی طنز ،تنقید اور اپنی پشت تھپتھپانے میں سرگرم ہوگئے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ موجودہ حکومت نے ان تمام عوامی مسائل سے منہ موڑکر اپنی ساری توجہ تین طلاق،گؤ رکشا،مذ ہبی منافرت اور تقسیم کی پالیسی پر مر کوز کردی ہے ۔تازہ تازہ پیٹرولیم مصنوعات کی آسمان چھوتی قیمت حکومت کی عوام دوستی کے دعوے کی قلعی کھول رہا ہے ۔ مگر بی جے پی اس کا مناسب حل نکالنے کی بجائے بے ہودہ اور بے بنیاد تاویلیں پیش کرنے میں اپنی ساری قوت لگا ئے ہو ئی ہے۔
ایک بڑے اور معتبر صحافی نے دوروز پہلے ہی میڈیا کی شرمناک کارکردگی پر افسوس جتاتے ہوئے کہا ہے کہ ملک بھر میں بیشتر میڈیا اہلکاروں نے تمام قسم کے عوامی مسائل سے انحراف کرکے صرف نفرت کی سیاست کرنے والوں کو پروموڈ کرنے اور تین طلاق،گؤ رکشا جیسی فالتو بحث کو ہی ملک کے مفاد اور ترقی کیلئے سب سے ضروری تصور کرلیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عوام کے اصل ایشوز اور ان کے درد کو دنیاکی نگاہوں میں لانے والا کوئی بھی مرد مجاہد صحا فی یا صحافتی ادارہ اس وقت نظر نہیں آ رہا ہے۔راہل گا ندھی کے خطاب کے بعد کچھ میڈیا اہلکاروں نے کانگریس کی تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ راہل گاندھی بیرون ملک جاکر بولے ،مگر اندرون ملک پوری کانگریس پارٹی کو لقوہ مار چکا ہے۔یہاں عوام کی بیتا بیوں پر ان کی زبان نہیں کھلتی ۔حالانکہ حقیقت یہ نہیں ہے۔
سچ یہ ہے کہ کانگریس پارٹی حکومت کی عوام مخالف پالیسیوں پر مستقل بولتی رہی ہے،البتہ ضمیر اور ظرف بیچ چکے میڈیا اہلکاروں اور میڈیا ہاؤ سیز کو چونکہ بی جے پی کی ترجمانی کرنی ہے ،لہذا ملک کا بیشتر میڈیا صحافت کے اصول اور تقاضوں کو بالائے طاق رکھ کر بی جے پی اورسنگھ کا دفاع کرنے میں ہی ساری طاقت جھونک رہا ہے۔کل ہی ڈی پی سی سی کے صدر اجے ماکن نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے قیمتوں میں اضافہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہاہے کہ پارٹی اس کیخلاف ملک گیر مظاہرے کرے گی۔ اجے ماکن نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں خصوصی پریس کانفرنس میں الزام لگایا کہ عالمی مارکٹ میں خام تیل کی قیمتیں 52فیصد تک کم ہوچکی ہیں، لیکن بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت ملک کے عوام کو اس کافائدہ دینے کے بجائے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ کررہی ہے اور عام لوگوں پر کمر توڑ مہنگائی کا بوجھ ڈال رہی ہے۔انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے گزشتہ تین برسوں میں ڈیزل اور پٹرول پر گیارہ مرتبہ سینٹرل ایکسائز ڈیوٹی بڑھائی ہے اور اس سے پٹرول کی قیمت 133.47 فیصد اور ڈیزل 400.86 فی صد تک بڑھ چکی ہے۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ کانگریس پارٹی نے پیٹرول کی قیمت میں حکومت کے منمانے اضافے کے فیصلے پر احتجاج کا اعلان کیا۔ مگر کسی بھی میڈیا نے اس کو ملک گیر سطح پر عوام تک پہنچانے کی زحمت نہیں کی ،اس کے بر عکس اس عوام دشمنی پر مجرمانہ طریقے سے خاموشی اختیار کرکے یہی میڈیا حکومت اور بی جے پی کو طاقت فراہم کررہا ہے۔ساراملک میڈیا کا یہی چہرہ 2013سے ہی دیکھ رہا ہے۔اس وقت زیادہ ترمیڈیا کی بھیڑ صرف وزیر اعظم اور بی جے پی کے اردگرد دم ہلاتی دکھائی پڑتی ہے۔یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہونا چا ہئے کہ اگر راہل گاندھی نے حکومت کی عوام دشمنی اور اس کی لچڑخارجہ پالیسی کیخلاف یہی بات ملک کے اندرکہی ہوتی تو شاید اس قدر واویلا نہیں مچتا اور ملک کا بکا ہوا میڈیا راہل گاندھی کے اس خطاب پر بھی مٹی ڈال کر ساری دنیا کو الو بنادیتا۔مگر خوش قسمتی سے راہل گاندھی نے ملک کی صحیح صورت حال امریکہ جیسے سپر پاور ملک کی ایک باوقار یونیورسٹی کے اندر چنندہ دانشوروں اور عالمی امور کے ماہرین کے سامنے کہی، جسے بین الاقوامی میڈیا نے بھرپور کوریج بھی دیا ،اس کے نتیجے میں بی جے پی بوکھلا گئی اور پارٹی کے 26ترجمان اپنے خریدے ہوئے چینلوں پر راہل گاندھی کی تنقید کرنے پہنچ گئے اور راہل گاندھی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے غیر ملک کے اسٹیج پر ہندوستان کی برائی کرکے ملک کی توہین کی ہے۔یہ الزام لگاتے ہوئے بی جے پی یہ بات بھول گئی کہ اس غلط روایت کی بنیاد خود اس کے وزیر اعظم نے ہی رکھی تھی اور غیر ملکوں میں جاکر انتہا ئی ڈھٹائی کے ساتھ سارے ملک کوفقیر اور بھکاری قرار دیدیاتھا۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ ملک کو اس وقت مضبوط اپوزیشن کے علاوہ صحتمند میڈیا کی ضرورت ہے ،مگر یہاں تو ایک دو کو چھوڑ کر سارا میڈیا ہی اپنا سب کچھ سنگھ کے چرنوں میں نچھاور کرچکاہے۔یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن کی آواز ہاؤس کے اندر اور باہر بھی صدا بہ صحراثابت ہوتی اور خاموشی کے ساتھ عام آدمی و بے موت مرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
09891759909

نیا سویرا لائیو کی تمام خبریں WhatsApp پر پڑھنے کے لئے نیا سویرا لائیو گروپ میں شامل ہوں

تبصرہ کریں

Please enter your comment!
Please enter your name here